شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید
محمد علیکتاب الاول
شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید
"سہم مسموم" نامی کتاب میں غلام حسین نجفی نے ایک حوالہ پیش کرنے سے قبل لکھا۔
شرح ابنِ ابی الحدید: اہلِ سنت کی معتبر کتاب میں لکھا ہے:
رَوَی الزّہرِی اَنَّ عُروَةَ بن الزُبَیر حَدثهُ قَالَ حَدَّثَنِی عَائِشَةُ قَالَت کُنتُ عِندَ رَسُولِ اللہﷺ اِذَا قَبِلَ العَبَّاسُ وَ عَلِیٌّ فَقَالَ یَاعَائِشَةَاِنَّ ھٰذَین یَمُوتَانِ عَلٰی غَیرِ دِینِی۔
(سہم مسموم: صفحہ 102 متبوعہ لاہور)
ترجمہ: عروہ نے عائشہ سے روایت کی کہ میں ایک دن نبیﷺ کے پاس تھی اور عباس اور علی آئے نبی کریمﷺ نے فرمایا اے عائشہ یہ دونوں میرے دین پر نہ مریں گے۔ حوالہ اور اس کی عبارت آپ نے ملاحظہ کی۔
پھر"اہلِ سنت کی معتبر کتاب" سے جب یہ حوالہ پیش کیا گیا ہے تو ہر قاری یہی سمجھے گا کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو سیدنا علیؓ اور سیدنا عباسؓ سے انتہائی بغض و عداوت تھی اور اسی عداوت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ان دونوں کو حضورﷺ کے دین پر مرنے کے بجائے کسی اور دین پر مرنا ثابت کیا ہے۔ لہٰذا شیعہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سنی جس شخصیت کو "ام المؤمنین" اور امت کی نیک ترین عورت کہتے ہیں اس کا باب العلم اور علمبردار سیدنا حسینؓ کے بارے میں یہ خیال ہے کہ اب اس ڈھول کا پول ہم کھولتے ہیں اور شیعہ علماء کی زبانی اس کتاب کے بارے میں بتلاتے ہیں کہ یہ کس طرح "اہلِ سنت کی معتبر کتاب ہے" ملاحظہ ہو:
ابنِ ابی الحدید تشیع پسند ہے شیخ عباس قمی
الکنی والاقاب: (ابن ابی الحدید) عز الدین عبدالحمید بن محمد بن محمد بن الحسین بن ابی الحدید المدائنی الفاضل الادیب المورخ الحکیم الشاعر شارخ نہج البلاغة المکرمة وصاحب القصائد السبع المشہورو کان مذھبه الاعتزال کما شھد لنفسه فی احدی قصائدہ فی مدح امیرالمؤمنین ع بقولہ
ورایت دین الاعتزال واننی
اھوی لاجلك کل من یتشیع
(الکنی والاقاب: جلد اول صفحہ 193 مطبوعہ تہران طبع جدید)
ترجمہ: عزالدین عبدالحمید بن محمد بن الحسین بن ابی الحدید المدائنی الفاضل الادیب المؤرخ الحکیم الشاعر نہج البلاغہ کا شارخ ہے اور سات مشہور قصیدوں کا قائل ہے۔ مذہب کے اعتبار سے معتزلہ تھا۔ جیسا کہ اپنے بارے میں خود اسے معتزلہ ہونے کا اقرار ہے اور یہ اقرار اس نے ایک قصیدہ میں کہا ہے جو اس نے سیدنا علی مرتضیٰ کی شان میں کہا" اور میں اپنے آپ کو معتزلہ سمجھتا ہوں اور میں آپ کی وجہ سے ہر شیعہ کہلانے والے کو دل سے چاہتا ہوں"
نوٹ: ابن ابی الحدید کا باوجود معتزلی ہونے کے "تشیع" کو پسند کرنا اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ شخص جن لوگوں میں زندگی بسر کر رہا تھا وہ معتزلی ہوتے ہوئے تشیع کو اپنائے ہوئے تھے بلکہ تشیع ان کے لیے ضروری تھا اور اس کا ثبوت ابن ابی الحدید کے مقدمہ میں یوں مذکور ہے۔
ابنِ ابی الحدید معتزلی شیعہ تھا مقدمہ کتاب
مقدمہ شرح ابنِ ابی الحدید: ولد فی المدائن فی غرۃ ذی الحجۃ سنة ست وثمانین وخمسمائة ونشابھا وتلقی عن شیوخھا و درس المذھب الکلامیة ثم مال الی مذھب الاعتزال منھا وکان الغالب علی اھل المدائن التشیع والتطرف والمقالاة فسار فی دربھم وتقبل مذھبھم ونظم القصائد المعروفة بالعلویات علی طریقتھم وفیھا غالی وتشیع وذھب بہ الاسراف فی کثیر من ابیاتھا کل مذھب یقول فی احداھا۔
ورایت دین الاعتزال واننی
اھوی لاجلك کل من تشیع
(شرح ابن ابی الحدید تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم الجزء الاول صفحہ 14 مقدمہ نوٹ 12 جلدوں میں جو شرح ابن حدید چھپی ہے اس کے مقدمہ میں مذکورہ عبارت موجود ہے)
