حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 2 از 17

تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کی عزت و شوکت 22 لاکھ مربع میل پر اسلام کا جھنڈا لہرانے والے خلیفہ ثانی سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو شہید کرنے والاابولولؤ فیروز رافضی تھا۔ پیکر شرم و حیاء سخاوت کے بے تاج بادشاہ نبی کریمﷺ کے دہرے داماد اور خلیفہ ثالث سیدنا عثمان غنیؓ کو شہادت کا جام پلانے والے بلوائی رافضی تھے۔ سیدناحسینؓ کو شہید کرنے والے توابین رافضی تھے پھر انتقام سیدنا حسینؓ کے نام پر ستر ہزار مسلمانوں کو تہ تیغ کرنے والا مختار الثقفی بھی رافضی تھا۔ ہلاکو سے بغداد کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہانے والا وزیر ابنِ علقمی رافضی تھا۔ تاتاریوں کو اکسا کر بغداد میں سولہ لاکھ مسلمانوں کی گردنیں تن سے جدا کرنے والا نصیر الدین طوسی رافضی تھا سنی امراء کو قتل کر کے صلاح الدین ایوبیؒ کے خلاف سازشیں کرنے والے فاطمین مصر رافضی تھے۔فاتح یورپ بایزید یلدرم کو ظلم وستم کی چکی میں پیسنے والاشاہ تیمور لنگ رافضی تھا۔ بنگال کا جعفر اور دکن کا صادق رافضی تھے ۔ دہلی کی جامع مسجد میں لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والا شاہ درانی رافضی تھا۔ ایرانی انقلاب کی آڑ میں نہتے سنیوں کو قتل کرنے والا خمینی ملعون بھی سب جانتے ہیں رافضی تھا۔ ملک پاکستان میں علماء،طلباء، وکلاء، سیاستدان اور سنی تاجروں کو شہید کرنے مدارس ، مساجد اور قرآن کی بے حرمتی کرنے والے یہی شیعہ دہشت گرد ہیں ۔ یہ سب وہ تاریخی حقائق ہیں جن سے آنکھیں چرانا خود فریبی اور جھٹلانا بے ضمیری کے سوا کچھ نہیں ۔

 شیعہ فرقے کا مزاج ہی تخریب کاری ہے

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ فرماتے ہیں کہ ہر فرقے کا ایک مزاج ہوتا ہے اس فرقے کا مزاج ہی تخریبی ہے اور تاریخ اس پر شہادت دے گی کہ مسلمانوں کو جتنے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اس میں سیاست کی یا خلافت کی، جہاں جہاں تباہی ہوئی ہے نیچے سے یہی فرقہ نکلتا ہے تو تاریخ کی روشنی میں یہ ایک تخریبی فرقہ ہے، جب اس کا مزاج یہ ہے تو ہو سکتا ہے کہ آج وہ آپ کی چاپلوسی کر کے آپ میں شامل ہو جائے لیکن کل کو نوک پنجے نکال کر آپ کو پٹخ دے آپ کے اوپر غالب آجائے۔

جیسا کہ تاریخ اس پر شاہد ہے پھر آپ کیا کریں گے؟

(دفاعِ صحابہؓ اور علماء دیوبند:صفحہ148)

 پوری دنیا میں اسلام مخالف مظالم و تباہی میں شیعہ کا ہاتھ ہے

تاریخِ اسلام کے مختلف ادوار میں جتنے المیے اوراد بار رونما ہوئے یعنی خلافتِ را شده، خلافتِ دمشق، خلافتِ بغداد اور خلافتِ عثمانیہ کے خلاف خون چکاں اور تباہ کن واقعات، ان کے پیچھے بالواسطہ یا 

بلاواسطہ اسی اسلام دشمن شیعہ تحریک کے سرکردہ لیڈروں کاہاتھ رہا ہے۔

منیٰ میں بھگدڑ ایک منظم سازش تھی، اس سازش میں ایرانی حکومت اور پاسدارانِ ایرانی انقلاب براہِ راست ملوث تھے۔ ان کا اس سے بھی بڑا منصوبہ تھا جسے سعودی حکومت نے نا کام بنا دیا ۔ (5 اکتوبر 2015ء روزنامہ ایکسپرس اخبار کوئٹہ صفحہ نمبر1) 

