حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں…

حکمرانوں! شیعہ پاکستان کے اور آپ کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 9 از 17

جب اسلام کی نظر میں ان کی توبہ اور اسلام بھی قبول نہیں تو ظاہر ہے کہ نہ ان سے مالی فوائد بصورت امداد و ہدیہ لینا جائز ہے اور نہ ان کی فاونڈیشن اور انجمن میں شرکت جائز ہے۔ دیگر کفار کی امداد پر بھی اس کو قیاس نہیں کیاجا سکتا، کیونکہ وہ امداد حکومتی سطح پر ملتی ہے اس سے عام مسلمانوں کی زندگی اور دین کے متاثر ہونے کا خطرہ نہیں ہے جبکہ مذکورہ امداد سے عام مسلمانوں کی انفرادی زندگی متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے اور مسلمانوں کے مرتد اور زندیق بننے کا قوی احتمال ہے۔ لہٰذا ان کے ساتھ شرکت اور ان کی امداد قبول کرنا حرام ہے۔

قال النبيﷺ:من كثر سواد قوم فهو منهم : علماء اور عام دینداروں پر اس کا تدارک فرض ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہوں گے۔

(تاریخِ شیعیت:جلد 2 صفحہ 695)

  • 30):حضرت مولانا مفتی محمد جعفر علی رحمانی صاحب فرماتے ہیں کہ:غیر مسلموں کو اپنا دوست اور راز دار نہ بنائے،اور نہ ہی انہیں مسلمانوں پر کسی اعتبار سے فوقیت دے، نیز ان کی طرف قلبی میلان بھی نہ ہو۔

( محقق و مدلل جدید مسائل جلد1صفحہ 519) 

  • 31):حضرت مولانا مفتی اسماعیل کچھولوی صاحب فرماتے ہیں کہ:کفار کے ساتھ اتنا گہرا تعلق نہیں ہونا چاہیئے کہ آیت شریفہ:لَایَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ کی ممانعت میں داخل ہو جائے ۔

(فتاویٰ دينيه:جلد 5 صفحہ127)

خواجہ غلام حسن سواگ صاحبؒ کھل کر حق بات بیان کرتے تھے کبھی کسی دنیا دار سے مرعوب نہ ہوئے اور نہ ہی کسی کو خاطر میں لاتے،دینی غیرت و حمیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،حضرت خواجہ صاحبؒ کے صاحبزادہ محمد حسن صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ پیر سواگ فرماتے ہیں کہ:

ایک مرتبہ دورانِ سفر سخت پیاس لگی تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ ایک کنواں ہے مگر اس کا مالک بُغضِ صحابہؓ کی آگ میں جلنے والا ایک بد بخت ہے۔گو کنویں کا پانی تو پاک تھا لیکن خواجہ صاحبؒ کی حمیت اور غیرت نے گوارہ نہ کیا کہ وہ صحابہ کرامؓ کے دشمن کے کنویں سے پانی پی لیں۔باوجو دسخت پیاس کے حضرت صاحبؒ نے پانی نہ پیا اور پیاسے ہی روانہ ہو گئے۔ (سبحان الله)

ایک روز حضرت صاحبؒ نے ارشاد فرمایا کہ ہندو کے کنویں پر نماز پڑھو اور پانی بھی پیئو، مگر شیعہ کے کنویں پر نہ نماز پڑھو نہ پانی پیئو۔کیونکہ شیعہ کا ایمان سیدناابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمرؓ کے سبّ کرنے سے جل جاتا ہے۔البتہ ہندو میں استعداد ہے کہ وہ ایمان لے آئے مگر شیعہ سے یہ امید نہیں کہ وہ ایمان دار بن جائیں، کیونکہ وہ سب کرنے کو ایمان جانتے ہیں، لہٰذا ان کا ایمان جل جاتا ہے۔ اور یہ منکرِ صحتِ قرآن ہیں۔ اگر ہو سکے تو شیعہ کے قدم پر قدم نہ رکھو۔

(فيوضات حسنیه:صفحہ182)

