حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 6 از 17

اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دشمنی رکھو، اللہ تعالیٰ کے دوستوں سے محبت رکھو۔ اگر اللہ تعالیٰ کے دوستوں سے دوستی نہیں تو تمہارے پاس محبت نہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دشمنی نہیں تو تمہارے پاس غیرت نہیں ہے، اور یہ دونوں علامتیں ہیں ضعف ایمان کی اور اللہ تعالیٰ سے کمزور تعلق کی غرض یہ کہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ عادوا اعدانہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دشمنی رکھو۔ 

اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہو؟ اور تمہیں معلوم ہے کہ دشمن سے دوستی رکھنے والا دشمن ہوتا ہے، اور دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ گویا تم اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دوستی کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنی دشمنی کا اعلان کرتے ہو۔ تم اپنے دنیاوی تعلقات میں ایسے لوگوں سے تو قطع تعلق کر لیتے ہو جو تمہارے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہوں تم ان کے یہاں نہیں جاتے، کیونکہ وہ فلاں فلاں سے تعلق رکھتا ہے جس کے ساتھ تمہارے تعلقات کشیدہ ہیں، تمہاری انا اس کو برداشت نہیں کرتی کہ تم اپنے دشمنوں کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے تعلق رکھو تو ذرا سوچو کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت اس چیز کو کیسے برداشت کرے گی کہ تم اس کے دشمنوں سے تعلق رکھو۔

(اصلاحی مواعظ جلد1صفحہ216)

  • 21):حضرت مولانا عبد القیوم حقانی صاحب فرماتے ہیں کہ 31 اگست 1987ءکو حسبِ معمول عصر کے وقت حضرت مولانا عبد الحق حقانی صاحبؒ کی مجلس میں حاضر تھا کہ اچانک لاہور سے مولانا فضل الرحیم صاحب اپنے رفقاء کی ایک جماعت کے ساتھ حاضر خدمت ہوئے ۔ مصافحہ اور رفقاء کے تعارف کے بعد مولانا فضل الرحیم صاحب نے جب مکہ مکرمہ کے حالیہ افسوس ناک سانحہ پر شیعوں کے ناپاک عزائم کا تذکرہ کیا تو حضرت مولانا عبد الحق حقانی صاحبؒ نے فرمایا:جی ہاں!تفصیلات احباب نے سنائی ہے۔

 اب شیعہ کی خباثتیں عالمی سطح پر ظاہر ہورہی ہیں،

 اب تو اہلِ اسلام کو حضورا کرم ﷺ کے ارشاد گرامی کہ:صحابہ کی شان میں تنقیص کرنے والوں سے اجتناب کیا جائے پر عمل کرنا چاہئیے مگر اس پر مجھے تعجب ہے کہ شیعہ لوگ تو بیت اللہ شریف کو منہدم کرنے اور حجرۂ اسود کو چرانے اور شعائر اللہ کی توہین کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مگر ہمارے بعض نادان دوست انہیں گلے لگا رہے ہیں۔

( دفاعِ صحابہؓ اور علماء دیوبندصفحہ191)

  • 22): حضرت مولانا مفتی رضاءالحق صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:کفار سے قلبی دوستی کرنا جائز نہیں، وہ نص قطعی سے ممنوع محظور ہے۔

(فتاویٰ دار العلوم زكرياجلد 8 صفحہ159)

  • 23): فقیہ العصر مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحبؒ فرماتے ہیں:

بعض سادہ لوح مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ شیعہ ہے، اس کے ساتھ ہمارے بہت پرانے تعلقات ہیں، فلاں شیعہ ہمارا ہم جماعت ہے، فلاں شیعہ کاروبار میں شریک ہے اس لئے اس کے ساتھ دوستی ہے، اس سے تعلقات ختم کرنا بہت مشکل ہے، مروت کے سخت خلاف ہے۔ایسے لوگ یہ بتائیں کہ اگر کوئی آپ کی ماں،بیٹی اور بیوی کو فاحشہ،زانیہ و بدکار کہے، تو آپ کس مروت کی وجہ سے اس کے ساتھ تعلقات رکھ سکتے ہیں؟ شیعہ مردود تمام مسلمانوں کی ماں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی شان میں ایسی بکواس کرتے ہیں، جبکہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی پاک دامنی و پاک بازی کا اعلان اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے، مگر یہ مردود (شیعہ) اللہ تعالیٰ اور قرآن کی تکذیب کرتے ہیں۔

سیدہ عائشہ صدیقہؓ كون ہیں؟

1): پوری امت کی ماں ازواجِ مطہراتؓ میں سب سے افضل

2): حضوراکرم ﷺ کی بہت چہیتی بیوی سب بیویوں سے زیادہ مقرب۔

3):پوری امت میں سب سے افضل اور حضوراکرمﷺ کے سب سے زیادہ مقرب خلیفہ اوّل سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی بیٹی۔

اب آپ سوچیں!

کہ آپ اپنی ماں، دونوں جہانوں کے سردار کی بیوی ، اور پوری امت میں افضل ترین شخصیت کی بیٹی کے حق میں ایسی بکواس کرنے والے،اللہ تعالیٰ اور قرآن کو جھٹلانے والے، پوری امت کی ماں کو بدکار کہنے والے حضور اکرم ﷺ سیدنا حضرت صدیقِ اکبرؓ اور پوری امت کو معاذ اللہ دیوث کہنے والے بدبختوں سے تعلقات رکھنا کیسے گوارا کر لیتے ہیں؟

 آپ بتائیں!

کیا ایسا شخص انتہائی بے دین ہونے کے علاوہ انتہائی بے غیرت اور دیوث نہیں؟ایمان اور غیرت دونوں کا جنازہ نکل گیا ہے۔ اگر آپ ویسے کسی شیعہ سے تعلقات منقطع کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے تو اس کی ماں، بیٹی اور بیوی کو بدکار کہے پھر دیکھیں وہ آپ سے تعلق رکھے گا؟ حالانکہ ان کے مذہب میں متعہ جیسی بدکاری تو بہت بڑا ثواب ہے، اس کے باوجود بدکاری کی تہمت تو در کنار متعہ بازی کا طعنہ بھی ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

(احسن الفتاوٰى: جلد 10صفحہ40)

  • 24): حضرت مولانا مفتی محمد عبد السلام چاٹگامی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ کفارومشرکین کے اعتقاد میں نجاست ہے اس لئے ان سے نفرت رکھنا ضروری ہے اور ان سے قلبی تعلق و دوستی اور محبت رکھنا درست نہیں۔(جواهر الفتاوٰى:جلد 5 صفحہ 184)
  • 25):حضرت مولانا مفتی غلام الرحمٰن صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:

کوئی مسلمان کسی کافر کے ساتھ موالات یعنی قلبی محبت اور تعلق نہ رکھے گا۔ ارشاد باری تعالٰی ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ :اے ایمان والو تم یہود و نصارٰی کو دوست مت بناؤ۔

(فتاویٰ عثمانیه:جلد 10 صفحہ 327)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا منع ہے۔

(فتاویٰ عبادالرحمٰن جلد 7صفحہ 208)

  • 26):حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ کسی کافر مرد یا عورت کو بھائی یا دوست بنانا جائز نہیں۔ قرآن کریم میں غیر مسلموں سے دوستی کرنے کو واضح طور پر منع فرمایا گیا ہے۔

قال الله تعالیٰ: 

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةًؕ-وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ(سورۃ آل عمران 28)

صفحہ 6 از 17