ترجمہ: ابنِ ابی الحدید مدائن میں پیدا ہوا۔ اس کا سن پیدائش 586 ہجری ہے اور مدائن میں پرورش پائی اور اسی کے شیوخ سے استفادہ کیا۔ اور مذہب کلامیہ پڑھا پھر اعتزال کی طرف پلٹ گیا ان دنوں اہلِ مدائن میں شیعیت غالب تھی اور اس بارے میں غلو اور ادھر ادھر کی بہت سی باتیں ان میں موجود تھیں اس نے بھی ان کی روش اختیار کی۔
"اور ان کے مذہب کو اپنا لیا اس نے "علویات" نامی مشہور قصیدے بھی لکھے۔ جن میں اہلِ مدائن کے معتقدات بھی بیان کیے اور ان میں اس نے غلو بھی کیا ہے اور تشیع کا اظہار بھی۔ ان قصاعد میں بہت سے اشعار میں مذہب اعتزال کا اعتراف میں اظہار کیا۔ اسی کا ان قصائد میں بھی ایک شعر یہ بھی ہے۔
"میں نے مذہب اعتزال اختیار کیا اور تیری وجہ سے ہر اس شخص سے محبت کرتا ہوں جو تشیع رکھتا ہے۔"
لمحہ فکریہ: ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ ابن ابی الحدید از خود اقراری ہے کہ وہ معتزلی شیعہ تھا کیونکہ جس علاقہ میں اس کی نشوونما ہوئی ان لوگوں میں یہ مرض بکثرت تھا اس نے نہج البلاغہ کی شرح لکھی جیسے شرح ابن ابی الحدید کہا جاتا ہے یہ شرح اس دور کے ایک وزیر ابن علقمی نامی کے کہنے پر لکھی گئ جو شیعہ تھا۔ سات مشہور قصیدے سیدنا علی المرتضیؓ کی شان میں لکھے اور وہ بھی اسی وزیر کی فرمائش تھی۔
قارئین کرام! نہج البلاغہ کی شرح لکھنے کا حکم بھی شیعہ وزیر دے، اور لکھنے والا خود اپنا شیعہ ہونا تسلیم کرے تو پھر یہ کیوں کر ممکن کہ اس شرح کو وہ مسلک اہلِ سنت کے مطابق اور ان کے معتقدات کے موافق تحریر کرے اس لیے سیدہ عائشہؓ سے روایت کہ جس سے سیدنا علیؓ اور سیدنا ابن عباسؓ کا دین مصطفوی کے غیر پر مرنا مذکور ہوا وہ قطعاً اہلِ سنت کا مؤقف نہیں ہے بلکہ مسلک اہلِ تشیع کا نمونہ ہے جس سے محض بدنام کرنے کے لیے سیدہ عائشہؓ کی طرف منسوب کر کے اپنا اُلو سیدھا کیا گیا۔ وزیر موصوف کہ جس کے حکم پر یہ سب کچھ ابن ابی الحدید نے کیا ذرا اس کے بارے میں کتب شیعہ سے حوالہ ملاحظہ کریں کہ وہ کس مسلک کا آدمی تھا؟
ابنِ ابی الحدید نے اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ ایک شیعہ وزیر کے حکم پر لکھی شیعہ علماء کا بیان
الذریعة: شرح نہج للشیخ عز الدین ابی حامد عبدالحمید بن ھبة الله ابن ابی الحدید المعتزلی المولود فی المدائن سنة 586 والمتوفی ببغداد سنۃ 655 ھو فی عشرین جزء طبع بطھران جمیعھا فی مجلدین فی سنة 1270وطبع بعد ذالك فی مصر وغیرھا مکرر اوقد الفه للوزیر مؤید الدین ابی طالب محمد الشھیر بابن العلقمی وکتب له اجازۃ روایته وقد رایت صورة الاجازة روایتہ وقد رایت صورۃ الاجازة فی اخر بعض اجزائه فی مکتبة الفاضلیة قبل ھدمھا ولعلھا نقلت الی الرضویة کما انه نظم القصائد (السبع العلویات) المطبوعہ بایران فی 1317 ایضا للوزیر ابن العلقمی وقد رایت نسختھا التی کانت علیھا خط ابن العلقمی فی مکتبة العلامه الشیخ محمد السماوی
(الذریعه الی تصانیف الشیعہ: جلد نمبر 14 صفحہ 158 تا 159 مطبوعہ بیروت طبع جدید)
ترجمہ: نہج البلاغہ کی شرح (شرح ابن ابی الحدید) جسے شیخ عزالدین ابو حامد عبدالحمید بن ہبتہ اللہ ابن ابی الحدید معتزلی نے لکھا یہ شارخ مدائن میں 586 میں پیدا ہوا اور 655 کے کو بغداد میں فوت ہوا اس کی 20 جلدیں ہیں اور 1270 سن میں تہران میں یہ شرح دو جلدوں میں چھپی پھر مصر اور دوسرے شہروں میں کئی مرتبہ چھپیں۔ یہ شرح ابن ابی الحدید نے اپنے دور کے ایک وزیر موید الدین ابی طالب محمد کے حکم پر لکھی جو کہ "ابن العلقمی" کے لقب سے مشہور تھا۔ مصنف نے وزیر موصوف کو اس کتاب کی روایت کی بھی اجازت دی، میں نے اس اجازت نامہ کی تحریر خود مکتبہ فاضلیہ میں دیکھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ مکتبہ فاضلیہ ابھی قائم تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس مکتبہ کی بربادی سے کچھ عرصہ کا پہلے یہ منتقل ہو کر مکتبہ رضویہ میں چلی گئی ہو اسی طرح ابن ابی الحدید نے وزیر ابن العلقمی کی فرمائش پر سات مشہور قصیدے بھی لکھے جو 1317 میں ایران میں طبع ہوۓ میں نے وہ نسخہ بھی دیکھا کہ جس پر ابن العلقمی کی تحریر تھی یہ نسخہ علامہ شیخ محمد سماوی کے مکتبہ میں تھا۔
