حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 15 از 17

مجالسِ اتحاد میں یہ اپنی صفائی اس طرح دیں گے کہ ہم صحابہ کرامؓ کو مؤمن مانتے تھے،سب اہلِ سنّت و الجماعت کو بھی ہم مسلمان مانتے ہیں کافر نہیں کہتے ۔

میرے محترم قارئین کرام!

شیعوں کے ہاں مؤمن ،مسلمان اور کافر تین درجے ہیں۔ دنیا کے احکام میں ان تینوں میں مسلمانوں اور کافروں کا فرق رہے گا مسلمانوں سے نکاح وغیرہ ہوسکتا ہے کافروں سے نہیں، یہاں مؤمن مسلمانوں کے ساتھ شمار ہوں گے، آخرت میں بھی دو ہی طبقے رہیں گے مؤمن اور کافر،جو مسلمان مؤمن نہیں وہ آخرت میں کافروں کے ساتھ ہی شمار ہوں گے۔ منافق مسلمانوں میں شامل ہونے کی بجائے مؤمن کے عنوان سے اپنا تعارف کراتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا و ماهم بمؤمنین :یہ مومن نہیں ہیں۔ان کا یہ دعویٰ محض ظاہر کے طور پر ہے جو ان کے دل چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں اس سے زیادہ ہے۔

اہلِ سنّت والجماعت کے ہاں احکامِ شریعت کی بناء ظاہر پر ہے اندر کی باتوں پر نہیں۔دنیا میں جو مسلمان مانا جائے گا اسے مؤمن بھی مانا جائے گا اور جو مؤمن مانا جائے وہ مسلمان بھی ہوگا۔لغوی مباحث میں تو ایمان و اسلام میں فرق ہے لیکن دینی اصطلاح میں دونوں ایک ہیں۔ جب یہ دونوں لفظ علیحدہ علیحدہ آئیں تو ایک ہی معنی دیں گے، ہاں ایک جگہ آئیں تو ان میں لغوی پہلو سے تقابل ہوسکے گا۔

مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی عادت:

یہ بات ان کے ذہن میں ہوتی ہے کہ اہلِ سنّت سنت والجماعت مؤمن نہیں ہے لیکن افسروں کے سامنے اپنے کو وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ایک کہنے کیلئے کہیں گے کہ ہم ان کو مسلمان سمجھتے ہیں،ہم سے لکھوا لو لیکن بھولے سے بھی ان کی زبان سے نہ نکلے گا کہ ہم سب مؤمن ہیں،آخرت میں بھی ہم نجات کے مستحق ہوں گے۔یہ دو پہلو والی بات مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ہے۔

(عبقات جلد 2صفحہ307) 

  • 43):حضرت مولانا مہر محمد صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: دورِ حاضر میں پاکستان اور عالم اسلام کیلیے زبردست خطرہ یہی روافض اور فتنہ خمینیت بن چکا ہے۔ مسلمانوں کو بیدار اور منظم ہونے کی انتہائی ضرورت ہے۔ وگرنہ 

 نہ جاگو گے تو مٹ جاؤ گے اے سنی مسلمانو!

تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں 

(ہزار سوال کاجواب صفحہ27)

  • 44):شیعہ مصنف کی کتاب الغیبة کے صفحہ 72 پر لکھا ہے کہ مالک بن اعين جھینی: امام جعفر باقر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہمارے امام القائم (مہدی منتظر ) سے پہلے بلند ہونے والے ہر جھنڈے کا مالک طاغوت ہے۔ اور شیعہ مصنف مجالسی کی کتاب بحار الانوارجلد8صفحہ53میں ایک روایت ہے،امام صادق کہتے ہیں کہ:اے مفضل ! امام القائم سے پہلے کی جانے والی ہر بیعت کفر و نفاق اور دھو کے پرمبنی ہے۔ بیعت کرنے والے شخص اور بیعت لینے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔

اس لئے شیعوں کی دہشت گرد تنظیم حزب الله، سوائے شیعہ اثناء عشری حکومت کے کسی بھی حکومت کو تسلیم نہیں کرتی اور نہ اس کی اطاعت وفرمان

