حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 14 از 17

ان جفا کار غدار شیعوں نے سیدناحسینؓ کی نصرت سے عزلت و کنارہ کشی اختیار کرنا ہی کافی نہ سمجھا بلکہ غضب الٰہی کے ایسے خواہاں و متلاشی ہوئے اور سیدناحسینؓ کے مقابلہ پر کمر بستہ ہوگئے۔اس لئے تو سیدناحسینؓ نے فرمایا : تمہارے ارادوں پر لعنت ہو،اے بے وفایان جفاکار غدارا تم نے شمشیر کینہ مجھ پر کھینچی۔

(جلاء العيون:صفحہ 468)

آخر کار انہیں شریر النفس شیعہ بے وفایان مکار و غدار کے ہاتھوں سے سیدناحسینؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

 (جلاء العون:صفحہ 469)

مذکورہ عبارات سے سورج کی روشنی کی طرح یہ بات معلوم ہوگئی کہ سیدناحسینؓ کے قاتلین شیعہ بلکہ راہ نمایان شیعہ تھے۔ اور غدارو مکار شیعوں نے اپنے بداطواری و بد اعتقادی کو فقط سیدناحسینؓ کے ساتھ ہی ظاہر نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے آپ کے والد محترم سید نا علی المرتضٰیؓ اور آپ کے بھائی سیدناحسنؓ کے ساتھ بھی ان کی بد گوہری عیاں ہوچکی تھی، اور بعد ازاں باقی آئمہ اہلِ بیت کے ساتھ بھی ایسا کرتے رہے۔ ملاحظہ ہو:جلاءالعيون:صفحہ 323،345 میں مذکور ہے کہ سیدناحسنؓ نےفرمایا:

بخدا اس جماعت (شیعہ) سے میرے لئے سیدنا امیرِ معاویہؓ بہتر ہے۔یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم شیعہ ہیں اور انہوں میرا ارادہ قتل کیا اور میرامال لوٹ لیا۔

اور کتاب سیر الائمه، ترجمه کشف الغمہ: میں مرقوم ہے کہ شیعوں نے سیدناحسنؓ کے ساتھ ایسی بدسلوکی اور بے وفائی کی کہ بغاوت کر کے آپ کا تمام مال اور متاع لوٹ لیا حتیٰ کہ مصلیٰ نماز بھی ان بد گوہر و بد کردار شیعوں نے زبر دستی چھین لیا۔ 

اور تاريخ الامم والملوك طبرسی:جلد 2 صفحہ228 میں بھی اسی طرح مسطور ہے کہ سیدناحسینؓ کو جن لوگوں(شیعوں) نے بلایا،انہوں نے قتل کیا۔

جب سیدناحسینؓ نے ان کی غداری پر ملا دیکھی تو آپ نے فرمایا: میں تمہارے بلائے بغیر یہاں نہیں آیا تمہارے بے شمار خط اور پیغام رساں میرے پاس پہنچے کہ ہمارا کوئی امام نہیں تم ہمارے پاس آجاؤ، پس میں تمہارے پاس آگیا۔تم پر لازم تھا کہ اپنے وعدوں پر قائم رہ کر میری تابعداری کرتے مگر تم نے اپنے وعدوں اور میری بیعت کو توڑ ڈالا۔سو یہ بات قابلِ تعجب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی قسم تم اس سے پہلے اس قسم کی عہد شکنی اور بے وفائی میرے والد بزرگوار ( سیدناعلیؓ ) اور میرے برادرِ محترم(سیدناحسنؓ ) اور میرے چچا زاد بھائی سیدنا مسلم عقیلؓ سے کرچکے ہو۔

 (قاتلانِ حضرت حسینؓ صفحہ13) 

  • 41):چھٹی، ساتویں اور آٹھویں صدی میں یہ لوگ (یعنی روافض) صرف اسی لئے مسلمانوں سے الگ اور اسلام دشمن سمجھے جاتے تھے کہ یہ لوگ بغضِ صحابہؓ کے سایہ میں مسلمانوں کی سیاسی شوکت کے دشمن تھے،اور جس طرح یہودو نصاریٰ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا نظامِ خلافت درہم برہم ہو۔

یہ لوگ(روافض) صفوفِ اسلام میں ان کی بڑی اُمید گاہ تھے اور یہ ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کی تباہی جس طرح بھی ہو اس میں کمی نہ کی جائے۔

