حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 12 از 17

شیعہ کے امام خمینی نے اقتدار پا کر مسلم کشی کی پالیسی اس لئے اپنا رکھی ہے۔ تہران میں دس لاکھ مسلمانوں کو مسجد تک بنانے کی اجازت اسی لئے نہیں ہے مئی1985ءمیں لبنان میں متعین ایرانی عمل ملیشا نے یہودیوں اور عیسائیوں سے مل کر PLO اور فلسطینی مسلمانوں کا قتلِ عام اسی وجہ سے کیا کہ وہ یہودیوں سے بڑھ کر کافر ہیں۔مارچ 1986ء میں ایرانی عمل ملیشا نے صابرہ اور شیطلہ فلسطینی کیمپوں پر حسبِ سابق توپ خانوں اور ٹینکوں سے دوبارہ حملہ اسی لیے کیا۔ خمینی عراق اور عربوں سے خوفناک جنگ اور مسلمانوں کی تباہی اسی لیے کر رہا ہے۔شام کا بعثی ڈکیٹر حافظ الاسد رافضی 20 ہزار سے زائد دیندار اخوان المسلمون کو اسی جُرم سنیت میں شہید کر چکا ہے۔ایرانی انقلاب کو وہ اسی اسلام کشے کی خاطر پاکستان وغیرہ مسلم ممالک میں برامد کرنا چاہتے ہیں۔

(اسلام اور شریعت کا تقابلی جائزہ صفحہ67) 

ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ:شیعہ کے نزدیک تمام سنی واجب القتل ہیں اور شیعہ تمام سنیوں کو حضرت علی کے دشمن اور زنا کی اولاد مانتے ہیں:

شیعہ مصنف اپنی کتاب حیات المقلوب: کی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 611 پر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمّد ﷺکو تو رحمت کے طور پر بھیجا ہے اور مہدی کو بدلہ لینے اور عذاب دینے کے لیے بھیجے گا یہ انتقام و عذاب صرف اہلِ سنّت پر ہوگا۔

ملا باقر مجلسی ہی اپنی دوسری کتاب حق الیقین کے صفحہ نمبر 527 پر لکھتے ہیں کہ جب ہمارا مہدی غار سے ظاہر ہوگا سب سے پہلے سنیوں کا اور ان کے علماء کا قتل عام کرے گا۔

 چنانچہ خمینی اور اس کے ایجنٹ شام و فلسطین و ایران و اعراق میں سنیوں کا قتل کر رہے ہیں لیکن پاکستان کا غافل ترین بدھو مسلمان یہاں بھی ایرانی انقلاب چاہتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ شیعہ تمام سنیوں کو حضرت علی کے دشمن اور زنا کی اولاد مانتے ہیں ان کی نماز تک کو زنا کہتے ہیں عہد مغلیہ کا چیف جسٹس نوراللہ شوستری اپنی کتاب مجالس المؤمنین کے جلد نمبر 2 صفحہ480 پر سنیوں کو یوں گالی دیتا ہے۔

بغض الولی علامتہ معروفتہ، کتبت علی جبہات اولاد الزنا 

من لم یوال من الانام ولیہ،سیان عنداللہ صلی اووزنا

 ترجمہ:حضرت علی سے بغض کی نشانی مشہور ہے جو حرامیوں کی پیشانی پر لکھی ہوئی ہے جو لوگ حضرت علی کی ولایت(حسبِ عقیدہ شیعہ)کے قائل نہیں خدا کے ہاں برابر ہے کہ وہ نماز پڑھے یا زنا کرے۔معاذ اللہ ( اسلام اور شعیت کا تقابلی جائزہ صفحہ71 ) 

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ شیعہ سے ہوشیار اور دور رہنا چاہیئے 

 شیعہ توحید و رسالت قرآن کریم کی صداقت امت مسلمہ کی ہدایت کسی چیز پر صحیح ایمان نہیں رکھتے لیکن اسلام و ایمان کے دعویدار خوب بنتے ہیں۔

