حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 5 از 17

 میرے محترم قارئین کرام!

دیکھئیےیہ امام معصوم ہے جو اس طرح لوگوں کو فریب دے رہے ہیں، اگر اس منافق کی نمازِ جنازہ جائز نہ تھی تو امام کو علیحدہ رہنا چاہیئے تھا خواہ مخواہ نمازِ جنازہ میں شریک ہو کر بد دعا کس قدر مذموم خصلت ہے۔شیعہ کی کتابوں میں اس قسم کے افعال اورائمہ سے بھی منقول ہیں۔

( شیعہ مذهب کے چالیس مسائل صفحہ 27)

  • 16): رئیس المناظرین حضرت مولانا ابوالفضل مولوی محمد کرم الدین دبیرؒ ساکن بھیس ضلع جہلم صاحب فرماتے ہیں کہ :

جوسنی بھائی روافض سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور ان کو اپنا مسلمان بھائی تصور کرتے ہیں۔ وہ غور کریں کہ جولوگ تمہارے بزرگانِ دین صحابہ کرامؓ اور ازواجِ مطہراتؓ سے یہ سلوک رکھتے ہوں کہ ہر ایک نماز کے بعد ان کے نام لے لے کر لعنت و تبراء کریں،ان کا یومیہ ورد ہو، اور ان عظیم ہستیوں پر ہی لعنت نہیں کرتے بلکہ ان لوگوں کو بھی اس لعنت میں شامل کرتے ہیں جو ان حضرات سے محبت رکھتے ہیں۔پھر افسوس ہے کہ غیور سنی ایسے بدطینت اور خبیث اشخاص کو اپنا دوست بنائے جو صحابہ کرامؓ سے ایسی دشمنی رکھتے ہوں، اور سنیوں سے اُن کو بیر ہے۔

(آفتابِ ہدایت ردِ رفض و بدعت:صفحہ 213)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

شیعہ کے کتابوں میں لکھا ہے کہ اوّل تو سنی کا جنازہ نہ پڑھا جائے،اگر ضرورت کی وجہ سے پڑھے تو دعا کی بجائے سنی میت پر اس طرح بد دعا کرے۔

" اے خدا!اس بندے کی میت کو اپنے بندوں اور اپنے شہروں میں ذلیل و رسوا کر، اے خدا!اس کو جہنم کی آگ سے جلا دے، اے خدا!اس کو سخت ترین عذاب دے۔

سنيوں! جانتے ہو!

جانتے ہو، یہ لوگ تمہارے جنازوں میں شامل ہو کر میت کیلئے کیا بد دعا کرتےہیں۔کیا تم اس بات کو گوارہ کرسکتے ہو کہ ایک شخص تمہاری والدہ یا والد ، یا لیڈر یا بزرگ کی میت کے جنازہ پر کھڑا ہو کر اس کے لئے بد دعائیں کرے؟ بقول شاعر!

نہ آنے دیجیئے انہیں لاش پر خدا کے لئے

 نماز پڑھنے جو آئیں گے بد دعا کے لئے

(آفتابِ ہدایت و ردِ رفض و بدعت:صفحہ214)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

شیعہ کے نزدیک سنی کتے اور ولدالزنا سے بھی برے ہیں۔(شیعہ کی کتاب فروع کافی کے جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 8 ہے کہ)

"ایسے کنویں کے پانی سے مت نہاؤ جس میں تمام کا مستعمل پانی پڑتا ہے، کیونکہ اس میں ولد الزنا کے بدن کا پانی بھی گرا ہوا ہوتا ہے،اور ولدالزنا سات پشت تک پاک نہیں ہو سکتا۔اور اس میں ناصبی (سنی) کے بدن سے گرا ہوا پانی بھی ہوتا ہے۔اور وہ ناصبی (سنی) 

ولدالزنا اور کتے سے بھی بدتر ہے۔خدا نے تمام مخلوق سے بُرا کتے کو بنایا ہے اور ناصبی(سنی)اس سے بھی بُرا ہے۔

قارئین کرام!

