حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 8 از 17

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(سورۃ المائدہ 51)

ترجمه: اے ایمان والو امت بناؤ یہود و نصاریٰ کو دوست،وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے، اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں سے ہے اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو۔

 (فقہی مقالات:جلد 6 صفحہ 164)

  • 29_ حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ فرماتے ہیں کہ فرقہ آغا خانیہ باجماع المسلمین کافر ہے اور زندیق کے احکام ان پر جاری ہوں گے، اس لئے کہ ہر وقت وہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو نقصان پہنچے ، وہ کبھی مسلمانوں کے خیرخواہ نہ اس سے پہلے رہے ہیں اور نہ اب مسلمانوں کے خیرخواہ ہیں بلکہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور دھو کہ دینا ان کے نزدیک عین عبادت اور کارِ ثواب ہے۔ چنانچہ ابن کثیر نے البدايه والنهاية میں لکھا ہے کہ: تاتاریوں نے جب دمشق پر حملہ کیا تھا تو اُن اسماعیلیوں نے اُن کا ساتھ دے کر مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنے کی ناکام کوشش کی تھی،چنانچہ یہ فرقہ بھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ اور رسولﷺکا دشمن ہے ۔

تو اب ظاہر ہے کہ ایک مسلمان کیلئے کس طرح ان سے دوستی یا ان کے فاؤنڈیشن یا ان کی کسی انجمن میں شرکت جائز ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے بھی قطعی یہ حرام کیا ہے۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ؕ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ (سورۃ المجادلة22)

ترجمہ:جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے د لوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے، اور انہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔ یہ اللہ کا گروہ ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّىۡ وَعَدُوَّكُمۡ اَوۡلِيَآءَ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُوۡا بِمَا جَآءَكُمۡ مِّنَ الۡحَـقِّ‌ ۚ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ‌ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ ؕ اِنۡ كُنۡـتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِىۡ سَبِيۡلِىۡ وَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِىۡ ‌ۖ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ ‌ۖ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ (سورۃ الممتحنة1)

ترجمہ:اے ایمان والو ! اگر تم میرے راستے میں جہاد کرنے کی خاطر اور میری خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (گھروں سے) نکلے ہو تو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ایسا دوست مت بناؤ کہ ان کو محبت کے پیغام بھیجنے لگو، حالانکہ تمہارے پاس جو حق آیا ہے، انہوں نے اس کو اتنا جھٹلایا ہے کہ وہ رسول کو بھی اور تمہیں بھی صرف اس وجہ سے (مکے سے) باہر نکالتے رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم ان سے خفیہ طور پر دوستی کی بات کرتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم خفیہ طور پر کرتے ہو، اور جو کچھ علانیہ کرتے ہو، میں اس سب کو پوری طرح جانتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی بھی ایسا کرے، وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔

وقال الله تعالیٰ:

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمؕۡ مَّا هُمۡ مِّنۡكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡۙ وَيَحۡلِفُوۡنَ عَلَى الۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ المجادلة14)

ترجمہ:کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا ہوا ہے جن پر اللہ کا غضب ہے ؟ یہ نہ تو تمہارے ہیں اور نہ ان کے، اور یہ جانتے بوجھتے جھوٹی باتوں پر قسمیں کھا جاتے ہیں۔

ان آیتوں سے صراحتاً معلوم ہواکہ مشرکین اور دین و دشمن طبقہ سے دوستی رکھنا جائز نہیں اور نہ ان سےمالی امداد ہدیہ سمجھ کر قبول کرنا جائز ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے زکر فرمایا ہے کہ انہوں نے مشرکین کے ہدیہ کو قبول نہیں فرمایا:

فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ فَمَاۤ اٰتٰٮنِۦَ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰٮكُمۡ‌ۚ بَلۡ اَنۡـتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ‏ (سورۃ النمل36)

ترجمہ:چنانچہ جب ایلچی سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : کیا تم مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے، البتہ تم ہی لوگ اپنے تحفے پر خوش ہوتے ہو۔

بعض مرتبہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:انی لا اقبل ھدیۃ مشرک اور انی نهيت عن هدية المشركة: اور ان کی امداد قبول کرنا بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ درِ حقیقت نہ ہدیہ ہے اور نہ امداد بلکہ مسلمانوں کو گمراہ اور بے دین بنانے کی سازش ہے جو عیسائیوں کی طرز پر چلائی جارہی ہے۔

حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے ابوبکر رازیؒ کے احکام القرآن کے حوالے سے لکھا ہے کہ: وقولهم في ترك قبول توبة الزنديق يوجب ان لايستتاب الاسماعيلية وسائر الملحدين الذين قدعلم منهم اعتقاد الكفر كسائر الزنادقة وان يقتلوا مع اظهارهم التوبة

(احکام القرآن:جلد 1 صفحہ 54)

صفحہ 8 از 17