الکنی الالقاب: ابنِ العلقمی ھو الوزیر ابو طالب موید الدین محمد بن محمد (احمد خ ل) بن علی العلقمی البغدادی الشیعی کان وزیر المعتصم اخر خلفاء بنی عباس وکان کاتب خبیر بتدیر الملک ناصحا لاصحابه وکان امامی المذھب صحیح الاعتقاد رفیع الھمة محبا للعلماء والزھاد کثیرا المبار ولاجله صنف ابن ابی الحدید شرح النھج فی عشرین مجلدا والسبع العلویات توفی فی 2 جمادی الآخر سنۃ 656 (خون) وقد یطلق علی ابنیه شرف الدین ابی القاسم علی بن محمد۔
(کتاب الکنی والالقاب تصنیف شیخ عباس قمی جلد الاول صفحہ 362 مطبوعہ تہران طبع جدید)
ترجمہ:"ابنِ القعلمی" یعنی ابو طالب موید الدین محمد بن محمد بن علی العلقمی بغدادی الشیعی معتصم کا وزیر تھا۔ جو کہ بنی عباس کے خلفاء میں سے سب سے آخری خلیفہ تھا۔ یہ وزیر کاتب تھا ملکی معاملات کو بخوبی سمجھتا تھا۔ اپنے دوستوں کا خیر خواہ تھا۔ مذہب میں کٹر امام شیعہ تھا ہمت کا بعد اور علمائے و زہاد سے محبت رکھنے والا تھا۔ اسی لیے کہ ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح لکھی اور سات مشہور قصیدے بھی اسی کے حکم پر لکھے ابن علقمی 2 جمادی الاخر سنہ 656 کو فوت ہوا اور اس کا ایک بیٹا تھا۔جسے شرف الدین ابو القاسم علی بن محمد کہتے ہیں۔
لمحہ فکریہ: اوپر جن دو کتب کے حوالہ جات نقل کیے گئے یہ اہلِِ تشیع کی معتبر اور مستند کتابوں میں سے ہیں اور ان دونوں کتابوں کی تصنیف و تالیف کا مقصد بھی یہی تھا کہ کتب اہلِ تشیع کی نشاندہی کی جائے لہٰذا کتاب الکنی والالقاب اور الزریعہ سے اس وزیر کا شیعی ہونا ثابت ہو گیا۔ جس نے ابن ابی الحدید سے نہج البلاغہ کے شرح لکھوائی اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شان میں قصیدے کہلوائے بعض کتب میں تو اس امر کی تصریح بھی موجود ہے کہ وزیر موصوف نے ابن ابی الحدید کو مذکور شرح لکھنے پر ایک لاکھ دینار بھی دیے تھے۔ علاوہ ازیں اور بھی تحائف دیے گئے اس کی تفصیل علامہ نور بخش توکلی مرحوم نے تحفہ شیعہ جلد اول صفحہ 133 پر لکھی ہے۔
اس قدر خطیر رقم دینا اس امر کی دلیل ہے کہ ابن ابی الحدید نے اس شرح میں وہی کچھ لکھا جو وزیر ابن العلقمی کو پسند و مقبول تھا اور ایک کٹر امام شیعہ یہ کیسے پسند کرتا ہے کہ اس کی فرمائش پر لکھی جانے والی کتاب میں شیعوں کے بجائے سنیوں کے عقائد اور خیالات درج ہوں اور ان سات قصاعد میں سے ایک کے شعر میں وہ خود ابن ابی الحدید نے اس امر کی وضاحت بھی کر دی کہ وہ شیعہ ہے اور ہماری کتب اہلِ سنت میں ابن الحدید کو شیعی بالتصریح لکھا گیا۔
ملاحظہ ہو۔
کشف الظنون: نہج البلاغہ:فقد شرحه عزالدین عبدالحمید بن ھبةاللہ المدائنی الکاتب الشاعر الشیعی فی عشرین مجلدا وتوفی سن 655
(کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون: جلد 2 صفحہ 1991 مطبوعہ بیروت طبع جدید)
ترجمہ: نہج البلاغہ کی ایک شرح عزالدین عبدالحمید بن ھبۃ اللہ مدائنی شیعی نے لکھی ہے۔ جو 20 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اور اس کا انتقال سن 655 ھ میں ہوا۔
ابن ابی الحدید کے شیعی عقائد خود اس کی زبانی: گزشتہ حوالہ جات تو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابن عبدالحدید معتزلی شیعی تھا اور ایک شعر میں خود اس نے اس کا اقرار بھی کیا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ خیال آئے کہ شعر میں ابن ابی حدید نے شاید اپنے محسن وزیر ابن علقمی کو خوش کرنے اور اس سے کچھ وصول کرنے کے لیے اس کے معتقدات کے مطابق لکھ دیا ہو ورنہ وہ خود ہو سکتا ہے کہ اہلِ تشیع سے نہ ہو تو ہم اس خیال کی تردید میں خود اس کی شرح سے چند اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ کتاب الکنی والالقاب الذریعہ اور کشف الظنون وغیرہ نے اس کے مذہب کی جو نشاندہی کی ہے وہ درست ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔
