مروج الذہب مصنفہ علی بن حسین مسعودی
محقق اسلام حضرت مولانا علی صاحبمروج الذہب مصنفہ علی بن حسین مسعودی
ایک سے زائد حوالہ جات کے ذریعہ غلام حسین نجفی وغیرہ نے مروج الذہب کو بھی اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہہ کر پیش کیا۔ اور پھر اس کی عبارات سے اپنے مذموم مقاصد اور باطل عقائد پر دلائل پیش کر کے مقصد برآری کی کوشش کی ۔ صرف ایک حوالہ پیش خدمت ہے۔
سہم مسموم
بنو امیہ کے زمانہ میں قتل حسین کی خوشی میں دس اونٹنیوں کے نحر کرنے کی منت:
- اہلِ سنت کی معتبر کتاب مروج الذهب جلد نمبر صفحہ نمبر 152 طبع بیروت ذكر اخبار الحجاج.
- اہلِ سنت کی معتبر کتاب شرح ابن ابی الحدید جلد1 صفحہ 466 - اختصار کی خاطر صرف ترجمہ پیش کرتے ہیں
ترجمہ
حجاج بن یوسف نے اپنے ایک چمچے عبداللہ بن ہانی کے عرب کے دوسرداروں کی بیٹیوں سے شادی کی اور پھر اس سے کہا۔ کہ ہم نے تمہاری عزت بنادی۔ تو عبداللہ بن ہانی نے کہا امیر ! ہماری قوم کے بڑے فضائل ہیں
- ہماری کسی بزم میں عبد الملک کو برا بھلا نہیں کہا گیا۔
- جنگ صفین میں سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ ہماری قوم کا ستر آدمی تھا۔ اور ابو ترابؓ کے ساتھ صرف ایک آدمی تھا
- جنگ کربلا کے موقعہ پر ہماری ہر عورت نے منت مانی تھی کر اگر سیدنا حسین بن علیؓ قتل ہو گئے۔ تو ہم دس اونٹنیوں کی قربانی دیں گی ۔ اور انہوں نے دی بھی ہے۔
- ہماری قوم کے جس مرد کو یہ کہا گیا ہے ۔ کہ ابو ترابؓ کو گالیاں دو اور لعنت کرو۔ تو اس نے سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ اور ان کے ساتھ ان کی ماؤں کو بھی گالیاں دیں ہیں۔ حجاج نے کہا۔ بخدا یہ فضائل ہیں۔ پھر عبداللہ نے کہا۔ کہ جو حسنُ و جمال ہماری قوم میں ہے۔ وہ کسی میں نہیں ۔ حجاج ہنس پڑا۔ عبداللہ نے کہا یہ بھی ہماری فضیلت ہے۔ حجاج نے کہا بھائی اسے رہنے دو کیونکہ عبداللہ بن ہانی انتہائی درجہ کا بدشکل تھا۔ اس کے منہ پر چیچک کے داغ تھے۔ اس کی باچھ ٹیٹرھی تھی ۔ ایک آنکھ سے بھینگا تھا۔ اور سر میں بڑی بڑی رسولیاں تھیں
(سہم مسموم صفحہ 112 مطبوعہ لاہور )
جواب
سہم مسموم میں بحوالہ شرح ابن ابی الحدید اور مروج الذہب میں جو عبارت لکھی گئی ۔ ان دونوں کتابوں میں سے شرح ابن ابی الحدید کے متعلق ہم گذشتہ صفحات میں تحریر کر چکے ہیں۔ کہ یہ ایک شیعہ مصنف کی تصنیف ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں مزید لکھنا فضول ہو گا ۔ ہاں مروج الذہب کے بارے میں چند حوالہ جات درج کیے جاتے ہیں۔ جو کتب شیعہ سے ماخوذ ہیں۔ ان کے مطالعہ کے بعد اس کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں حقیقت سامنے آجائے گی۔
مسعودی غالی شیعہ ہے اس نے شیعہ عقائد کے اثبات پر کتابیں لکھیں ہیں
الذريعه الى تصانيف الشيعه
