حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 10 از 17

شیعوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اہلِ ایمان صرف وہی ہیں،ان کے علاوہ باقی تمام مسلمان کافر اور مرتد ہیں،ان کا دینِ اسلام کے ساتھ کوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ شیعہ اپنے علاوہ دوسرے مسلمانوں کو اس وجہ سے کافر کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے ولایت سے انکار کیا ہے،جس کے متعلق شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ ارکانِ اسلام میں داخل ہے، لہٰذا جو شخص شیعوں کی طرح ولایت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ کافر ہے۔ بالکل اُس شخص کی طرح کا کافر ہے جو شہادتین کا انکار کرتا ہے یا نماز ترک کر دیتا ہے، بلکہ ان کے نزدیک ولایت کا درجہ ارکانِ اسلام سے فائق تر اور بلند ہے۔

ولایت سے یہ لوگ سیدنا علی کی اولاد اوران کے بعد آنے والے ائمہ کی امامت و ولایت مراد لیتے ہیں۔ چونکہ شیعوں کے علاوہ باقی اسلامی گروہ اس فاسد عقیدہ کی مخالفت کرتے ہیں لہٰذا اسی بنا پر ہر شیعہ ان تمام اسلامی فرقوں پر کفر کا حکم عائد کرتے ہیں۔اور انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔نہ صرف یہی بلکہ یہ لوگ اپنے تمام مخالفین کی جانوں اور ان کے اموال کو بھی اپنے لیے مباح سمجھتے ہیں۔

شیعوں کے مخالفین میں سرِفہرست اہلِ سنّت و الجماعت کا گروہ ہے، جنہیں شیعہ کبھی ناصبی، کبھی عالمی، کبھی سواد اور کبھی وہابیہ کا نام دیتے ہیں۔ شیعوں کی اہم ترین اور انتہائی معتمد کتابوں کے اندرایسی روایات کثرت سے وارد ہوئی ہیں جن میں ان کا اپنے علاوہ دیگر مسلمان فرقوں کی تکفیر کا عقیدہ پوری صراحت کے ساتھ موجود ہے۔برقی نے سیدنا جعفرؒ سے درج ذیل روایت نقل کی ہے:انہ قال ما احد علی ملة ابراهيم الانحن وشيعتنا وسائر الناس منها براء

(كتاب المحاسن:صفحہ 148)

 ترجمه:ابو عبداللہ نے فرمایا:ہمارے اور ہمارے شیعوں کے علاوہ کوئی بھی ملت ابراہیمی پر قائم نہیں ہے، باقی تمام لوگ اس سے لاتعلق ہیں۔

اسی طرح کلینی نے الکافی الروضہ میں یہ روایت درج کی ہے:

عن على بن الحسين انه قال ليس على فطرة الاسلام

غيرنا و غير شيعتنا وسائر الناس من ذلك براء

(الكافي الروضه جلد8صفحہ145)

ترجمه:علی بن الحسین کہتے ہیں کہ ہم اہلِ بیت اور ہمارے شیعوں کے علاوہ کوئی بھی فطرتِ اسلام پر نہیں ہے،باقی تمام لوگ اس سے محروم ہیں۔

جی ہاں ! شیعہ صرف اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، اپنے علاوہ باقی تمام اسلامی فرقوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔اس سلسلے میں یہ لوگ اہلِ بیت کی طرف جھوٹی روایات اورمن گھڑت اقوال منسوب کرتے ہیں جن سے یہ عالی قدر رلوگ قطعی طور پر بری الذمہ ہیں۔

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ شیعوں کے نزدیک مسلمانوں کا ذبیحہ مردار ہے:

شیعہ جب اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کی تکفیر کا عقیدہ رکھتے ہیں تو اُن کے ساتھ سلوک اور برتاؤ بھی کفار اور مشرکین والا ہی کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ اپنے ماسوا مسلمانوں کا ذبیحہ نہیں کھاتے،اس عقیدہ کی بناء پر یہ مسلمانوں کو مشرکوں کاحکم دیتے ہیں۔ 

تفسیر عیاشی میں ہے:عن حمران قال سمعت ابا عبدالله عليه السلام يقول في ذبيحة الناصب واليهودي قال:لا تاكل ذبيحته حتى تسمعه يذكر اسم الله: (تفسیر عیاشی جلد1صفحہ375)