شیعہ بظاہر مسلم سوسائٹی میں رہنے اور تمام اسلامی مفادات حاصل کرنے اور مسلمانوں کو بہکانے کے لیے ظاہراً اپنے اوپر اسلام کا لیبل لگاتے رہتے ہیں ورنہ وہ کسی چیز کی حقانیت کے قائل نہیں۔

(اسلام اور شعیت کا تقابلی جائزہ صفحہ 72)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ شیعہ کے نزدیک مسلمان نجس ہے ان کا ذبیحہ حرام ہے، ان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، ہاں ان کا مال قبضہ کرنا جائز ہے:

خمینی کی معتبر کتاب تحریر الوسیلہ سے چند حوالے ملاحظہ ہوں: 

1):ناصبی(سنی مسلمان)اور خارجی خدا ان پر لعنت بھیجے بلا توقف نجس ہیں۔

(تحریر الوسیلہ جلد 1 صفحہ 118) 

2): تمام فرقوں کا ذبیحہ جائز ہے سوائے نواصب (مسلمانوں) کا اگرچہ وہ اسلام کا دعویٰ کریں۔

(تحریر الوسیلہ جلد 2 صفحہ 146) 

3):ہر قسم کا کافر یا جن کا حکم کافروں جیسا ہے۔ جیسے نواصب(سنی)اگر شکاری کتا شکار پر چھوڑ دے تو ایسا شکار حلال نہیں( تحریر الوسیلہ جلد2 صفحہ 136 ) 

4):کافر یا وہ جو کافر کے حکم میں ہے مثل نواصب (اہلِ سُنّت) و خوارج ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں (تحریر الوسیلہ جلد1صفحہ79)

5):نفلی صدقہ بھی ناصبی(سنی) اور حربی کو دینا جائز نہیں اگرچہ رشتےدار ہی کیوں نہ ہو(تحریر الوسیلہ جلد1صفحہ91 )

6):اور قوی یہ ہے کہ ناصبیوں ( سنیوں) کا مال جہاں اور جس طریقے سے ملے لے لیا جائے اور اسے خمس نکالا جائے ( تحریر الوسیلہ جلد 1 صفحہ 352 )

نوٹ:یہ وہی خمینی ہے جس کے متعلق ہمارے بے ضمیر صحافی اور ایرانی ایجنٹ یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ وہ نا سنی ہے نہ شیعہ وہ خالص مسلمان ہے اور عالمِ اسلام کے اتحاد کے داعی ہیں۔(اسلام اور شیعت کا تقابلی جائزہ صفحہ110)

  • 37):جناب عزیز احمد صدیقی صاحب فرماتے ہیں کہ شیعہ سنی سے کیا سلوک کرتے ہیں اور سنی لوگ ان کی نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں اور ان کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں یہ افسوس ناک المیہ ہے:

فرمایا جناب صادق نے کہ چل آگے جنازہ مومن کے اور نہ چل آگے جنازہ مخالف کے پس آگے جنازے مومن کے ملائکہ جلدی کرتے ہیں اس کو جہنم میں لے جانے میں اور دوسری حدیث میں فرمایا کہ نہ چل آگے جنازہ مخالف کے ملائکہ عذاب و انواع عذاب سے اس کے آگے رہتے ہیں ۔

غالباً یہاں مخالف اور اس کی ضمیر کوناظرین کرام پہچان گئے ہوں گے اور اپنا مقام سبائی مذہب بھی سمجھ گئے ہوں گے، ان کے اماموں نے موت اور زندگی میں مخالفوں کے ساتھ سلوک بتلا دیا ہے۔

اب بھی بدیوانی قماش کے ملاؤں کے ورغلانے سے اتحاد کی امید لگائے رکھنے والے کیلئے کیا کہاجاسکتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول سنادوں جو اسی قوم کے لئے نازل ہوا ہے

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ  ۖۚ وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ (سورۃ آل عمران 118)

اے ایمان والو ! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو رازدار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ، بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ (عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتادی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔

صفحہ 12 از 17