حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 1 از 17

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

 تاریخِ اسلام کا ہر صفحہ شیعہ کے دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے:

راقم الحروف نے سوچا کہ کیوں نہ تاریخِ اسلام کا اس حوالہ سے مطالعہ کیا جائے کہ آیا شیعہ دہشت گردی سپاہِ صحابہؓ کے وجود میں آنے کے بعد شروع ہوئی ہے یا پہلے سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں جب تاریخ کے اوراق پلٹنے شروع کئے تو تاریخِ اسلام کا ہر صفحہ شیعہ دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت نظر آیا ۔

تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور میں جب ابھی سپاہِ صحابہؓ نامی کسی تنظیم کا کوئی وجود نہیں تھا مگر سبائی ٹولہ نے نہ صرف ایک عام مسلمان بلکہ خلیفہ وقت سیدنا عثمان غنیؓ کو شہید کردیاتھا۔

سیدنا عثمان غنیؓ سے لے کر حضرت مولانا مفتی عبد المجید دینپوری شہیدؒ سے تک اہلِ سنّت کی شہادتوں کی طویل داستان تھی جس میں ہر جگہ شیعہ کا ہاتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ کارفرما نظر آیا ۔ جو لوگ سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت میں ملوث تھے وہی پھر قافلہ اہلِ بیت کے سرخیل سیدنا حسین بن علیؓ کو کوفہ بلانے اور ان کو شہید کرنے میں نمایاں نظر آئے ۔ 

تاریخِ اسلام کے اوراق پلٹتا جارہا تھا اور میری حیرانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ یہی سازشی ٹولہ حسن بن صبا کی قیادت میں کہیں تو مسلمان جرنیلوں کو راستے سے ہٹانے کیلئے سرگرم عمل رہا اور کہیں عیسائیوں کے ساتھ مل کر بغاوتیں برپا کرنے میں مصروفِ کار رہیں۔ جب فاطمیوں کی شکل میں اس گروہ کو حکومت واقتدار مل گیا تو اہلِ سنت پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، اور جب حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھے تو یہود و ہنود سے مل کر امتِ مسلمہ کے خلاف سازشوں کے جال بننے میں مصروف ہو گئے۔ان کے انہی کرتوتوں کی وجہ سے امام ابنِ تیمیہؒ کو یہ کہنا پڑا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں میں فتنہ و فساد شروع ہو جائے تو اس میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ضرور شیعوں کا ہاتھ ہوگا، اور دنیا میں شیعوں کی سیاہ تاریخ رقم ہے۔

 شیعوں نے ہر دور میں مسلمانوں کے ساتھ غداری کی اورکفار کا ساتھ دیا:

علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہے کہ شیعہ ہمیشہ یہود و نصاریٰ، تاتاری اور مشرکین کے ساتھ رہے ہیں،تاتاری کفار کے اسلامی ملکوں میں راہ پانے میں سب سے زیادہ شیعہ کا دخل ہے، شام میں عیسائیوں کی انہوں نے پوری پوری مدد کی یہاں تک کے مسلمانوں کے بچوں کو ان کے ہاتھوں غلامی کی طرح فروخت کر دیا تھا، عیسائیوں کے بیت المقدس پر قبضہ میں بھی ان کا بڑا حصہ تھا،ان کے عقائدِ کفریہ کی بناء پر کافروں اور منافقوں کے زمرہ میں ان کی شمولیت لازم ہے، اور جو شخص بھی ان حالات کا مشاہدہ اور ان کے عقائد کا مطالعہ کر چکا ہے وہ انہیں مسلمانوں سے بالکل الگ سمجھتا ہے۔ ان کی تمام تر کوشش یہی رہی ہیں کہ اسلام کو منہدم کر کے اس کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جائے،اور اسلام کے ساتھ ان کے معاملہ کی تاریخ بالکل سیاہ ہے۔

(منہاج السنة: جلد 4 صفحہ110)

 شیعیت کی ظلم و بربریت اور درندگی کی شرمناک داستانیں آج بھی تاریخ کا ایک تاریک باب ہیں

ماہِ محرم میں ایک حیاء باختہ و فتنہ پرور گروہ نے ایک مرتبہ پھر سنیوں کے خلاف اپنے سینوں میں رکھے بغض و کینہ کے آتش بگولے سرِ عام آشکارہ کیئے جھوٹ و فریب اور دجل کے دبیز پردے میں تعصب و عناد کی گرد سے اٹا چہرہ رُخِ بے نقاب کی طرح عیاں ہو گیا، بالآخر رافضیوں نے ایک بار پھر اپنے مکروہ وشرمناک فعل سے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ سنیوں کی نفرت و عداوت ان کے رگ وپے میں بس گھول رہی ہے اور خبر دار کر دیا کہ سیدنا حسین بن علیؓ سے بے وفائی کرنے والے کسی سنی مسلمان کے وفادارو خیرخواہ نہیں، ان پر اعتماد و بھروسہ کرنے والے الم نصیب ہمیشہ زوال کے تیرہ بخت موسموں میں گر جاتےہیں، اور اس بے ننگ و نام نہاد سیاست میں اپنوں کی دل شکنی کر کے یہود کی ذریت کو اپنا ہمدم بنانے والے ارباب فکر و نظر بے ہنری و بے تدبیری کی راہ کے شکار ہیں ۔

مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار کی بے حرمتی اور طلبہ پر اندھا دھند فائرنگ کے بعد طالب علموں کی بہیمانہ شہادت،قرآن مجیدوں کو جلانا،ایسے واقعات ہیں جو رافضیوں کےمکروہ و متعفن ذہن کی بھر پور عکاس ہیں۔ یہ کوئی پہلا اور آخری واقعہ نہیں جسے بھول ونسیاں کی پوٹلی میں رکھ کر مٹی پاؤ کے تاریک گھڑھے میں دفن کر دیا جائے ۔

 شیعیت نے ہر دور میں مسلمانوں اور شعائرِ اسلام کو اپنی سنگباری کا ہدف بنایا ہے۔ پیغمبرِ انقلابﷺکے جانثاروں اور وفاداروں کا نام سن کر انگاروں پر لوٹنے والی یہ قوم ہر دور میں اپنی تمام تر فتنہ سامانیوں کے ساتھ مسلمانوں کی ترقی و عروج کی راہ میں رکاوٹ بنی ہے،ان کی ظلم و بربریت اور درندگی کی شرمناک داستانیں آج بھی تاریخ کا ایک تاریک باب ہیں جسے دیکھ کر چڑھتے سورج کی طرح اس امر کا یقین ہو جاتا ہے کہ یہ گستاخ فرقه کسی دین ومذہب کا نام نہیں،یہ یہود کا وہ خود کاشتہ زہر یلا پودا ہے جس کا بیج فقط اسلام کونقصان پہنچانے کے لئے بویا گیا ہے۔

صفحہ 1 از 17