ترجمه: حمران کا بیان ہے کہ میں نے ابو عبداللہ کو ناصبی اور یہودی کے ذبیحے کے متعلق یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس کا ذبیحہ مت کھاؤ یہاں تک کہ تم اسے اپنے ذبیح پر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے نہ سن لو۔

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ شیعوں کے نزدیک مسلمانوں کے ساتھ نکاح حرام ہے۔

اسی طرح شیعہ اہلِ سنّت کے ساتھ نکاح وزواج کو بھی نا جائز سمجھتے ہیں۔

کلینی نے الکافی میں یہ روایت درج کی ہے:عن الفضيل بن يسار قال:سالمت ابا عبدالله عليه السلام عن نكاح الناصب قال لاوالله ما يحل۔

( كتاب الكافی جلد 5صفحہ350)

 ترجمه:فضیل بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ سے ناصبی( یعنی سنی) سے نکاح کے متعلق سوال کیا تو آپ نے کہاہرگز نہیںاللہ تعالیٰ کی قسم !یہ حلال نہیں ہے۔

طوسی کی الاستبصارمیں یہ روایت منقول ہوئی ہے: عن فضیل بن يسار عن ابی جعفر قال ذكرالناصب فقال لا تناكحهم ولا تاكل ذبيحتهم ولا تسكن معهم (الاستبصار للطوسی جلد3صفحہ 184)

ترجمه:فضیل بن یسار کا بیان ہے کہ ابو جعفر کے سامنے ناصبیوں (یعنی سنیوں) کا تذکرہ ہوا تو آپ نے کہاان کے ساتھ نکاح نہ کرو، نہ ان کا ذبیحہ کھاؤ اور نہ ان کے ساتھ بودو باش اختیار کرو۔

یہی نہیں بلکہ خمینی نے بھی اپنی کتاب تحریر الوسیلہ میں اہلِ سنّت کے ساتھ شیعوں کے نکاح کو حرام قرار دیا ہے:

 ولا يجوز للمومنة ان تنكح الناصب المعملين بمعداوة اهل البيت عليه السلام وكذا لا يجوز للمومن ان يمتدح الناصبية وكذا لايجوز للمؤمن أن ينكح الناصبية والغالية لانهما بحكم الكفار وان انتخلادين الاسلام۔

(تحريالوسيله جلد2صفحہ260)

ترجمه:مومنہ(یعنی شیعی عورت ) کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ ناصبی(یعنی سنی )سے نکاح کرے کہ وہ اہلِ بیت سے کھلی عداوت رکھتا ہے۔ اور اسی طرح مؤمن (شیعی مرد)کیلئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ناصبیہ (یعنی سنی عورت) سے نکاح کرے ۔ اور اسی طرح

مومن (یعنی شیعی مرد) کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ ناصبی اور غالیوں کی عورتوں سے نکاح کرے اس لئے کہ یہ دونوں فرقے کفار میں شمار ہوتے ہیں،اگرچہ یہ دونوں اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ شیعوں کے نزدیک اہلِ سنّت کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں:

شیعہ، اہلِ سنت کی اقتداء میں نماز کو ناجائز کہتے ہیں اور اس طرح پڑھی گئی نماز کو باطل قرار دیتے ہیں، ماسوا اُس صورت کے کہ یہ نماز رواداری یا تقیہ کے طور پر پڑھی گئی ہو۔

اس سلسلے میں شیعوں کی کتاب: المحاسن میں یہ روایت وارد ہوئی ہے:عن الفضيل بن يسار قال: سالت ابا جعفر عن مناكحة الناصب والصلاة خلفه فقال: لا تناكحه ولا تصلى خلفه(كتاب المحاسن:صفحہ161)

ترجمه:فضیل بن یسار کا بیان ہے کہ میں نے ابوجعفر سے ناصبیوں(یعنی سنیوں) کے ساتھ نکاح کرنے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق ابوجعفر سے دریافت کیا تو آپ نے کہا: اس کے ساتھ نکاح نہ کرو۔

ممتاز شیعی عالم نعمت اللہ الجزائری نے بھی اپنی کتاب: الانوار النعمانیہ کےجلد نمبر 2 صفحہ نمبر 306 میں اس موقف کی تصدیق و تائید کی ہے، چنانچہ اس نے لکھا ہے:

صفحہ 10 از 17