حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 11 از 17

ناصبی (یعنی سنی) کے احوال و احکامات دو اُمور کی وضاحت کے محتاج ہیں۔اولاً:اخبار و روایات میں مذکور ناصبی کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ وہ نجس ہے اور وہ یہودی نصرانی اور مجوسی سے بھی زیادہ بُرا ہے۔اور یہ علمائے امامیہ کے نزدیک متفقہ طور پر کافر نجس ہے۔

(اثناء عشریہ عقائد و نظریات کا جائزہ اور گھناؤنی سازشیں:صفحہ 136)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ شیعوں کے نزدیک سنیوں کو قتل کرنا اور ان کے مال و متاع کو چھین لینا اور قبضہ کر لینا جائز ہے:

شیعوں کے نزدیک مسلمانوں،خاص طور پر اہلِ سنّت کے مال و جان مباح ہیں،ان کی معتمد کتابوں کے اندر ایسی روایات موجود ہیں جن میں اہلِ سنّت کو قتل کرنے اور ان کے مال ومتاع کو چھین لینے کی کھلی تلقین اور ترغیب دی گئی ہے۔ ان کے امام مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار میں اپنی سند کے ساتھ ابنِ فرقد کی یہ روایت نقل کی ہے:

ابن فرقد کا بیان ہے کہتا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ کسے ناصبی کے قتل کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ناصبی کا خون حلال ہے مگر سخت احتیاط کی ضرورت ہے لہٰذا اگر ہوسکے تو ایسے انداز سے اُس پر دیوار گرادے یا اسے پانی میں ڈبو دے کہ تیرے اس فعل پر اس کی نگاہ نہ پڑے کہیں وہ تیرے خلاف گواہی نہ دے ڈالے، اب ممکن ہو سکے تو اسےضرور قتل کر دے۔

یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ شیعہ،اہلِ سنّت کی جانوں اور ان کے مال و اسباب کو بالکل اپنے یہودی آقاؤں کی طرح اپنے لئے مباح قرار دیتے ہیں ، دورِ حاضر کے شیعوں کا بھی یہ عقیدہ ہے جیسا کہ عصرِ حاضر کے شیعی امام،آیت اللہ خمینی نے اپنی کتاب تحرير الوسیلہ میں خمس کے بیان کے تحت لکھا ہے: 

راجح بات یہ ہے کہ ناصبی ( یعنی سنی ) کو مال غنیمت اور اس سے خمس کے مسئلہ میں اہلِ حرب کافروں کے ساتھ شامل کیا جائے گا، بلکہ ناصبی کے مال کو جہاں بھی ملے اور جس بھی طریقہ سے ممکن ہو سکے چھین لیا جائے اور اس سے خمس نکالا جائے۔ مذکورہ بالا قول میں خمینی نے اپنے پیروکاروں کو اہلِ سنّت کے مال و متاع کو جہاں بھی ملے اور جیسے بھی ممکن ہو سکے چھین لینے کی اباحت کا فتویٰ دیا ہے، 

اہلِ سنّت کے متعلق خمینی ملعون کے اس کھلے اور واضح موقف پر اس کے معاصر علماء میں سے کسی نے بھی رد نہیں کیا۔اس سے صاف معلوم ہو جاتا ہےکہ اس مؤقف پر خمینی کے تمام معاصر شیعی علماء کا اتفاق ہے۔ (اثناءعشریہ عقائد و نظریات کا جائزہ اور گھناؤنی سازشیں صفحہ 140)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی اُخروی زندگی کے متعلق شیعوں کا مؤقف:

اہلِ سنت کی اُخروی زندگی کے متعلق شیعوں کا مؤقف یہ ہے کہ ان کے عقیدہ کے مطابق اہلِ سنّت اور دیگر تمام مخالفین ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم میں رہیں گے، چاہے وہ کتنے ہی اطاعت گزار، متقی اور پرہیز گار ہی کیوں نہ ہوں،ان کی عبادتیں اور اُخروی محنتیں انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قیامت کے دن نجات نہ دلا سکیں گی۔ 

صدوق نے ثواب الاعمال و عقاب الاعمال میں صادق کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:ہمارا یعنی اہلِ بیت کا دشمن روزہ دار ہو یا نمازی، زانی ہو یا چور فکر نہ کرے وہ جہنمی ہے۔