(الصَّفْوَةُ) فِي الْإِمَامَةِ لَابِي الْحَسَنِ عَلِي بْنِ حُسَيْنِ الْمُسْعُودِى صَاحِبِ مروج الذهب المتوفى بمصر 346 ذَكَرَهُ النَّجَاشِي وَصَرَحَ به في اول مروج الذهب،
الذريعه الى تصانيف الشيعه جلد 15 صفحہ 47)
ترجمہ
الصفوة نامى كتاب ابو الحسن علی بن حسین سعودی کی تصنیف ہے۔ جسے اُس نے مسئلہ امامت کے موضوع پر لکھا۔ یہ مصنف مروج الذهب کا بھی مصنف ہے جو 346 میں مصر میں انتقال کر گیا ۔ اس کا نجاشی نے ذکر کیا۔ اور مروج الذہب کے شروع میں اس کی تصریح موجود ہے۔
الكنى والالقاب:
مسعودی- شیخ و بزرگ تاریخ نگاران و مستند آنها جناب ابو الحسن علی بن حسین بن علی مسعودی ہذلی عالمی بزرگوار و نورانی کد اور اعلامه (ره) در قسم اول از خلاصه الرجالش ذکر کرده و گفته - کہ برائے او کتابیست در امامت و غیر آن که از آنست کتابی در اثبات وصیت حضرت علی ابن ابی طالب
علیہ السلام دادست صاحب کتاب مروج الذهب علامہ مجلسی ره در مقدمه و پیش گفتار بحار فرموده و مسعودی را نجاشی در فهرستش از رادیان شیعه شمرده و گفته اور است کتاب اثبات الوصیه لعلی ابن ابی طالب علیہ السلام و کتاب مروج الذهب در سال 333 برابر (شلج) از دنیا رفت و بعضی هم گفته اند تا سال 345 برابر (شمه) زیست -
( الكنى والالقاب عربي جلد سوم صفحہ 184)
(الكنى والالقاب فارسی جلد چهارم صفحہ 221 تصنیف شیخ عباس قمى تذكره مسعودی)
ترجمہ
مسودی ہذلی جس کا نام ابوالحسن علی بن حسین بن علی ہے۔ بہت بڑا شیخ اور مورخین میں سے بزرگ اور ان کا مستند ہونے کے ساتھ ایک بہت بڑا عالم تھا۔ علامہ نے اسے خلاصتہ الرجالش کی قسم اول میں ذکر کیا۔ اور کہا کہ اس کی ایک کتاب امامت وغیرہ کے مسئلہ پر ہے جس میں اس نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی وصیت کے اثبات پر بہت کچھ لکھا ہے۔ مروج الذہب بھی اسی کی تصنیف ہے-علامہ مجلسی نے مقدمہ میں اور بحار الانوار کی عبارت شروع کرنے سے قبل اس کا تذکرہ کیا۔ اور نجاشی نے اسی مسعودی کو اپنی فہرست میں ان راویوں میں شمار کیا ہے ۔ جو شیعہ مسلک رکھتے ہیں۔ اور کہا کہ اس کی ایک کتاب کا موضوع سیدنا علی المرتضیؓ کی وصیت کا اثبات بھی ہے ۔ کتاب مروج الذہب اسی کی تصنیف ہے ۔ 333 یا 345 میں انتقال کر گیا
مسعودی تبرا باز نہ تھا اس لیے بعض لوگ اسے شیعہ نہیں سمجھتے حالانکہ وہ پکا امامی ہے
سید ہاشم شیعی کا بیان
منتخب التواريخ:
یکے از علمائے معروف عجم در باره مسعودی صاحب مروج الذهب گویدا و شیعی بنود بعلت آنکه در اخبار خلفائے بنی عباس و غیرہم اقتصاد بر مثالب و عیوب و طعن و لعن نکرده است. و از محاسن اعمال آنان لمختی بر شمرده با آنکه مسعودی مردے شیعی و امامی بود و در نقل تاریخ وظیفه مؤرخ را انجام داده است نه ابراز را انجام داده است نه ابر از تعصب مذہبی کرده و ہرکس داند کہ شقی ترین مردم روزگار نیز بعض صفات نیک واشتند