حوالہ نمبر 1 ناسخ التواریخ: ابنِ حدید کے دو عدد اشعار
وان انس لا انس اللذین تقدما
وفرھما والفرقد علصنعوب
واللرایة العظمی وقد ذھبابھا
ملابسذل فوقھا وجلابیب
میگوید ۔ بااینکہ دانستند ابوبکر وعمر فرار ازجنگ گناہ عظیم است مرتکب ایں گناہ شد ند۔ ورائت پیغمر رالباس ذلت بیوشیدند۔
(ناسخ التواریخ حالات حضرت رسول خداﷺ. جلد دوم صفحہ 275 وقائع سال ہفتم ہجرت مطبوعہ تہران طبع جدید)
ترجمہ: بے شک ان دونوں ابوبکر و عمر کی محبت کوئی محبت نہیں وہ لڑنے کے لیے آگے نکلے اور پھر بھاگ کھڑے ہوۓ حالانکہ وہ دونوں بخوبی جانتے تھے کے بھاگنا گناہ عظیم ہے۔ ان دونوں نے حضورﷺ کے عظیم جھنڈے کو ذلت اور رسوائی کا لباس اور کپڑے پہنا دیے۔
توضیح: سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے بارے ایسے خیالات سے آپ خود انداذہ لگا سکتے ہیں کہ کس مسلک و مذہب کے ماننے والے ہوسکتے ہیں۔ گناہ عظیم کے مرتکب اور حضورﷺ کے جھنڈے کو رسوا کرنے والے کہنا کن عقائد کی نشاندہی کر رہے ہیں تو معلوم ہوا کے ابن ابی الحدید بھی دیگر شیعوں کی طرح شیخین کا گستاخ ہے۔
فاعتبروا یااولی الابصار
حوالہ نمبر 2 ابنِ حدید: فاما علی فانہ عندنا بمنزلة الرسولﷺ فی تصویب قولہ والاحتجاج بنعلہ ووجوب طاعتہ ومتی صح عنہ انہ قد بری من احد من الناس برئنامنہ کائنا من کان ولکن الشان فی تصحیح ما یروی عنہ علیہ السلام فقد اکثر الکذب علیہ وولدت العصبیۃ احادیث لا اصل لھا فاما براته علیہ السلام من المغیرة وعمروبن العاص ومعاویة فھوعندنا معلوم جار مجری الاخبار المتواترة فلذالك لایتولاھم اصحابنا ولایثنون علیھم وھم عند المعتزلة فی مقام غیر محمود
(شرح نہج البلاغة ابن حدید: جلد چہارم صفحہ 462 فی رائی الشارح رواعلی ماکتبه الزیدی الخ مطبوعہ بیروت طبع جدید)
ترجمہ: بہرحال علی المرتضیٰ ہم معتزلی شیعوں کے نزدیک اپنے قول کے صائب ہونے اور ان کے فعل سے احتجاج کرنے کے معاملہ میں اور اطاعت کے وجوب کے معاملہ میں آپ حضورﷺ کے مرتبے کے مالک ہیں اور جب علی کی طرف سے یہ بات پایہ ثبوت و صحت کو پہنچ جائے کہ آپ فلاں شخص سے ناراض ہیں تو ہم بھی اس سے ناراض رہیں گے۔ چاہے وہ کوئی ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ سے بہت سی روایات ایسی ذکر کی گئی ہیں جن میں کثر کذب بیانی اور تعصب سے کام لیا گیا ہے۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے سیدنا علی المرتضیٰ کا مغیرہ، عمر بن عاص، اور معاویہ سے بیزار ہونا تو یہ معاملہ ہمارے نزدیک خبر متواتر کے قائم مقام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اصحاب نہ تو ان سے محبت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی مدح سرائی کرتے ہیں اور متزلہ کے نزدیک یہ لوگ مقام غیر محمود میں ہیں۔
توضیح: اس عبارت میں ابن ابی الحدید نے اہلِ تشیع کے دو خیالات کی تائید کی ہے کہ انہیں اپنا عقیدہ بتلایا ہے کہ اول یہ کہ سیدنا علی المرتضٰیؓ قول و فعل اور موجبِ اطاعت میں رسول اللہﷺ کا درجہ رکھتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ سیدنا علی المرتضیٰ جس سے ناراض ہوں ہم بھی اس سے بیزار ہیں چاہے وہ کوئی ہو اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ابن ابی الحدید کے عقیدہ کے مطابق یہ سب حضرات وہ ہیں جن سے سیدنا علی المرتضٰیؓ ناراض تھے۔ اس مقام پر ابن ابی الحدید نے صرف تین حضرات کا نام لیا یہ اس کا تقیہ ہی کہہ لیجیے ورنہ "کائنا من کان" کے الفاظ کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ اس کا ثبوت اگلے حوالہ جات سے ہم پیش کریں گے جس میں اس نے سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم کو بھی اس زمرے میں شامل کیا ہے۔ اہلِ تشیع کا یہ وطیرہ ہے کہ اپنا تبرائی عقیدہ اشارۃً کنایۃً بیان کرتے رہتے ہیں۔ فروع کافی میں ایک مقام پر یہ انداز اپنایا گیا کہ جعفر اول دوم اور سوم پر تبرہ کیا کرتے تھے۔ بہرحال ان دونوں حوالہ جات سے ابن ابی حدید کے شیعہ ہونے کا ثبوت کافی و وافی موجود ہے۔