اسی طرح ابان بن تغلب کی ایک روایت اس کتاب میں مذکور ہے کہ:ایان بن تغلب کہتے ہے کہ ابوعبد اللہ نے کہا ہر ناصبی(یعنی سنی) چاہے وہ کتنی عبادت و ریاضت کر لے اس کا انجام اس آیت کے مطابق ہوگا عاملة ناصبة، تصلىٰ ناراً حامية مصیبت جھیلتے ہوں گے،خستہ ہوں گے،جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

کتاب المحاسن کے صفہ نمبر 184 میں علی الخدمی کی یہ روایت مذکور ہے:على الخدمی کا بیان ہے کہ

 ابوعبد اللہ نے کہا پڑوسی اپنے پڑوسی کے حق میں اور مخلص دوست اپنے گہرے دوست کے حق میں سفارش کریں گے(ان کی سفارش کو قبول بھی کرلیا جائے گا مگر ناصبی( یعنی سنی )کےحق میں سفارش کو قبول نہیں کیا جائے گا، چاہے مقرب فرشتے اور انبیاء و مرسلین ( علیہم السلام ) بھی ان کے لئے سفارش پیش کرنے والے ہوں۔

(اثناء عشریہ عقائد و نظریات کا جائزہ اور گھناؤنی سازشیں:صفحہ141 )

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کےدشمنوں سے اعلان بیزاری کرنا ضروری ہے:

سالم بن ابی حفصہ جو کہ شیعہ ہے یہ کہتا ہے کہ میں نے ابوجعفر اور اس کے بیٹے سے سنا، ان کا پورا نام ہے جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ثابت ہے۔یہ اہلِ بیت کے امام فرمارہے ہیں اور سالم نے سوال کیا ہے کہ سید ناصدیقِ اکبرؓ اور سید نا فاروقِ اعظمؓ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟انہوں نے فرمایا: اے سالم!ان دونوں سے دوستی رکھو، اور جو ان دونوں کا دشمن ہے، اس سے بیزاری کرو یہ دونوں حضرات راہِ ہدایت کے پیشواء تھے۔اور کہااے سالم ! کیا کوئی آدمی اپنے دادا کو گالی دے سکتا ہے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ میرے دادا ہیں۔اگر میں ان دونوں سے دوستی نہ رکھتا ہوں تو مجھے حضوراکرمﷺکی سفارش ہی حاصل نہ ہو۔میں ان کے دشمنوں سے اعلان بیزاری کرتا ہوں اور جو ان دونوں سے بیزار ہے اللہ تعالیٰ اس سے بیزار ہے۔ (اثناء عشریه عقائد ونظریات کا جائزہ اور گھناؤنی سازشیں صفحہ210)

  • 36):حضرت مولانا مہر محمدصاحبؒ فرماتے ہیں کہ شیعہ کے نزدیک تمام مسلمان کافر اور واجب القتل ہیں:

شیعہ مصنف اپنی کتاب حق الیقین کے صفحہ نمبر 519 لکھتے ہیں:امامیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ جو کوئی ایک امام کا بھی انکار کرے، اور کسی ایک چیز کاانکار کرے جس میں خدا تعالیٰ نے ان کی اطاعت فرض کی ہے، پس وہ کافر اور گمراہ ہے، ہمیشہ جہنم کا حق دار ہے۔

دوسری جگہ لکھتے ہیں: تمام شیعوں کا اس پر اتفاق ہے کہ تمام بدعتی( اہلِ سنّت کو شیعہ بدعتی مانتے ہیں) کافر ہیں اور امام پر لازم ہے کہ اقتدار پاکر ان سے توبہ کرائے اور دینِ حق کی طرف بلا کر حجت پوری کرے، اگر وہ اپنے مذہب سے توبہ کرلیں اور راہِ راست (شیعہ مذہب) پر آجائیں تو قبول کرے ورنہ ان کو قتل کر دے، اس لئے کہ وہ مرتد ہیں ایمان سے،اور جو کوئی ان میں سے اسی( غیر شیعہ مذہب پر مر جائے وہ جہنمی ہے۔)

 نوٹ

صفحہ 11 از 17