خلافتِ بغداد کی تباہی میں خلیفہ معتصم باللہ کے شیعہ وزیر مؤیدالدین بن محمد بن محمد على المعلقمی کا بنیادی ہاتھ تھا۔تاتاریوں کے اس حملے میں سولہ لاکھ کے قریب مظلوم مسلمان شہید ہوگئے،مگر ابن العلقمی کی انتقام کی آگ پھر بھی نہ بجھی۔اس کی تفصیل کے لئے تاریخ ابنِ خلدون جلد3صفحہ537 کی طرف مراجعت فرمائیں۔

 اس ابن العلقمی کے بارے میں علامہ تاج الدین السبکیؒ لکھتے ہیں کہ وہ عربی کا بڑا ادیب تھا اور رافضی شیعہ تھا،اس کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کا بھر پور کینہ تھا۔اب آپ ہی اندازہ کریں کہ علامہ سبکیؒ کی نظر میں شیعہ کیا مسلمانوں میں سے ہیں یا اعدائے اسلام میں سے ہیں؟

اسی طرح شام میں عیسائیوں کی صلیبی جنگوں میں بھی شیعوں نے عیسائیوں کا ساتھ دیا تھا۔

 شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ تم ان شیعوں کو مسلمانوں کے خلاف جو قرآن کریم کو ماننے والے ہیں مشرکین اور اہلِ کتاب کی مدد کرنے والا پاؤ گے جیسا کہ لوگ پہلے کئی دفعہ آزما چکے ہیں۔ان شیعوں نے خراسان،عراق،جزیرہ شام اور دوسرے کئی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف تاتاریوں کی مدد کی اور شام اور مصر وغیرہ میں مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کا ساتھ دیا۔ایسا ایک دفعہ نہیں چوتھی اور ساتویں صدی میں ایسے کئی حوادث پیش آئے جب تاتاریوں نے( ہلاکو خان) بلادِ اسلام پر یلغار کی اور مسلمان کثیر تعداد میں مارے گئے کہ بس اللہ تعالیٰ ہی ان کی تعداد کو جانتا ہے۔تو یہ لوگ مسلمانوں کی عداوت اور کافروں کی مدد میں ایک بڑی طاقت رہے ہیں۔

حافظ ابنِ تیمیہؒ اس سے پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ:

حرص و ہوا کے ان بندوں میں جہالت اور ضد(کوٹ کوٹ کر) بھری ہے، خاص طور پر رافضیوں میں، یہ اہلِ ہوا میں سب سے زیادہ ظلم اور جہل کا شکار ہیں۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد جو سب سے بہتر اللہ تعالیٰ کی ولایت میں ہیں جیسے سابقین اولین مہاجرین و انصار میں سے اور ان میں سے جو ان کے پیچھے چلے اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے۔

یہ شیعہ لوگ کفارو منافقین سے موالات(دوستی) رکھتے ہیں، کفار میں سے یہود و نصاریٰ اور مشرکین سے ان کی دوستی ہے اور منافقین میں سے یہ نصیریہ اسماعیلیہ اوران جیسے دوسرے ملحدین کے ساتھی ہیں اور ان سے موالات(دوستی) رکھتے ہیں۔

اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ جو لوگ اس طرح کھلے کافروں کے ساتھ رہے اور قافلہ اسلام کے پہلے ہراول دستہ صحابہ کرامؓ کے خلاف دن رات بغض کا لاوا اُگلتے ہیں اور مسلمانوں کی جب کبھی کافروں سے پنجہ آزمائی ہو، وہ شیعہ ان کے ساتھ مل جاتے ہیں اور تاتاریوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تاریخی تباہی انہی کے ہاتھوں عمل میں آئی اور خلافتِ بغداد انہی کے عمل سے مٹی ہوا،پھر ان کے کفروالحاد( اور اسلام دشمنی ) میں کسی مبصر کو کسی قسم کا شک وتردد نہیں ہوسکتا ہے؟

 نہیں تو قرآن کریم کی اس شہادت کو لے لیں اور پھر آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا ان کو مسلمان سمجھا جا سکتا ہے؟

ومن يتولهم منكم فانه منهم: اور تم(دعوائے اسلام کرنے والوں) میں سے جوان سے دوستی رکھے گاوہ انہی میں سے ہے۔

 ( عبقات جلد 2صفحہ214)

  • 42):عام مسلمانوں میں شامل رہنے کی بجائے اپنے لئے مؤمن کا عنوان:
صفحہ 14 از 17