سپاہِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا پیغام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سپاہِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا پیغام

  مولانا محب اللہ قریشی

صفحہ 2 از 2

 جولائی 1988ء میں جب تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ عارف اللّٰه حسینی قتل کر دیئے گئے تو ایرانی ذرائع ابلاغ میں ایک ہلچل مچ گئی اور پاکستان کے شیعہ لیڈروں اور ایرانی حکمرانوں نے کھل کر الزام لگایا کہ حسینی کے قتل کے ذمہ دار ضیاء الحق ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان تمام واقعات کے نتیجہ میں ضیاء الحق کو ختم کرنے کی کوششیں تیز تر کر دی گئیں ۔ یقیناً اس کیلئے منصوبہ بندی یا تو تہران میں یا اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانہ میں ہوئی ہوگی۔

خبروں کے مطابق جنرل ضیاء الحق کے طیارے کو تباہ کرنے کی سازش دو ہفتے قبل تیار کر لی گئی تھی

 اگرچہ ان کے بہاولپور کے دورہ کی خبر خفیہ رکھی گئی تھی،جس کا کمشنر بہاولپور کو بھی علم نہ تھا لیکن سازشی عناصر( شیعہ دہشت گرد) اس دورے سے دو ہفتہ قبل ہی باخبر ہوچکے تھے اوران کو باقاعدہ منصوبہ بندی کیلئے کافی وقت بھی مل گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق جہاز کے کپتان مشہور حسین نے طیارے میں سوار ہونے سے پہلے ٹیلیفون پر اپنے باپ سے گفتگو کی اور درخواست کی کہ وہ اس کی شہادت کے لئے دعا کریں۔

خبروں میں بتایا گیا کہ 17 اگست 1988ء کو صبح سے ہی بہاولپور میں بعض شیعہ یہ افواہیں پھیلا رہے تھے کہ آج کچھ ہونے والا ہے۔ پھر جب یہ بدقسمت طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا تو ان لوگوں نے خوشی منائی،مٹھائی بانٹی اور رات بھر رقص کرتے رہے خبروں میں یہ بھی بتایا گیا کہ جب صدر ضیاء الحق کی شہادت کی خبر اسلام آباد پہنچی تو پورا شہر دم بخود رہ گیا۔ لیکن ایک پڑوسی ملک(ایران) کے سفارتخانے کے افراد ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔ انہوں نے جشن منانے کا انتظام کیا،جس میں ہم خیال پاکستانیوں کو بھی مدعو کیا گیا،جہاں مہمانوں کی شراب و کباب سے تواضع کی گئی اور ناؤونوش کاسلسلہ صبح تین بجے تک جاری رہا۔

یہ خبر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ آغا ذوالفقار (جو طیارہ میں سوار تصور کئے گئےتھے ) کا نام بھی شروع میں مردہ لوگوں کی فہرست میں شامل تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ شخص آخری وقت میں طیارے سے کھسک گیا تھا اور زندہ ہے۔

جون1991ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت امریکہ سے مطالبہ کرے گی کہ وہ ایک پاکستانی شیعہ کو ان کے حوالے کر دے۔ واضح رہے کہ یہ شیعہ،ضیاء الحق کے طیارہ کے جائے حادثہ کے نزدیک بستی لال خان سے گرفتار کیا گیا تھا،اس کے پاس بہاولپور ائیرپورٹ کے فضائی نقشے اور جہاز کے انجن کے خاکے موجود تھے،وہ کچھ عرصہ جیل میں رہا لیکن پھر پاکستان کی اُس وقت کی حکومت نے اسے آزاد کر کے امریکہ بھیج دیا۔

(ایران افکار و عزائم صفحہ نمبر 92 تا 95)

⁷- 1985ءمیں ایرانی صدرخامنہ ای کے لاہور آنے پر پاکستانی شیعوں نےجس سرکشی اور ملک دشمنی کا مظاہرہ کیا تھا وہ پوری قوم کے لئے باعث شرم ہے اور اس کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ اور اس مظاہرے سے صاف ظاہر ہوا ہے کہ پاکستانی شیعه، ملک دشمنی اورایران نوازی میں کسی حد تک آگے جاچکے ہیں۔

 ⁸- تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پاس سرکاری اور

 غیرسرکاری دفتروں میں شیعہ کارکنوں کی فہرستیں اور مکمل تفصیلات موجود ہیں۔یہ شیعہ کارکن حکومت کی ایسی باتوں اور فیصلوں سے جن کا تعلق شیعوں سے ہو تحریک کو مطلع کرتے رہتے ہیں اور تعلیمی اور مذہبی حکمت عملی مرتب کرتے وقت تحریک کے فیصلوں کی پیروی کرتے ہیں۔پاکستان میں فوجی اور غیر فوجی محکموں میں یہاں تک کہ پولیس اور خفیہ اداروں میں بھی تقریباً ہر حساس کلیدی عہدے پر شیعہ فائز اور قابض ہیں اور ان کو تمام شیعوں میں بالا دستی حاصل ہے۔اسی وجہ سے ایران کیلیئے پاکستان کی سیاست میں نہ صرف دخل اندازی ممکن ہو گئی ہے بلکہ ایران کیلیئے اس ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی بھی کروانا آسان ہوگیا ہے۔ یہاں تک کہ ان واقعات کی تحقیقات کو توڑنا مروڑنا اور بے نتیجہ بنانا بلکہ سرے سے دبانا بھی ممکن ہو گیا ہے۔اب پاکستان کا کوئی حساس منصوبہ اور سلامتی کا راز ایران سے پوشیدہ نہیں ہے اور بھارت سے ایران اس کی قربت کے پیشِ نظر پاکستان کیلئے یہ صورت حال بہت خطرناک ہے۔ 

(ایران افکار و عزائم صفحہ84)

⁹-معلوم ہوا ہے کہ ایران نے چند مخصوص پاکستانی شیعوں کو ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹری کہوٹہ میں داخل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ پاکستان کے ایٹمی راز حاصل کیے جاسکیں ، پتہ نہیں کیا نتیجہ نکلا،یقین ہے کہ اس وقت بھی کچھ تقیہ باز افراد وہاں اس مقصد کے لئے موجود ہو۔

 (ایران افکار و عزائم صفحہ 5)


صفحہ 2 از 2