حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 3 از 17
  • 3): دراصل ہمارا کوئی سیاست دان ، اخبار نویس یا کوئی دوسرا شخص ایران کے خلاف کوئی بات سننے کو آمادہ نہیں حالانکہ اس کے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ کھلے اور خفیہ روابط ہیں اور اسلام دشمن اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ خفیہ گٹھ جوڑ ہے اور ہمارے ساتھ اس کے تعلقات محض منافقت پر مبنی ہیں۔ یہ خطرناک صورت حال ہمارے لئے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے اگر کوئی سمجھے۔

 (ایران اور عالمِ اسلام صفحہ113)

  • 4):حکومت پاکستان کیلئے لازم ہے کہ ایران کی نسبت سے وہ اپنا معذرت خواہانہ رویہ ترک کر کے ایسی واضح پالیسیاں وضع کرے جو ایک آزاد ملک کے شایانِ شان ہو۔ لہٰذا ہماری درخواست ہے،ہر اُس سنی آفیسر اور حکمران سے جو اسلام اور ملک کے حقیقی خیر خواہ اور محب ہو کہ ہر ادارے میں گھسے ہوئے شیعوں کی مسلح تنظیموں اور ان کی وطن دشمن اور ایران نواز کاروائیوں پر کڑی نظر رکھی جائیں ، ایسا نہ ہو کہ یہ آستین کے سانپ ایک دن آپ کو بھی ڈس کر ختم نہ کر دیں ۔ 

(ایران افکار و عزائم: صفحہ 86)

  • 5):حضرت مولانا مسعود اظہر صاحب فرماتے ہیں کہ ملاقات کے وقت تمہارے قومی جلسوں و عام مجامع معلیٰ میں وہ اس قسم کی تقریریں کر جاتے ہیں جن سے سادہ لوح مسلمان یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے خیر خواہ ہے مگر وہ یاد رکھیں کہ یہ سب زبانی جمع خرچ ہوتا ہے،ولايحبونكم۔

  (تفسير فتح الجواد:صفحہ 156)

  • 6 ):علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہے کہ شیعہ ہمیشہ یہود و نصاریٰ تاتاری اور مشرکین کے ساتھ رہے ہیں، تاتاری کفار کے اسلامی ملکوں میں راہ پانے میں سب سے زیادہ شیعہ کا دخل ہے، شام میں عیسائیوں کی انہوں نے پوری پوری مدد کی یہاں تک کے مسلمانوں کے بچوں کو ان کے ہاتھوں غلامی کی طرح فروخت کر دیا تھا، عیسائیوں کے بیت المقدس پر قبضہ میں بھی ان کا بڑا حصہ تھا، ان کے عقائد کفریہ کی بناء پر کافروں اورمنافقوں کے زمرہ میں ان کی شمولیت لازم ہے، اور جو شخص بھی ان حالات کا مشاہدہ اوران کے عقائد کا مطالعہ کرچکا ہے و ہ انہیں مسلمانوں سے بالکل الگ سمجھتا ہے۔ ان کی تمام تر کوشش یہی رہی ہیں کہ اسلام کو منہدم کر کے اس کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جائے،اور اسلام کے ساتھ ان کے معاملہ کی تاریخ بالکل سیاہ ہے۔

(منہاج السنة: جلد 4 صفحہ 110)

  • 7:امام ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ ابن عقیل نے کہا کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جس نے رافضی مذہب بنایا ہے اس کی اصلی غرض یہ تھی کہ دینِ اسلام میں اور اصل نبوت محمدی ﷺ میں طعن کر کے مٹا دے۔

 (تلبیس ابلیس صفحہ 172)

  • 8):امام ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ ابنِ عقیلؒ نے فرمایا کہ اس مکار فرقہ کا فتنہ بھی اسلام میں سخت مصیبت ہے ۔

 (تلبیس ابلیس:صفحہ 173) 

  • 9):ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے سیدنا ابیؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہودی جب بھی مسلمان کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ مسلمان کو قتل کردوں۔ 

(تفسیر مظہری اردو: جلد3 صفحہ 387)

  • 10):حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؓ لکھتے ہیں کہ:حضرت ابو موسیٰ اشعریؒ نے ایک مرتبہ ایک ذمی( نصرانی ) کو اپنا منشی (پی اے) مقرر کر لیا تو امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے ان کو سرزنش و ملامت کا خط لکھا اور قرآن کریم کی یہ آیت لکھی: 

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَاعَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ ۖۚ وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 118)

ترجمہ:اے ایمان والو ! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو رازدار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ، بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ (عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتادی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔

 ایک اور واقعه

ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؒ نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی خدمت میں حاضرہو کر اپنے صوبے کا میزانیہ (بجٹ) پیش کیا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو بہت پسند آیا۔سیدنا فاروقِ اعظمؓ ان کا میزانیہ( بجٹ) لے کر مجلس شوریٰ میں آئے اور ان سے فرمایا تمہارا منشی کہاں ہے؟ تا کہ تمہارا میزانیہ اراکین شوریٰ کے سامنے پیش کرے تو انہوں نے عرض کیا وہ تو مسجد نبوی میں نہیں آئے گا۔ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے پوچھا کیوں؟ کیاوہ ناپاکی کی حالت میں ہے ؟ تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؒ نے عرض کیا جی نہیں وہ نصرانی ہے۔ اس پر سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے ان کو سرزنش کی اور

 فرمایا: تم ان نصرانیوں کو اپنے سے قریب کرتے ہو؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مسلمانوں سے دور رکھا ہے۔ تم ان کو عزت دیتے ہو؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل ورسوا کیا ہے۔ تم ان کو امین(معتمد علیہ) بناتے ہو ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خیانت کار بتایا ہے۔

ایک اور روایت میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اہلِ کتاب(یہودیوں اور نصرانیوں ) کو حکومت کا اہل کار یا افسر مت بناؤ، اس لئے کہ یہ لوگ سود کو حلال سمجھتے ہیں، تم سرکاری عہدوں پر اور رعایا پر ایسے لوگوں کو مقرر کرو جواللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوں 

 نو سو سال پہلے کا حال

امام قرطبیؒ فرماتے ہیں لیکن اب اس زمانہ میں تو حالات بالکل بدل چکے ہیں۔

یہودیوں اور نصرانیوں کو عام طور پر اسلامی حکومتوں میں ذمہ دار افسر اور کلرک مقرر کر دیا گیا ہے، اور اس طرح انہوں نے نادان و نا سمجھ عوام پر پورا اقتدار حاصل کر لیا ہے۔

 نو سو سال بعد كا حال

صفحہ 3 از 17