حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 17 از 17

¹¹-نصیر الدین طوسی رافضی نے سنی مسلمانوں کے قتل و غارت میں بھر پور گھناؤنا کردار ادا کیا مسلمانوں کے اموال قبضے میں لے لیے اور ان کی فکری و نظریاتی میراث کو ختم کرکے رکھ دیا ۔

¹²-شیعہ کی خیانتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے اُمت مسلمہ کے عظیم مجاہد اور ہیرو 

صلاح الدین ایوبی صاحب کو قتل کرنے کی کوششیں کیں۔

¹³- شیعہ نے سنی مسلمانوں کی سابقہ حکومت کو ختم کرنے کیلئے عیسائیوں سےمکمل تعاون کیا اور ان کے خفیہ ایجنٹ کا کردار ادا کیا۔ 

¹⁴-شیعہ اثناء عشریہ امامیہ کی تنظیم امل الشيعه لبنان میں عیسائیوں کے ساتھ مل کر سنی مسلمانوں کے خلاف بد کرداری میں ملوث ہے۔

¹⁵- صفوی شیعی حکومت نے عثمانی حکومت کی یورپ میں فتوحات کا بائیکاٹ کیا اورعثمانی حکومت کے خلاف عیسائیوں کے ساتھ مل کر سازشوں کے کئی جال بنے۔

¹⁶-شیعہ امامیہ خلیجی ممالک میں بے شمار خیانتوں کے مرتکب ہے،جیسا کہ وہ عراق میں عیسائیوں کے ساتھ اتحاد کر کے سنی مسلمانوں کے خلاف مجرمانہ کاروائیاں کر رہے ہیں اور اس میں ان کے علماء جیسے سیستانی اور الحکیم ہیں، ان کی مکمل حمایت انہیں حاصل ہے۔ امریکی سفیر اور عراق میں امریکی حاکم پال بریمر کی کتاب عراق میں فیصلہ کن سال میں شیعہ کے گھناؤنے کردار کے متعلق نہایت خطرناک اعترافات شامل ہیں۔اس نے لکھا کہ کسی طرح عراق کی تباہی اور شکست میں شیعہ امامیہ نے عیسائیوں کا بھر پور ساتھ دیا۔

پال بریمر لکھتا ہے کہ ابھی تک بہت سارے شیعہ امریکیوں پر سخت غضبناک ہیں کہ وہ عراق میں قتل و غارت بند نہیں کر رہا لیکن اس کے باوجود شیعہ قائدین مثلاً:آیة الله العظمى السيستانی وغیرہ نے اپنے پیرکاروں کو عیسائی اتحاد کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ تعاون عراق کو آزاد کرانے کی ابتداء سے ابھی تک جاری ہے اور ہم بھی ان کے تعاون کو کھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔اسی طرح عراق میں اسلامی انقلاب کی مجلس اعلیٰ کے لیڈر عبدالعزیز الحکم کےبارے میں لکھتا ہے کہ مجھے 

عبد العزیز الحکم نے کہا : 

جناب سفیر صاحب!آپ نے فرمایا ہے کہ عنقریب اس نئے لشکر کی قیادت فوجی افسر کریں گےتو وہ افسر کون ہوں گے؟میں نے اس کا عر بی لقب لے کر کہا: جناب میر اوعدہ ہے کہ پہلا لشکر کا قائد شیعہ ہوگا۔ یقیناً امریکی اتحادی فوجوں کے سربراہ نے وعدہ پورا کر دیا ۔ 

پال بریمر مزید لکھتا ہے کہ:السیستانی امریکی افواج کا بڑا قریبی ساتھی ہے لیکن وہ نہیں چاہتا کہ وہ اعلانیہ امریکی فوج کے ساتھ مل کر کام کرے۔اس لیے امریکی لیڈر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس کی امریکی خدمات پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

(حزب اللہ کون ہےصفحہ 118)


صفحہ 17 از 17