حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 16 از 17

جواب:اگر شیعہ حضراتِ شیخین(سیدنا ابوبکرصدیقؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ) کو گالیاں دیں اور ان حضرات پر لعن طعن کرتے ہوں اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتے ہوں یاسیدناعلیؓ کو معبود سمجھتے ہوں یا یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو وحی پہنچانے کے سلسلے میں غلطی ہوئی تھی تو پھر یہ کافر ہوں گے اور اس صورت حال میں ان سے ولی دوستی رکھنا درست نہیں ہوگا۔

وفي الشامي ان الرافضي اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر لاشك في تكفير من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق اواعتقد الالوهية في على اوان جبرئيل غلط في الوحي الخ:(اشرف الفتاوىٰ صفحہ43)

سوال: قرآن کریم کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ کافر مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ؟

جواب:قرآن مجید کا منشاء یہ ہے کہ مذہبی حیثیت سے کافر کسی مسلمان کا حقیقی دوست اور سچا خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔سماجی یا اقتصادی مزاج و مذاق کی ہم آہنگی اور علاقہ و زبان کی اتحاد کی بنیاد پر تو ایک دوسرے کے ساتھ ذاتی دوستی ہو سکتی ہے لیکن ایک مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان ایمان و کفر کی جو خلیج حائل ہے وہ مذہبی اور فکری سطح پر ایک دوسرے کی دوستی میں ضرور حائل ہوگی۔اس لئے مسلمانوں کو اعتقادی اور تہذیبی اعتبار سے غیر مسلموں کی بہت زیادہ قربت سے بچنا چایئے،ورنہ ان کے لئے نقصان کا اندیشہ ہے ۔ اسی لئے اہلِ علم نے موالات اور مواسات میں فرق کیا ہے۔

كتاب الفتاوىٰ:جلد1صفحہ 138حصه:اوّل)

سوال:شیعہ تبرائی کا اہلِ سنّت والجماعت کے جنازہ میں داخل ہونا جائز ہے یا نہیں اگر داخل ہو جائے تو کوئی نقص ہے یا نہیں؟

جواب:غالی شیعوں کو جنازے میں داخل نہ کرنا چاہیئے۔کیونکہ یہ لوگ جنازہ میں بجائے دعا کرنے کے بد دعا کرتے ہیں۔ان کی کتابوں میں یہی لکھا ہے۔ (فتاویٰ مفتی محمود:جلد1صفحہ 254)

سوال:بعض دفعہ اہلِ تشیع بھی سنیوں کے جنازہ میں آکر شریک ہو جاتے ہیں۔آیا اُن کی یہ شرکت درست ہے؟

جواب: اہلِ تشیع کو شریک نہ کیا جائے۔کتب شیعہ میں لکھا ہے کہ اوّل تو سنی کا جنازہ نہ پڑھا جاۓ اگر بضرورت پڑھنا پڑے تو دعا کے بجائے بدعا کریں شیعہ کی كتاب:تحفةالعوام جلد1صفحہ 138میں ہے کہ اگر سنی خلافِ مذہب ہو اور بضرورت اس کا جنازہ پڑھنا پڑے تو چوتھی تعبیر کے بعد یہ پڑے۔

اے خدا!اس بندے کی میت کو اپنے بندوں اور اپنے شہروں میں ذلیل و رسوا کر، اے خدا! اس بندے کی میت کو جہنم کی آگ میں جلا،اے خدا!اسے سخت ترین عذاب دے،یہ چونکہ سنی میت پر بد دعا کرتے ہیں اس لئے شرکت کی اجازت نہ دی جائے۔

(خير الفتاوىٰ:جلد3 صفحہ304)

سوال:کچھ لوگ اہلِ تشیع کے جنازہ میں شریک ہوئے، امام بھی سنی اور باقی مقتدی بھی سنی تو نماز جنازہ میں کچھ خلل تو واقع نہیں ہوا؟

جواب:شیعہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اوّل تو سنی کا جنازہ نہ پڑھا جائے۔ چنانچہ:تحفة العوام جلد نمبر:1 صفحہ138میں ہے کہ:اگر میت سنی خلاف مذہب ہو اور بضرورت نماز پڑھنا پڑے تو بعد چوتھی تکبیر کے یہ کہے کہ: اے خدا! اس بندے کی میت کو اپنے بندوں اور شہروں میں ذلیل ورسوا کر،اے خدا!اس بندے کی میت کو نارِ جہنم میں جلا، اے خدا! اسے سخت ترین عذاب دے۔چونکہ یہ سنی میت پر بد دعا کرتے ہے، اس لئے شرکت کی اجازت نہ دی جائے۔

