حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 4 از 17

مصنفؒ فرماتے ہیں یہ نوبت تو اب سے نو سو سال پہلے امام قرطبیؒ کے زمانہ میں پہنچ چکی تھی تو ہم اپنے اس زمانے کے متعلق کیا کہیں جبکہ اسلامی ملکوں میں شریف ( دیندار ) اور ذلیل ( بے دین ) لوگ ایک دوسرے میں خلط ملط ہو چکے ہیں۔ اپنے ملکوں میں اپنے اوپر ہم نے ان کو کس قدراقتدار دے رکھا، ان کے ساتھ میل جول اور الفت و محبت کے روابط و تعلقات کتنے بڑھا رکھے ہیں؟ حالانکہ ان دشمنانِ دین وملت کے ساتھ اختلاط اور ارتباط ، دوستی و موالات کے حرام ہونے کے بارے میں قرآن کریم کی بہت سے واضح اور قطعی آیات اور صریح احادیث صحیحہ موجود ہیں (فتاویٰ بینات:جلد 2 صفحہ107) 

  • 11):علامہ شعبیؒ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں اُن تمام اہلِ ہوا سے دور رہنے کا حکم دیتا ہوں اور ان میں سے سب سے زیادہ برے روافض ہیں۔ وہ اسلام میں رغبت اور خوف خدا سے داخل نہیں ہوئے بلکہ مسلمانوں سے بغض او ر غصے کی وجہ سے داخل ہوئے ہیں۔( منہاج السنة النبويه فى نقض كلام الشيعة والقدرية:صفحہ 83) 
  • 12):حضرت مولانا علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ روافض،خوارج اور دوسرے اہلِ ہوا کے ساتھ محبت اور دوستی قائم کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَاعَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ ۖۚ وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ (سورۃ آل عمران آیت 118)

ترجمہ:اے ایمان والو ! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو رازدار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ، بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ (عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتادی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔

  اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ 

(سورۃ هود آیت نمبر 113)

ترجمہ:اور (مسلمانو) ان ظالم لوگوں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا، کبھی دوزخ کی آگ تمہیں بھی آپکڑے۔ 

 نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ

 (سورۃ الممتحنةآیت نمبر13)

جس قوم پر اللہ کا غضب ہے ان کے ساتھ دوستی نہ لگاؤ۔

(السيف المسلول: صفحہ513)

  • 13): امام شوکانی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: 

رافضی شیعہ صرف اپنے مذہب میں امانت والا ہے،

 وگرنہ ان میں امانت داری کا نام و نشان نہیں بلکہ جو رافضی نہ ہو یہ اس کے مال و خون کو جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ داؤ لگانے کیلئے تقیہ کا سہارا لیتے ہیں۔فرصت ملنے پر غیر شیعی کو نقصان پہنچانے میں ذرہ برابر کسر نہیں چھوڑتے۔(اثناء عشریه عقائد و نظریات کا جائزہ اور گھناؤنی سازشیں صفحہ 215)

  •  14):حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ بعض بدفہم اور کم سمجھ مسلمان 

غیرمسلموں کو اپنا دوست سمجھ کر ان کے بغلوں میں جا کر گھستے ہیں۔( ان سے اپنے راز بیان کرتے ہیں )ان ناعاقبت اندیشوں کو معلوم بھی ہے کہ بزرگوں کا مقولہ ہے کہ نادان دوست سے دانا دوست اچھا ہوتا ہے، اور جونادان بھی ہو اور دشمن بھی تب کیا کہنا۔

جو شخص حکومت یا سلطنت کے باغیوں سے میل جول رکھتا ہے یا ان کوامداد پہنچاتاہے ، وہ شخص بھی باغیوں ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہم جس کے وفادار ہیں وفاداری اُسی وقت تک ہے کہ ہم اس کے دشمنوں سے نہ ملیں ۔

