Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

غیر معصیت کے کاموں میں گورنروں کی اطاعت

  علی محمد الصلابی

 اسلامی شریعت نے عوام کے لیے امراء و حکام کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہےـ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ذٰلِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا۞ (سورۃ النساء:آیت 59)

ترجمہ: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔‘‘

یہ آیت کریمہ اولی الامر کی اطاعت کا واجبی حکم دیتی ہے، گورنر اور امراء و حکام جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات کو نافذ کرنے والے ہیں، انہی اولی الامر میں سے ہیں۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 56) بلاشبہ امراء و حکام اور خلفاء کی اطاعت واجب ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کے موافق ہو، اگر وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں تو ان چیزوں میں ان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 56)