(خير الفتاوىٰ:جلد 4 صفحہ 335)

اُمت مسلمہ کے خلاف شیعہ کی بدترین خیانتیں: 

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ رافضی شیعہ کی دینی دوستی اور محبت قم کے مذہبی لیڈروں کے ساتھ ہے اور ان کی سیاسی وابستگی صرف اور صرف حکومتِ تہران کے ساتھ ہے۔جس شخص نے ان زہریلے کیڑوں کے اقوال پڑھے سنے ہوں وہ یہ تلخ حقیقت پا لیتا ہے۔

آج میں یہاں پر شیعہ کی بدترین خیانتوں کی طرف اشارہ کروں گا، جو حضرات تفصیل کے خواہشمند ہوں ان کیلئے کتاب کے آخر میں مصادر و مراجع ذکر کروں گا۔لیجئے!شیعہ کی بدترین، تاریخی،اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف خیانتوں کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں:

 ¹-شیعہ نے سیدنا علیؓ کے خلاف خیانت کی تو سیدنا علیؓ نے ان کی شدید مذمت کی اور ان کے افعال و کردار سے براءت کا اعلان فرمایا ۔

(نهج البلاغه خطبه69 صفح148)

 ²- سیدناحسنؓ کے ساتھ ان کی خیانت ڈھکی چھپی نہیں،ایک شیعہ نےان کی ران میں زہر آلود خنجر مارا (جس سے بعد میں وہ شہید ہو گئے)۔اور شیعوں نے سیدناحسنؓ کو مذل المؤمنین(مومنوں کو رسواء کرنے والا)کا لقب دیا(معاذ الله)۔کیونکہ سیدناحسنؓ نے اپنے نانا حضرت محمدﷺ کی پشین گوئی کے مطابق مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کروادی تھی، اور سیدنا حسنؓ نے سیدناامیر معاویہؓ سے صلح کر لی تھی،جو شیعوں کو کسی صورت گوارہ نہ تھی۔

(بحارالانوارصفحہ64)

 ³-سیدناحسینؓ سے ان کی خیانت عالمی شہرت یافتہ ہے۔انہوں نےسیدناحسینؓ کو بے شمار خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی،جب سیدناحسینؓ ان کی دعوت پر کوفہ پہنچ گئے تو انہوں نے آپؓ کی بیعت کی لیکن پھر انہی کے خلاف ہوگئے اور سیدنا حسینؓ کو شہید کر دیا۔اور سیدناحسینؓ نے ان کی بدعہدی اور خیانت معلوم ہونے پر انہیں بد دعا دی تھی۔

⁴-ہارون رشید کے عہدِ حکومت میں شیعہ وزیر علی بن یقطین نے بد دیانتی کرتے ہوئے پانچ سوسنی مسلمانوں پر قید خانے کی چھت گرا کر شہید کر دیا ۔

⁵-فاطمیوں کا عہدِ حکومت اہلِ سنّت کے مذہب کو مٹانے اور شیعہ مذہب کی نشر و اشاعت کے لئے خیانتوں اور بد دیانتوں سے بھرا پڑا ہے۔ 

⁶-قرامطہ نے حجاج کرام کو شہید کر کے ان کے اموال لوٹ لئے،اس طرح وہ حاجیوں کے خون اور مال کو اپنے لئے حلال سمجھ کر لوٹتے رہے۔

⁷-بوھری فرقے کی خیانتیں اور سنی مسلمانوں پر ان کا ظالمانہ تسلط ۔

⁸-رافضی و زیر مؤید الدین ابی طالب محمد بن احمد علقمی نے سخت بد دیانتی کرتےہوئے تاتاریوں کو عباسی حکومت کے دارالحکومت بغداد میں داخل ہونے میں مدد دی اورمسلمانوں کے قتل و غارت میں شریک ہوا۔

⁹-جب تاتاری مشق میں داخل ہوگئے تو رافضی شیعہ نے ان کی اطاعت قبول کر کے ان کی حکومت میں خدمات سر انجام دیئے 

¹⁰- ہلاکو خان جب حلب میں فوجیں لے کر داخل ہوا اور اس نے بے شمار مسلمان شہید کر دیئے تو اس دوران رافضیوں نے ہلاکو خان کی فرمان برداری اختیار کر لی اور اس کے خلاف جنگ سے دست بردار ہوگئے ۔

صفحہ 16 از 17