حوالہ نمبر 3 ابنِ حدید: ثم کتب الی عمالہ ان الحدیث فی عثمان قدکثر وفشافی کل مصر وفی کل وجہ وناحیة فاذا جاءکم کتابی ھذا فادعوا الناس الی الروایة فی فضائل الصحابة والخلفاء الاولین ولاتترکوا خبرا یرویہ احد من المسلمین فی ابی تراب الا واتونی بمناقض لہ فی الصحابة مفتعلة فان ھذا احب الی واقر لعینی وادحض لحجۃ ابی تراب وشیعتہ واشد الیھم فی مناقب عثمان وفضلہ قرئت کتبہ علی الناس فرویت اخبارا کثیرة فی مناقب الصحابة مفتعلة لاحقیقة لھا وجد الناس فی روایة مایجری ھذالمجری حتی اشادوا بذکر ذالک علی المنابر والقی الی معلمی الکتاتیب فعلموا صبیانھم وغلمانھم من ذالك الکثیر الواسع حتیٰ رووہ وتعلموہ کما یتعلمون القرآن وحتی علموہ بناتھم ونسائھم وخدمھم وحشمھم فلبثوا بذالك ماشاء الله ثم کتب الی عمالہ نسخة واحدة الی جمیع البلدان انظروا الی من اقامت علیہ البینه انه یحب علیا واھل بیتہ فامحوہ من الدیوان واسقطو اعطاءه ورزقه
(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: جلد سوم صفحہ 16 فیما فعلتہ بنو امیہ من الامور التی وجبت وضع کثیر من الاحادیث مطبوعہ بیروت طبع جدید)
ترجمہ: پھر معاویہ نے اپنے کار پروازوں کو خط لکھا کے عثمان کے بارے میں فضائل اور مناقب کا چرچا ہو گیا ہے ہر شہر و گاؤں میں ان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا جب میرا یہ خط تمہیں ملے تو لوگوں کو اس بات کی دعوت دو۔ ابوبکر و عمر فاروق دونوں پہلے خلفاء اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل میں بھی عام کیے جائیں اور علی ابو تراب کے بارے میں فضائل کی جو حدیث لوگ بیان کریں۔ تم اس کے مقابلے میں جھوٹی احادیث دوسرے صحابہ کے بارے میں میرے پاس پہنچاؤ کیونکہ ایسا کرنے سے مجھے آنکھوں میں ٹھنڈک محسوس ہو گی اور میں اس کو بہت پسند بھی کرتا ہوں اور علی اور ان کے شیعوں کی حجت کا توڑ بھی یہی ہے اور یہ بات ان کو عثمان کے فضائل سے بھی زیادہ چبھتی ہے۔ معاویہ کا یہ حکم ان کے کارندوں نے لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ لہٰذا اس پر عمل پیرا ہو کر لوگوں نے فضائل صحابہ کرام میں بہت سی ایسی احادیث بیان کرنا شروع کر دی جو من گھڑت تھی اور ان کی حقیقت کچھ بھی نہ تھی۔ لوگ اسی وطیرہ پر چلتے رہے۔ حتیٰ کہ مساجد کے ممبروں پر ان احادیث کا تذکرہ ہونے لگا اور دینی استادوں نے ان کی تدریس بھی شروع کر دی بچے اور غلاموں کو بھی یہ احادیث پڑھائی گئیں۔ اس حد تک ان کا پڑھنا پڑھانا جاری ہو گیا۔ جیسا کہ لوگ قرآن کریم پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ بچیوں عورتوں اور خادموں تک ان احادیث کو پڑھایا گیا یہی طریقہ بہت عرصہ تک چلتا رہا معاویہؓم نے پھر ایک اور رقعہ اپنے کارندوں کو لکھا کہ تم اپنے اپنے علاقے میں اس بات کی تحقیق کرو کہ کون شخص علی اور ان کے اہل بیت سے محبت کرتا ہے۔ جب تحقیق سے یہ بات کسی میں ثابت ہو جائے تو اس شخص کا سرکاری رجسٹر سے نام خارج کر دیا جائے اور اس کا خرچہ وغیرہ بند کر دیا جائے۔
حوالہ نمبر 4 ابنِ حدید: وروی ابو الحسن علی بن محمد بن ابی السیف المدائنی فی کتاب الاحدات قال کتب معاویةؓ نسخة واحدة الی عمالہ بعد عام الجماعة ان بریت الذمة ممن روی شیئا من فضل ابی تراب واھل بیتہ
(شرح ابن ابی الحدید: جلد سوم صفحہ 15)
ترجمہ: کتاب الاحدات میں ابو الحسن علی بن محمد مدائنی نے روایت کی ہے کہ معاویہ نے اپنے کارندوں کو ایک رقعہ عام الجماع کے بعد لکھا۔ جس میں یہ تحریر تھی جس شخص نے علی کو اور ان کی اہلِ بیت کی فضیلت میں کوئی ایک آدھ روایت بھی بیان کی ہے۔ حکومت اس کے تحفظ کی ذمہ دار نہ ہو گی۔
