سابق گورنروں کا احترام
علی محمد الصلابیعہد فاروقی کے گورنران کی ایک امتیازی صفت یہ تھی کہ وہ اپنے سابق گورنروں کی عزت و احترام کرتے تھے۔ عہد فاروقی ہی نہیں بلکہ جملہ خلفائے راشدینؓ کے بیشتر گورنران کی یہ نمایاں خوبی تھی، مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ وغیرہ پر شام کے گورنر بن کر آئے تو آپؓ نے قطعاً یہ گوارا نہ کیا کہ حضرت ابو عبیدہؓ کو پیچھے کر کے خود نماز کی امامت کریں اور اسی طرح جب شام کی اسلامی افواج کی سپہ سالاری سے حضرت خالد بن ولیدؓ کو معزول کر کے ان کی جگہ پر حضرت ابو عبیدہؓ کو مقرر کیا تو حضرت ابو عبیدہؓ نے حضرت خالدؓ کے احترام میں فاروقی حکم نامہ پوشیدہ رکھا اور حضرت خالدؓ کو اس کی اطلاع نہ دی، یہاں تک کہ سیدنا خالد بن ولیدؓ کے نام حضرت عمرؓ کا دوسرا خط آیا۔ اس وقت آپؓ کو واقعہ کی اطلاع ملی اور اطلاع نہ دینے کی وجہ سے حضرت ابو عبیدہؓ پر عتاب کیا۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 139، 140) ڈاکٹر عبدالعزیز العمریؒ لکھتے ہیں: ’’پوری بحث و تحقیق کے باوجود والیان ریاست کی تاریخ میں مجھے ایسا کوئی واقعہ نہیں ملا جس میں کسی نو منتخب گورنر نے سابق گورنر کو رسوا کیا ہو یا اس کے خلاف زبان درازی کی ہو، بلکہ عموماً وہ لوگ منصب سنبھالنے کے بعد جو پہلا خطبہ دیتے تھے اس میں اپنے سابق گورنر کی تعریف کرتے تھے۔‘‘
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 55)