دوست سے سنبھل کر دوستی کرو، زیادہ میل جول نہ کرو شاید کسی دن دشمن ہو جائے تو گھر کے بھیدی ( راز دار) کی دشمنی بہت نقصان دہ ہوتی ہے۔ اور اگر کسی کو اپنے دوست کے متعلق دشمنی کا احتمال نہ ہو تو وہ اپنے ہی متعلق یہ احتمال رکھے کہ شاید کہ کسی دن میں ہی بدل جاؤں۔اس لئے اتفاق میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔

(اسلام اور سیاست صفحہ 149) 

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

کافر جتنے ہیں سب اسلام کے دشمن ہیں، کوئی گورا ہو یا کالا، دونوں سانپ ہی ہیں بلکہ گورے سانپ سے کالا سانپ زیادہ زہریلا ہوتا ہے۔اگر گورے سانپ کو گھر سے نکال بھی دیا، کالا سانپ ڈسنے کو موجود ہے، جس کا ڈسا ہوا زندہ رہنا مشکل ہے۔ جب تک ہم کلمہ پڑھتے ہیں،تمام غیر مسلم ہمارے دشمن ہیں، اس میں کالے گوروں کی کچھ قید نہیں، مسلمانوں میں جو بڑے بڑے خوشامدی ہیں وہ (غیر مسلم) ان کو بھی اپنا دوست نہیں سمجھتے۔

گو کفار اپنی کسی مصلحت سے مسلمانوں کی کچھ رعایت کریں مگر یہ یقینی بات ہے کہ وہ اسلام کو اپنے لئے مضر سمجھتے ہیں اور اس واسطے اس کے مٹانے کی فکر میں ہیں۔

(اسلام اور سیاست صفحہ 150)

  • 15): امام اہل سنت حضرت مولانا علامہ محمد عبدالشکور فاروقی لکھنویؒ فرماتے ہیں کہ مذہب شیعہ میں دغاو فریب ایسی عمدہ چیز ہے کہ آئمہ اکثر اپنے مخالفوں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرتے اور بجائے دعا کے نماز میں بددعا دیتے تھے، اور اپنے متبعین کو بھی یہی تعلیم دیتے تھے کہ تم ایسا کیا کرو، لوگ سمجھتے تھے کہ امام نمازِ جنازہ پڑھ رہے ہیں اور وہاں معاملہ بر عکس ہے۔ شیعوں کی کتاب فروع کافی کے صفحہ نمبر 99 پر ہے: 

سیدنا جعفر صادق سے روایت ہے کہ ایک شخص منافقوں میں سے مر گیا، امام حسین اس جنازہ کے ہمراہ چلے، راستہ میں غلام ان کا اُن کو ملا اس سے امام حسین نے فرمایا کہ تو کہاں جاتا ہے ؟ اس نے کہا میں اس منافق کے جنازہ سے بھاگتا ہوں، نہیں چاہتا کہ اس پر نماز پڑھو ،امام حسین نے اس سے فرمایا: دیکھو میرے دا ہنی جانب کھڑا ہو اور جوکچھ مجھے کہتے ہوئے سننا وہی تو بھی کہنا۔ پھر جب اس منافق کے ولی نے تکبیر کہی تو امام حسین نے بھی تکبیر کہہ کر یہ دعا مانگی کہ یا اللہ اپنے فلانے بندے پر لعنت کر ہزار لعنتیں جو ساتھ ساتھ ہوں مختلف نہ ہو یااللہ! اپنے اس بندے کو دوسرے بندوں میں اور شہروں میں رسوا کر اور اپنے آگ کی گرمی میں اس کو ڈال اور سخت عذاب اس پر کر، کیونکہ وہ تیرے دشمنوں سے دوستی رکھتا تھا اور تیرے دوستوں سے دشمنی رکھتا تھا اور تیرے نبی کے اہلِ بیت سے بغض رکھتا تھا ۔

صفحہ 4 از 17