حوالہ نمبر 5 ابنِ الحدید: فصاح بہ ایھا الامیر ان اھلی عقونی فسمرنی علی وانی فقیر بائس وانا الی صلة الامیر محتاج فتضاحك لہ الحجاج وقال للطف ما تسولت بہ قد ولیتك موضع کذا۔
(شرح ابن ابی الحدید: جلد سوم صفحہ 16)
ترجمہ: حجاج کے دربار میں ایک شخص آیا اور چلا کر کہا! کہ اے امیر میرے خاندان والوں نے میرا نام علی رکھ کر مجھ سے زیادتی کی ہے۔ میں تو فقیر اور مسکین ہوں اور امیر کی طرف سے صلہ کا محتاج ہوں یہ سن کر حجاج ہنس دیا اور اسی خوشی میں انہیں ایک علاقے کا ولی بنا دیا۔
حوالہ نمبر 6 ابنِ ابی الحدید: روی الزھری ان عروة بن الزبیر حدثه قال حدثتنی عائشة قالت کنت عند رسول اللہ اذاقبل العباس وعلی فقال یا عائشة ان ھذین یموتان علی غیر دینی۔
(شرح ابن ابی الحدید: جلد 1 صفحہ 467 بحوالہ سہم مسموم: صفحہ 102 مصنفہ غلام حسین نجفی شیعی)
ترجمہ: عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں عائشہ نے یہ حدیث سنائی کہ میں ایک دفعہ حضور کے پاس بیٹھی تھی۔ اتنے میں ابن عباس اور علی آئے انہیں آتے دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ یہ دونوں یقیناً میرے دین کے غیر پر مریں گے۔
حوالہ نمبر 7 ابن الحدید: ان عروة زعم ان عائشة حدثته قالت کنت عند رسول اللہ اذاقبل العباس وعلی فقال یا عائشة ان سرک ان تنظری الی رجلین من اھل النار فنظری الی ھذین قد طلعا فنظرت فاذ العباس وعلی ابن ابی طالب
(شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ 467 بحوالہ سہم مسموم مصنفہ غلام حسین نجفی صفحہ 103)
ترجمہ: عروہ کا خیال ہے کہ انہیں عائشہ نے یہ حدیث سنائی کہ میں ایک مرتبہ رسول خدا کے پاس تھی آپ نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ! اگر تم بخوشی دو مردوں کو دیکھنا چاہتی ہے جو دوزخی ہیں تو دیکھ لے جو ابھی دو مرد آرہے ہیں، وہی ہیں میں نے دیکھا تو دونوں آنے والے عباس اور علی بن ابی طالب تھے۔
حوالہ نمبر 8 سہم مسموم: عن عمرو بن عاص قال سمعت رسول اللہ یقول ان آل ابی طالب لبسوا لی ولی اللہ والصالحون المؤمنون
(شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ467 بحوالہ سہم مسموم 103)
ترجمہ: عمر بن ابی العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا کہ ابو طالب کی آل میرے دوست اور خیر خواہ نہیں ہیں اور میرا دوست اور خیر خواہ تو اللہ تعالیٰ اور صالح مؤمن ہیں۔
حوالہ نمبر 9 سھم مسموم: قد روی ان معاویةبذل سمرہ بن جندب مائة الف درھم حتی یروی ان ھذا الایة نزلت فی علی ومن الناس من یعجبك قولہ فی الحیوة الدنیا وان الایة الثانیة نزلت فی ابن ملجم وھی قولہ تعالی ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات الله فلم یقبل فبذل له مائته الف درھم فلم یقبل فبذل لہ اربع مائة الف فقبل۔
(شرح ابن ابی الحدید: صفحہ 7 جلد اول بحوالہ سہم مسموم صفحہ 4)
ترجمہ: مروی ہے کہ معاویہ نے سمرہ بن جندب کو ایک ہزار درہم دینے کو کہا اور شرط یہ ہے کہ ومن الناس من یشری نفسہ الخ ابنِ ملجم کے بارے میں وہ یوں روایت کریں کہ یہ آیت علی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور دوسری آیت ومن الناس من یشری نفسہ الخ ابن ملجم کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ لیکن سمرہ نے یہ پیشکش قبول نہ کی اور معاویہ نے دو ہزار درہم پیش کیے تو انہوں نے پھر ٹھکرا دیے بالاخر چار ہزار درہم پر سمرہ راضی ہو گئے اور معاویہ کی پیش کش قبول کر لی۔
حوالہ نمبر 10 سہم مسموم: وکان زید بن ثابت عثمانیا شدید فی ذالك وکان عمرو ابن ثابت عثمانیا من اعداد علی ومبغضیة روی عن عمرو انہ کان یرکب ویدور القری بالشام ویجمع اھلھا ویقول ایھا الناس ان علیا کان رجلا منافقا اردن ینغس برسول للہ لیلة العقبة فلعنوہ فیعنه اھل تلك القریة ثم یسیرا الی القریة السخری فیامرھم بمش ذالك وکان فی زمن معاویة
(شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ 485 پانچ بحوالہ سہم مسموم صفحہ 105)
ترجمہ: زید بن ثابت بڑے متعصب عثمانی تھے۔ عمرو بن ثابت بھی عثمانی تھا، بلکہ علی کے دشمنوں اور ان سے بغض رکھنے والوں میں سے تھے۔ عمرو بن ثابت سے مروی ہے کہ وہ مختلف بستیوں میں سواری پر جاتا وہاں کے باشندوں کو جمع کر کے کہتا کہ علی ایک منافق شخص تھا اس نے رسول اللہ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کیا تو اس پر لعنت بھیجو یہ سن کر اس بستی والے علی پر لعنت بھیجتے پھر عمر بن ثابت وہاں سے دوسری بستی کا رخ کرتا اور وہاں جا کر بھی یہی کچھ کرتا یہ معاویہ کے دور خلافت میں ہوا۔
حوالہ نمبر 11 سھم مسموم: قال ناولنی یدك فقبلھا وقال لاتمسك النار ابدا۔
(شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ 484 بحوالہ سھم مسموم صفحہ 107)
ترجمہ: ابو بردہ نے ابو العاویہ الجہنی سے کہا کہ کیا تو عمار کا قاتل ہے؟ اس نے کہا ہاں کہا پھر مجھے اپنا ہاتھ پکڑاؤ ہاتھ پکڑ کر ابوبردہ نے اسے چوما اور کہا کہ تمہیں کبھی بھی دوزخ نہ چھوئے گی۔
حوالہ نمبر 12 سیدنا علی المرتضٰیؓ کے دشمن اور امیر معاویہ کے طرف داروں کی ایک فہرست
1: ابوہریرہ 2: مغیرہ بن شعبہ 3: عروہ بن زبیر 4: خریز نے عثمان 5: مروان بن حکم 6: عمر بن سعید بن عاص7: سمرہ بن جندب 8: انس بن مالک 9: اشعت بن قیس 10: سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی 11: ابو مسعود انصاری 12: کعب بن الاخبار 13: عمران بن الحصین 14: عبداللہ بن زبیر 15: عبداللہ بن عمر 16: ابو موسی اشعری 17: ضحاک بن قیس 18: ولید بن عقبہ بن ابی معیط 19: سیدنا حنظلہ 20: وائل بن حجر 21: سیدنا مطرف بن عبداللہ 22 علاءابن زیاد 23: عبداللہ بن شقیق 24: مرہ ہمدانی 25: اسود بن یزید 26: مسروق بن اجدع 27: قاضی شریح 28: شعبی محدث 29: ابووائل شقیق بن سلمہ 30: ابو عبدالرحمٰن بن قاری 31: عبداللہ بن حکیم 32: سہم بن طریف 33: قیس بن ابی حازم 34: سعید بن مسیب 35: سیدنا زہری 36: زید بن ثابت 37: سیدنا مکحول شامی
وکان جمہور الخلق مع بنی امیہ
(شرح ابن ابی الحدید: جلد اول صفحہ 463 تا 477 بحوالہ سہم مسموم مصنفہ غلام حسین نجفی شیعی صفحہ 107)
توضیحات: ان بارہ عدد حوالہ جات میں ابن ابی الحدید نے شیعی عقائد اور ان کے اثرات پر گفتگو کی حوالہ نمبر 2 میں یہ ثابت کرنا چاہا کہ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ وغیرہ صحابہ کرامؓ میں کوئی ذاتی فضیلت نہ تھی بلکہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے فضائل کے مناقب میں ان حضرات کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے لوگوں سے من گھڑت احادیث کی روایت کرنے کو کہا مقصد یہ ہوا کہ صاحب فضیلت صرف علی المرتضیٰؓ ہیں۔ بقیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی بھی فضیلت نہیں رکھتا یہ کس مسلک کی ترجمانی کی جا رہی ہے؟
اسی طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ ان کے آل کے دشمن تھے اس لیے انہوں نے اپنے کارندوں کو ایسے اشخاص کا پتہ چلایا کہ جو سیدنا علیؓ اور آل علیؓ سے محبت رکھتے ہوں ان کے وظیفہ جات بند کرنے کا حکم صادر فرمایا یہی سیدنا امیر معاویہؓ جو بحوالہ مقتل ابی مخنف حسین کریمینؓ کو اپنے دور خلافت میں ہر سال 10 لاکھ دینار ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ جلاء العیون میں سیدنا حسنؓ سے منقول ہے کہ وہ سیدنا امیر معاویہؓ کی طرف سے تحائف اور وظیفہ کی آمد کا پہلے سے اعلان کر دیا کرتے تھے کہ یہ وظیفہ حسنینؓ خود اور اپنے اعزہ و اقارب پر خرچ کیا کرتے تھے۔ حجاج کا نام تو ابن ابی الحدید نے دکھاوے کے لیے ذکر کیا ورنہ اصل مقصد تو یہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ ثابت کیا جائے کہ آپ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا نام سننا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ حالانکہ شیعوں کے معتبر کتاب امالی شیخ صدوق کے بقول معاویہ جب علی کے فضائل سنتے تو رو دیا کرتے تھے۔ عباس اور علی کے بارے میں یہ من گھڑت روایت سیدہ عائشہؓ کی طرف منسوب کر کے ابن ابی الحدید نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ کوئی مائی صاحبہ جب حضور سے یہ سن چکی ہیں کہ عباس و علی دین اسلام پر فوت نہ ہوں گے تو پھر ایسے آدمیوں سے ان کا قلبی تعلق کیوں کر ہو سکتا ہے۔ حالانکہ یہ روایت من گھڑت ہے کیونکہ بحار الانور وغیرہ میں صراحت سے یہ مذکور ہے کے سیدہ عائشہ صدیقہؓ یہ روایت کرتی ہیں کہ حضورﷺ کو سب سے زیادہ محبوب سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ تھے، تو کیا حضورﷺ کا محبوب ترین شخص وہ ہے جسے دین اسلام پر مرنا بھی نصیب نہیں اور ایسی روایت کہ ہوتے ہوئے سیدہ عائشہؓ کے خیالات کیا وہ ہو سکتے ہیں۔ جو ابن ابی الحدید نے لکھے ہیں اس کے بعد سیدنا عمر بن عاصؓ عنہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی یہ فرماتے ہیں کہ آل ابی طالب کو اپنا دوست نہیں سمجھتے تھے حالانکہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہلِ بیت کو اپنی ذات سے بھی مقدم سمجھتے تھے۔ مناقب ابن شہر میں سیدنا فاروق اعظمؓ کے مال تقسیم کرنے کا واقعہ اور ان کے بیٹے عبداللہ کا اعتراض کے ابا جان آپ نے حسنین کریمینؓ کو مجھ سے دو گنا حصہ عطا فرمایا۔ اس کے جواب میں سیدنا فاروق اعظمؓ کا یہ قول موجود ہے کہ عبداللہ ان کی والدہ تیری والدہ سے بہتر ان کا نانا تیرے نانا سے بہتر اس تصریح کے ہوتے ہوئے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو ابن ابی الحدید نے بدنام کرنے کی کوشش کی یہ سمرہ بن جندبؓ کو دین فروش اور لالچی ثابت کرنا چاہا۔
سیدنا زید بن ثابتؓ پر یہ الزام ہے کہ یہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو معاذ اللہ منافق سمجھتے تھے پھر حق شیعیت ادا کرتے ہوئے سیدنا عمار بن یاسرؓ کو بھی معاف نہ کیا اور ابو موسیٰ اشعری کے فرزند ابو بردہ کو عمار بن امیہ کے قاتل کے ہاتھ چومنے والا بنا کر پیش کیا۔ آخر میں تقریباً 37 حضرات کے نام درج کر دیے جو بقول ابن ابی الحدید دشمنان علی تھے اور اہل بیت سے بغض و کینہ رکھنے والے تھے۔ اسی ابن ابی الحدید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غلام حسین نجفی نے سہم مسموم میں ان حضرات کی فہرست اس عنوان سے لکھی ہے کہ یہ لوگ دشمنانِ علی اور آل بیت ہیں۔
بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ ان مذکورہ عقائد کی روشنی میں ابن ابی حدید کے مسلک و مشرب کے بارے میں کوئی خفا نہیں رہتا۔ یہ کٹر شیعی ہے اور اس نے اپنی شرح شیعیت کے ترویج و اشاعت کی ہے اس لیے غلام حسین نجفی کا اسے سنی اور اس کی شرح کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہنا اسی طرح ہے جس طرح دن کو کوئی رات کہے اللہ تعالیٰ بددیانتی اور خیانت سے بچائے۔
ابنِ ابی الحدید کے غالی شیعہ ہونے پر سیدنا ابنِ کثیر کی نص
البدایۃ والنہایة: عبد الحمید بن ھبة الله بن محمد بن الحسین ابو حامد بن ابی الحدید عز الدین المدائنی الکاتب الشاعر المطبق الشیعی الغالی لہ شرخ نھج البلاغة فی عشرین مجلدا، وکان حظیا عند الوزیر ابن العلقمی لما بینھما من المناسبة والقاربة والمشابھة فی التشیع۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 13 صفحہ 199 تا200 ذکر سن 655 ہجری)
ترجمہ:عبد الحمید بن ہبتہ الله بن ممد بن محمد بن الحسین ابو حامد بن ابی الحدید عزالدین المدائنی جو کاتب اور مکمل شاعر اور غالی شیعہ ہے اسکی ایک کتاب شرح نہج البلاغہ بیس جلدوں پر مشتمل ہے۔ وزیر ابن علقمی (شیعی) کے ہاں اسکا بڑا مقام تھا کیونکہ شیعہ ہونے کی وجہ سے دونوں میں مناسبت اور مقاربت موجود ہے۔