 برداری ضروری سمجھتی ہے۔اور اگر بظاہر ان کی تابعداری کرنی پڑے تو وہ تقیہ پر عمل کرتے ہوئے منافقانہ دھوکہ دہی سے کام لے گی۔ 

شیعہ کی کتاب (وسائل الشیعه: جلد 1صفحہ 470) میں ابو عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو خط لکھا کہ: اہلِ باطل کے ساتھ ظاہری طور پر خوشگوار تعلقات قائم رکھو، ان کے ظلم وستم کو برداشت کرو،خبردار انہیں گالی گلوچ مت کرنا۔جب تم ان کے ساتھ مجلس قائم کرو تو اپنے باہمی تعلقات میں اپنے دین پر عمل کرو ۔ان کے ساتھ خوشی وغمی کی تقریبات میں شرکت کرو اور جب باہمی گفتگو میں نوک جھوک ہو تو تم تقیہ پر عمل کرو جس کا تمہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ تم اسے اہلِ باطل کے ساتھ تعلقات میں استعمال کرو۔کیونکہ تمہارے لئے ان کی مجالس میں جانا اور ان کے ساتھ تعلقات رکھنا اور گفتگو کرنا ضروری ہے۔

شیعه مصنف: الحر العاملي: نے (وسائل الشيعه:جلد 1 صفحہ 470) میں ایک خصوصی باب ذکر کیا ہے جس کا عنوان ہے عوام کے ساتھ تعلقات میں تقیہ کرنا واجب ہے۔

ابو بصیر، ابوجعفر سے بیان کرتا ہے کہ عوام سے ظاہری اچھے تعلقات قائم رکھو،اور اندر سے ان کی مخالفت کرو، جبکہ بچوں جیسی حکومتیں قائم ہوں۔

اسی کتاب میں آگے لکھا ہے کہ سلطان کی اطاعت تقیہ کرتے ہوئے واجب ہے، پھر اس نے متعددشیعی روایات ذکر کی ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ سلاطین کے ساتھ تقیہ کرتے ہوئے معاملات نبھانا واجب ہے اور اپنے معاملات میں باطنی حالات کے برخلاف عمل کرنا ضروری ہے۔

شیعہ مذہب کا ایک اور عالم جو شہید اوّل کے نام سے معروف ہے وہ التقيه منهج اسلامی نامی کتاب کے صفحہ نمبر 16پر تقیہ کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے کہ:لوگوں کے ساتھ بظاہر رواداری کا سلوک کرنا اور جن امور کووہ ناپسند کرتے ہیں انہیں ترک کر دینا تاکہ لوگوں کے فتنے سے بچا جاسکے۔

 خلاصه یہ ہے کہ شیعوں کے نزدیک تمام اسلامی حکومتیں طاغوتی ہیں اور ان کا تختہ الٹنا واجب ہے 

تاکہ اُن ممالک میں ایرانی شیعہ کلام کے ماتحت شیعی نظام حکومت قائم کیا جاسکے۔

(حزب اللہ کون ہے صفحہ 114)

  •  45): شیعیت کا اصل مقصد اس اصول سے بغاوت کی راہ ہموار کرنا تھا کہ قرآن وسنت اور اعتماد صحابہؓ کی بنیاد پر قائم اس دینِ اسلام میں گمراہی کا راستہ کھولا جا سکے۔اس کے لئے انہوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس کو تخریبِ اسلام کہا جاتا ہے، اور یہ ان لوگوں میں معیوب فصل بھی نہیں ہے، کیونکہ ان کے مذہب کی تعلیمات بھی اس کے موافق ہیں مثلاً: اصول کافی جلد نمبر2صفحہ 20 پر شیعہ مصنف لکھتا ہے کہ:

حق حکمرانی صرف شیعوں یا ان کے آئمہ کا ہے اور شیعوں کا فرض ہے کہ تمام سنی حکومتوں کو تباہ کرتے رہیں اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور سنی حکومت میں اطمینان سے رہے تو خواہ یہ کتنے ہی متقی ہوں عذاب کے مستحق ہوں گے۔

(کشف الحقائق:صفحہ11) 

 سوال: کیا شیعہ کافر ہیں؟ اگر کافر ہیں تو کیا شیعہ سے دوستی رکھنا ٹھیک ہے؟ 

صفحہ 15 از 17