دیکھو!شیعہ لوگ سنیوں کو کتے اور ولدالزنا سے بھی بُرا سمجھتے ہیں۔ پھر اگر سنی ان سے برتاؤ کریں تو اُن سے بڑھ کر کون بے غیرت ہو سکتا ہے۔

(آفتابِ ہدایت ردِ رفض و بدعت :صفحہ260)

  • 17):شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جان صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:شیعہ عموماً تحریفِ قرآن ، قذف حضرت عائشہ صدیقہؓ ، انکارِ صحبت صدیق اکبرؓ جیسے کفریہ عقائد رکھتے ہیں۔لہٰذا ان کے ساتھ گہرے تعلقات اور دوستی نہ رکھی جائے۔

وقوله تعالیٰ:يايها الذين اٰمنو لاتتخذو اليھودوالنصارىٰ اولیآءاى لا تعتمدواعليهم ولا تعاشروهم معاشرة الاحباب(بعضهم اولياء بعض)ايماء الى علة النهى يعنى انهم متفقون على خلافكم واضراركم وتوالى بعضهم بعضا لاتحادهم فی الدين

(تفسير مظہری:جلد 3 صفحہ 156)

ان الرافضى ان كان ممن يعتقد الالوهية فی على اوان جبرائيل غلط فى الوحى اوكان ينكر صحبة الصديق او يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة بخلاف ما اذا كان يفضل عليا او يسب الصحابة فانه مبتدع لا كافر كما اوضحته في كتابى تنبيه الولاة والحكام على احكام الشاتم خير الانام او احد اصحابه الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام۔(شامی جلد2 صفحہ314)

و منها ان يكون مسلما اوكتابيا فلا تؤكل ذبيحته اهل الشرك والمرتد: (هندية:جلد 5 صفحہ 285)(ارشاد المفتين:جلد1 صفحہ 346)

  • 18):- حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؓ فرماتے ہیں کہ:کفار، اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں۔مؤمن، اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں،اللہ تعالیٰ کا دوست اللہ تعالی کے دشمنوں سے دوستی کیونکر کر سکتا ہے؟ کفار سے دوستی کی ممانعت کی آیات کئی ہیں۔ان میں ایک یہ ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُواالْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ اے ایمان والو!مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ۔

(فتاویٰ ختمِ نبوت: جلد1صفحہ 680) 

  • 19): امام ربانی، مجددالف ثانی سرہندیؒ فرماتے ہیں کہ:دو محبتیں جو ایک دوسرے سے ضد ہوں،ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں، کیونکہ اجتماعِ ضدین محال ہے، اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی دل میں محبت ہوگی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکے دشمنوں کی محبت دل میں نہیں آسکتی۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں کی جتنی دوستی ومحبت دل میں آئے گی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اتنی ہی کم ہو جائے گی۔

(مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر 165:جلد1)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

کافروں کے ساتھ جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے دشمن ہیں، دشمنی رکھنی چاہیئے،اور ان کو ذلیل و خوار کرنے میں کوشش کرنی چاہیئے ، اور کسی طرح ان کی عزت نہیں کرنی چاہیئے ، اوران بدبختوں کو اپنی مجلس میں نہیں آنے دینا چاہیئے۔ (مکتوب:جلد1 صفحہ 165)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

اسلام کی عزت اس میں ہے کہ کفروکفار کو خوار و ذلیل کیا جائے۔جو شخص کفر والوں کی عزت کرتا ہے، حقیقت میں مسلمانوں کو ذلیل کرتا ہے ۔ 

(مكتوب جلد 1 صفحہ163)

  • 20):حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ فرماتے ہیں کہ:جو شخص حضور اکرمﷺ کے دشمنوں سے دوستی رکھے،اس کو سوچنا چاہیئے کہ حضورﷺ کو کیا منہ دکھائے گا۔

(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد2صفحہ 119)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 5 از 17