حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 7 از 17

 ترجمہ: مؤمن،کافروں کو دوست نہ بنائیں مسلمانوں کے علاؤہ اور جو شخص ایسا کرے گا پس نہیں ہیں وہ اللہ تعالٰی کے سامنے کسی چیز میں مگر یہ کہ تم ان کافروں سے بچاؤ اختیار کرو۔ اور اللہ تعالیٰ تم کو ڈراتا ہے اپنے سےاور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اور تمام مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔غیر مسلم اورمسلم آپس میں ایک دوسرے کے دوست نہیں ہو سکتے ۔

(فتاویٰ دار العلوم کراچی جلد6صفحہ90)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

کفار کے ساتھ دوستی جائز نہیں، چنانچہ قرآن کریم نے تنبیہ کر دی ہے 

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(سورۃ المائدہ 51)

ترجمه: اے ایمان والو امت بناؤ یہود و نصاریٰ کو دوست،وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے، اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں سے ہے اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(سورۃالمائدہ57)

 ترجمه:اے ایمان والو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور کافر ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو۔

اس آیت میں ہر قسم کے کفار سے دوستی کو صراحت کے ساتھ منع کر دیا گیا ہے۔ 

(فتاویٰ دار العلوم کراچی:جلد 6 صفحہ92)

 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

قرآن کریم کی متعدد آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی کو منع فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں،اور اللہ تعالیٰ کا دشمن ہمارا دوست نہیں ہو سکتا۔ ایک آیت قرآنیہ یہ ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(سورۃالمائدہ57)

ترجمہ:اے ایمان والو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور کافر ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو۔

لہذا کافروں کے ساتھ دوستی جائز نہیں۔ اسی طرح ایسے شخص سے بھی دوستی ممنوع ہے جس کی دوستی اور محبت سے اپنے دین کے نقصان کا خطرہ ہو۔

(فتاویٰ دار العلوم کراچی جلد 6 صفحہ199)

  • 27):حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں ضروری ہے کہ ان پر دین کی محبت تمام محبتوں،یہاں تک کہ خونی رشتوں پر بھی مقدم ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے:

يٰۤاَ يُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَكُمۡ وَاِخۡوَانَـكُمۡ اَوۡلِيَآءَ اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡـكُفۡرَ عَلَى الۡاِيۡمَانِ‌ ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ(سورۃ التوبة 23)

ترجمہ:اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ بھائی کفر کو ایمان کے مقابلے میں ترجیح دیں تو ان کو اپنا سرپرست نہ بناؤ ۔ اور جو لوگ ان کو سرپرست بنائیں گے وہ ظالم ہوں گے۔

اسی لئے کسی مسلمان کے لئے قطعاً اس بات کی گنجائش نہیں ہو سکتی کہ وہ کسی بھی دوسرے تعلق پر دین سے تعلق کو قربان کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین کیلئے اپنے وطن میں رہ کر دینِ حق پر عمل کرنا مشکل ہو گیا تو انہیں وہاں سے ہجرت کر جانے کا حکم دیا گیا۔ حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کی ہجرت کے واقعات قرآن مجید میں تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ نیز تحفظ دین کیلئے مسلمانوں کو بھی مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم فرمایا گیا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُلۡ اِنۡ كَانَ اٰبَآؤُكُمۡ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ وَاِخۡوَانُكُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ وَعَشِيۡرَتُكُمۡ وَ اَمۡوَالُ ۨاقۡتَرَفۡتُمُوۡهَا وَتِجَارَةٌ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَ جِهَادٍ فِىۡ سَبِيۡلِهٖ فَتَرَ بَّصُوۡا حَتّٰى يَاۡتِىَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ (سورۃ التوبة 24)

ترجمہ:(اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ:اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔

( غیر مسلم معاشرہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے روابط صفحہ20) 

28): حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ:مؤمن اور غیر مؤمن آپس میں دوست اور ولی نہیں ہو سکتے،

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةًؕ-وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ(سورۃ آل عمران 28)

 ترجمہ: مؤمن،کافروں کو دوست نہ بنائیں مسلمانوں کے علاؤہ اور جو شخص ایسا کرے گا پس نہیں ہیں وہ اللہ تعالٰی کے سامنے کسی چیز میں مگر یہ کہ تم ان کافروں سے بچاؤ اختیار کرو۔ اور اللہ تعالیٰ تم کو ڈراتا ہے اپنے سےاور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

نیز ایک اورجگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

صفحہ 7 از 17