  • 32):امام حرم مسجد نبوی شیخ عبد الرحمٰن الحذیفی صاحب فرماتے ہیں کہ: اہلِ سنّت اور شیعہ کا آپس میں کیا جوڑ؟اہلِ سنتّ تو حاملینِ قرآن و حاملینِ حدیث ہیں،انہیں کے ذریعہ تو اللہ تعالیٰ نے دین کی حفاظت فرمائی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی سربلندی کیلئے جہاد کیا اور سنہری تاریخ رقم کی۔ جبکہ دوسری طرف روافض (شیعہ) کا یہ حال ہے کہ وہ صحابہ کرامؓ پر لعنت بھیجتے ہیں اور یوں دینِ اسلام کی بنیادیں کھوکھلی کرتے ہیں۔ اس لئے صحابہ کرامؓ تو وہ حضرات ہیں جنہوں نے دین ہم تک پہنچایا۔ سو جو شخص ان حضرات پر لعن طعن کرے وہ اسلام کو ڈھائے گا۔ 

یہ لوگ (شیعہ)اسلام کے حق میں یہودو نصاریٰ سے زیادہ خطرناک ہیں،ان پر کبھی بھی کسی طرح بھروسہ نہیں کیا جا سکتا،بلکہ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ ہر وقت ان سے چوکنا رہیں اور ان کی گھاٹ میں بیٹھے رہیں۔

(حرمین کی پکار صفحہ33) 

  • 33): مدرسه عربيه دار السلام قائم پور کا فتویٰ  

قادیانیوں کی طرح شیعہ اثناءعشریہ پر شرعاً حکم تکفیر و زندقہ ہے۔ہمارے اکابرین و محققین کا مذہب یہی ہے۔آج کے دور میں دین کے نام پر ان کو دینی مدارس اور دینی جماعتوں کے اتحاد میں شامل کرنے والے اپنے فعل کے خود ذمہ دار ہیں۔ ان کا یہ اتحاد شرعی طور پر کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔اس اتحاد سے عوام کو دھوکہ میں نہیں پڑنا چاہئیے۔حضورﷺ کے صحابہؓ کے گستاخوں کے ساتھ کسی طرح محبت اور دوستی کے تعلق کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ (فتویٰ امام اہلِ سنّت مع تائید علمائے اہلِ سنّت صفحہ62)

  • 34):دار العلوم حق چار یارؓ، زنڈہ باندڈہ ڈاکخانہ رسالپور ضلع نوشہرہ کا فتویٰ

شیعہ اثناء عشریہ اپنے کفریہ عقائد مثلاً : افکِ سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور تحریفِ قرآن جیسے عقائد کی بناء پر کافر ہیں۔شیعہ وغیرہ جملہ کفار سے دلی دوستی رکھنا تو شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔ (فتویٰ امام اہلِ سنّت مع تائید علمائے اہلِ سنّت:صفحہ147)

  • 35):فضيلة الشيخ ممدوح الحربی فرماتے ہیں کہ شیعہ کے نزدیک سنیوں کی اموال پر قبضہ کرنا جائز ہے:

شیعہ امامیہ، اہلِ سنّت جنہیں وہ ناصبی کہتے ہیں،کی املاک وثروت کو اپنے لئے حلال قرار دیتے ہیں شیعی ائمہ اور ان کے علماء اپنے پیرو کاروں کیلئے اہلِ سنّت کے اموال پر قبضہ کرلینے کو مباح قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں جب بھی موقع ملے یا جس وقت ان کے ایسا کر گزرنے کیلئے سازگار حالات میسر ہوں کسی قسم کی جھجھک یا تردد کے بغیر ناصبیوں(یعنی سنیوں) کے مال و جائیداد کو ہتھیا سکتے ہیں۔ان کے امام طوسی نے اپنی کتاب تهذیب الاحکام کے جلد 1صفحہ نمبر 384 لکھا ہے: 

خذ مال الناصبي حيثما وجدته وادفع الينا الخمس: تجھے ناصبی( یعنی سنی)کا مال جہاں سے بھی ملے قبضہ کرلے اور اس کا خمس ہمارے سپرد کر دے۔ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے 

مال المناصب وكل شيء يملكه حلال

ناصبی کا مال اور اس کی ہر مملوکہ شئ حلال ہے۔

(اثناء عشریہ عقائد و نظریات کا جائزہ اور گھناؤنی سازشیں109)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ شیعوں کے نزدیک تمام اسلامی فرقے کافر اور مرتد ہیں:

صفحہ 9 از 17