سعودی عرب پولیس نے یمن شیعہ حوثی باغیوں کی جانب سے آبِ زم زم کی 2000 بوتلوں میں زہریلا مواد شامل کرنے کی اطلاع کے بعد چھاپہ مار کر زہر آلودہ آبِ زم زم کے چھ سو کاٹن قبضے میں لے لئے۔

(روزنامه اسلام اخبار پشاور صفحه نمبر1،چھ اپریل 2014ء )

 2015ء منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران ہونے والے سانحہ کی اصل حقیقت سامنے آگئی ۔ پاکستان علماء کونسل کے چئیرمین طاہر اشرفی کے مطابق ایران کے تربیت یافتہ شیعوں نے شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران حجاج کرام کا راستہ روکا، اور پھر عرب پولیس پر حملہ کیا۔ اس دوران ایرانیوں کی طرف سے یا حسین اور خمینی زندہ بادکے نعرے لگنے سے حجاج خوفزدہ ہو گئے۔اور بھگدڑ مچنے سے 900 حجاج شہادت پاگئے۔

اسلاف کے پچاس اقوال اور ثبوتیں که شیعه پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیرخواہ نہیں بن سکتے

میرے محترم قارئین کرام!

رافضی شیعہ ہمیشہ سے مسلمانوں کی تباہی وبربادی کا ہتھیار اور ان کی ملی وحدت میں زہر آلود خنجر کی حیثیت رکھتے ہیں اور آج تک ان کا کردار ایک جیسا ہے۔ عیسائی ہمیشہ سے اسلامی حکومتوں کو ختم کرنے کے لئے انہیں استعمال کرتے آرہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ بطور نمونہ کے چند اقوال اور واقعات ملاحظہ فرمائیں:

  • 1):شیعہ چوتھی صدی سے لے کر نویں صدی تک اپنے کفریہ عقائد میں کچھ دبے دبے سے رہے تھے اور اُس دور میں انہوں نے بڑی بڑی اسلامی سلطنتوں کو پامال کیا تھا اور وہ اسی لئے مسلمانوں کے دشمن سمجھے جاتے تھے۔جب بھی انہوں نے موقع پایا مسلمانوں کی سیاسی شوکت کو تاراج کیا۔ چنانچہ حضرت مولانا علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ ان ادوار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

اسلامی حکومت کی بیشتر بربادی ان رافضیوں کے ہاتھوں سے ہوئی ہے، خدا تعالیٰ جل شانہ انہیں رسوا کریں۔(عبقات:جلد 2 صفحہ231)

  • 2):- دراصل ایران کے متعلق پاکستان کی سوچ ہمیشہ مدافعانہ اور معذرت خواہانہ رہی ہے۔ شاید اس ڈر سے کہ مشرقی سرحدوں کی طرح کہیں مغرب میں بھی ہمارا کوئی دشمن پیدا نہ ہو جائے۔

ہماری اس کمزوری نے ایران کے حکمرانوں اور ایرانی لوگوں کا ہمارے ساتھ رو یہ نہ صرف طنزیہ بلکہ توہین آمیز بنا دیا ہے ۔ یہ لوگ اُوپر سے ہمارے مسائل کے حق میں ہمارے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے ہیں لیکن اندر سے خوش ہوتے ہیں ممکن ہے ان کے اس کردار میں ان کے مذہبی اصول تقیہ کا بھی دخل ہو، لیکن یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی شیعہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے، اور آپ کا کبھی مخلص دوست نہیں ہو سکتا۔

ترکی کو آنکھیں دکھانے کے لئے یونان سے دوستی کرتے ہیں، اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کیلئے ہمارے ازلی دشمن بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہیں۔آپ اگر دب گئے تو آپ کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں ، آپ سے مطلب پڑتا ہے تو آپ سے معافی مانگنے اور پاؤں پکڑنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ اور پھر کسی وقت اچانک ایسی آنکھیں پھیر لیتے ہیں کہ آپ کا سمجھنا محال ہو جاتا ہے کہ کس بات پر ناراض ہو گئے ہیں۔

(ایران افکار و عزائم صفحہ62)

صفحہ 2 از 17