حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 13 از 17

هٰۤاَنۡتُمۡ اُولَاۤءِ تُحِبُّوۡنَهُمۡ وَلَا يُحِبُّوۡنَكُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ كُلِّهٖ ‌ۚ وَاِذَا لَقُوۡكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا  ۖۚ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ‌ؕ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡؕ‌ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ ۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ (سورۃ آل عمران119)

ترجمہ:دیکھو تم تو ایسے ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو، مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم تو تمام (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور (ان کا حال یہ ہے کہ) وہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (قرآن پر) ایمان لے آئے، اور جب تنہائی میں جاتے ہیں تو تمہارے خلاف غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔ (ان سے) کہہ دو کہ : اپنے غصے میں خود مر رہو، اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتیں خوب جانتا ہے۔

اِنۡ تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٌ تَسُؤۡهُمۡ وَاِنۡ تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٌ يَّفۡرَحُوۡا بِهَا ‌ۚ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡــئًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ (سورۃ آل عمران120)

ترجمہ:اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو ان کو برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی گزند پہنچے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں، اگر تم صبر اور تقوی سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے (علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔

 اور آپ اپنے ملاؤں کو دیکھئے کہ وہ شیعوں کے نمازِ جنازہ کیلیے کیسے دوڑا ہوا جاتا ہے،خواہ اسے نماز پڑھنے سے روک ہی دیا جائے،کوئی رسوائی نہیں محسوس کرتا حالانکہ یہ وہ جنازہ ہوتا ہے جسے خود اس کے ورثاء نجس سمجھتے ہیں اور خود نہیں چھوڑتے، کرائے کے شہدوں سے نہلا کر لے آتے ہیں ۔ (سبائی سبز باغ صفحہ 195)

  • 38):حضرت مولانا مفتی عبدالشکور قاسمی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:کافروں کے ساتھ دلی دوستی ہرگز جائز نہیں ورنہ کفر لازم آئے گا۔ اور ایک مسلمان کی نظر میں کوئی چیز اپنے مذہب سے زیادہ معظم محترم نہیں ہو سکتی۔جس مسلمان کے دل میں خشیت الٰہی اور غیرت ایمانی کا ذرا شائبہ ہو، وہ کافر اور کافر قوم سے موالات اور دوستانہ راہ و رسم پیدا کرنے یا قائم کرنے کو ایک منٹ کے لئے بھی گوارا نہیں کرے گا۔

(کفریہ الفاظ اور ان کے احکامات: صفحہ 24)

  • 39): گولڑہ شریف کے سجادہ نشین پیر نصیر الدین گیلانی نے اپنی کتاب:نام ونسب میں شیعوں کے غیر اسلامی عقائد باطلہ کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شیعہ گروه اہلِ سنّت سے اتفاق و اتحاد کرنے کے حق میں نہیں ہے پھر بھی ہمارے اکثر سنی علماء ان کی مجالس میں شرکت کو سیدنا حسینؓ کے نام کی وجہ سے باعثِ رحمت سمجھتے ہیں۔ان علماء پر واضح ہو کہ شیعہ لوگ سنیوں کے بھائی نہیں بن سکتے۔اگر سنیوں کی طرح شیعہ بھی صاف دل ہوتے تو وہ بھی ان کی مجالس میں ضرور شرکت کرتے مگر آپ نے کبھی دیکھا کہ کوئی شیعہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کانفرنس یا سیدنا فاروقِ اعظمؓ کانفرنس یا سیدنا عثمانِ غنیؓ کانفرنس یا سیدنا امیرِمعایہؓ کانفرنس یاسیدہ عائشہ صدیقہؓ کانفرنس میں شریک ہواہو؟

اگر یہ ہمیں کافر جانتے ہیں تو پھر ہم انہیں مسلمان کیوں گردانیں۔ ایران کا یہودی نظام ایک ظاہری اسلامی ہیئت میں مسلمانوں کی منافقانہ طریقہ سے تذلیل کر رہا ہے اور مسلمانوں کی اکثریت اس کی ظاہری شکل کو دیکھ کر اور اس کے پُرفریب نعروں کو سن کر اس کو امتِ مسلمہ کا ایک حصہ سمجھتی ہے۔

یہ ٹولہ ہر وقت شیعہ سنی وحدت کا منافقانہ نعرہ لگا کر مسلمانوں کے خلاف انتہائی سرگرم اور فعال ہے اور اسلام کو دنیا میں نافذ نہیں ہونے دیتا۔دراصل ایران کے شیعہ حکمرانوں نے اپنی طرف سے ایک بناوٹی اسلام بنایا ہوا ہے اور وہ اس خود ساختہ جعلی اسلام کو اصلی اسلام منوانے کے لئے ہرحربہ استعمال کرتے ہیں۔

دنیا کے بعض ملکوں میں شیعہ لوگ حکومت کی سربراہی میں سڑکوں پر غیر اسلامی حرکتیں کر کے اسلام کو کھلم کھلا بد نام کرتے ہیں۔ یہ منافق آزادی کے ساتھ ہمارے اسلامی ملک میں اسلام کو نوچ رہے ہیں اور ہمارے علماء کو اس کی پروا نہیں ان کی مجرمانہ خاموشی اور مصلحت پرستانہ پالیسی شیعہ کو نئے حوصلے فراہم کرتی ہے۔

ہمارے علماء کرام جن کا یہ دینی فریضہ ہے کہ ہر برائی کو روکیں وہ بھی اس موقع پر منافقت سے کام لیتے ہیں اور مجرمانہ خاموشی اختیار کرکے ان اسلام دشمن کاروائیوں کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اس طرح وہ بھی ان بدعتوں میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔

(ایران اور عالمِ اسلام صفحہ42)

  • 40):شیعہ وہ قوم ہے جنہوں نے سیدناعلیؓ سیدناحسنؓ اورسیدناحسینؓ کے ساتھ وفا نہیں کی تو آپ کے ساتھ کیسے وفا کریں گے:

انہی مکار غدار شیعوں نے متعدد خطوط لکھ کر سیدناحسینؓ کو کوفہ میں بلالیا،حالانکہ بارہ ہزار خطوط ان کی طرف سے سیدناحسینؓ کے پاس جمع ہو گئے۔

چنانچہ ملاباقر مجلسی لکھتے ہیں:

اور جب مبالغہ واصرار ان کا ازحد ہوا اور متعدد قاصد حضرت کے پاس جمع ہوگئے اور بارہ ہزار خطوط آگئے ۔ (جلاء العیون صفحہ431)

جب شیعانِ اہلِ کوفہ کا اصرارحد سے بڑھ کر انتہاء کو پہنچا تو سیدناحسینؓ نے سیدنا مسلم بن عقیلؓ کے ہاتھ پراٹھارہ ہزار کوفی بشرف بیعت ہوئے۔ چنانچہ سیدنا مسلم بن عقیلؓ نے سیدناحسینؓ کی طرف خط لکھا کہ

اہلِ کوفہ تہ دل سے آپ کے خواہاں ہیں،آپ بلا دریغ تشریف لائیں۔

 (جلاءالعون صفحہ432)

بعد ازاں شیعانِ کوفہ نے سیدناحسینؓ کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کتب شیعہ میں مذکور ہے۔ اور جب سیدناحسینؓ مقامِ کوفہ میں تشریف فرما ہوئے اور شیعانِ کوفہ نےاپنی غداری اور مکاری کو ظاہر کیا اور خطوطِ مرسلہ جو آپ کے پاس محفوظ تھے ان کو دکھائے۔ مگر وہ جفا کار شیعہ اپنی بے شرمی سے باز نہ آئے تو سیدناحسینؓ کو فرمانا پڑا کہ ہمارے شیعوں نے ہماری نصرت سے ہاتھ اُٹھالیا۔

(جلاء العون:صفحہ 452) 

صفحہ 13 از 17