(منتخب التواریخ مقدمہ (ج) مطبوعہ تہران طبع جدید)
ترجمہ: ایک معروف عجمی عالم نے مسعودی کے بارے میں کہا اور دلیل یہ پیش کی کہ اس نے مروج الذہب میں بنی عباس کے خلفاء کے مظالم عیوب پر لعن طعن نہ کرنے کے علاوہ ان کے فضائل و محاسن بھی بیان کیے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسعودی امامی شیعہ ہے۔ اور اس نے تاریخ نویسی میں ایک مؤرخ کا کردار سامنے رکھا نہ کہ مذہبی تعصب سے کام لیا ۔ اور ہر شخص یہ جانتا ہے۔ کہ دنیا کا بدبخت ترین آدمی بھی کچھ صفات ایسی رکھتا ہے ۔ جو قابلِ تعریف و ستائش ہوں۔
اعيان الشيعه
ابُو الْحَسَنِ عَلَى بْن حُسَينَ الْمَسْعُودِي صَاحِبٌ مُرُوجِ الذَّهْبِ لَهُ كِتَابُ الْمَقَالَاتِ فِي أصُولِ الدِّيَانَاتِ ذَكَرَهُ فِي مُرُوجُ الذَّهَبِ وَذَكَرَ لَهُ النَّجَاشِي أَيْضًا الْإِبَانَۃ فِي أَصُولِ الدِّيَانَاتِ نص على تَشَيوه الشيخ الطوسي وَالنَّجَاشِي وَغَيْرُهُمَا وَلَهُ مُؤَلَّفَاتٌ فِي أَثْبَاتِ إِمَامَةِ الْأَئِمَّةِ الْإِثْنى عَشَرَ ووَهَمَ التَّاجُ السبكي في ذِكْرِه فِي طَبَقَاتِ الشَّافِعِيَّةِ كَمَا ذَكَرَ فِيهَا الشَّيخَ أَبَا جَعْفَرَ مُحَمَّدَ بْن الْحَسَنِ الْطوسی المَعْرُوفَ عِنْدَ الشَّيْعَةِ بِشيخ الطَّائِفَةِ
(اعيان الشيعة جلد اول صفحہ 571 مولفوا الشيعة في الفرق والديانات مطبوعه بيروت طبع جدید)
ترجمہ
ابو الحسن علی بن حسین مسعودی صاحب مروج الذہب کی ایک تصنیف کتاب المقالات فی اصول الدیانات ہے۔ اس کتاب کا تذکرہ اس نے مروج الذہب میں کیا ہے ۔نجاشی نے اس کی ایک تصنیف "الابانتہ فی اصول الديانات" کا ذکر کیا ہے۔ اور شیخ طوسی اور نجاشی وغیرہ نے اس کا اہلِ تشیع میں سے ہونا اس پر نص وارد کی ہے۔ بارہ اماموں کی امامت کے اثبات پر اس کی کئی ایک تصانیف ہیں۔ علامہ تاج السبکی نے طبقات شافعیہ میں اس کا ذکر کیا۔ لیکن یہ محض وہم ہے۔ یہ اسی طرح درست نہیں جس طرح ابو جعفر محمد بن حسن الطوسی کو علامہ سبکی نے طبقات شیعہ میں شمار کیا ہے ۔ حالانکہ طوسی مذکور شیعوں کے نزدیک شیخ الطائفہ کے لقب سے معروف و مشہور ہے
مسعودی کے شیعہ ہونے پر مزید شیعہ علماء کے فیصلے
اعيان الشيعه
عُلَمَاءُ النَّجومِ مِنَ الشَّيْعَةِ ..... وَمِنْ افَضَلِ الْمَوْصُوفِينَ بِعِلْمِ النُّجُومِ الشيخ الفاضِلَّ الشَّيعِيُّ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بن عَلَى الْمَسْعُودِي مُصَنفُ كِتَابٍ مُرُوجِ الذَّهَبِ الخ....
(اعيان الشيعه جلد اول صفحہ 160 مطبوعه بيرون جدید)
ترجمہ
شیعہ علماء کہ جنہوں نے علم نجوم میں شہرت پائی۔ اس علم کے علماء میں سے افضل علی بن الحسین بن مسعودی ہے ۔ جو کتاب مروج الذہب کا مصنف ہے ۔یہ شخص اپنے دور کا فاضل اور شیخ تھا۔ اور مسلک کے اعتبار سے شیعہ تھا۔
تنقیح المقال فی علم الرجال :
اس میدان میں تحقیقی بات یہ ہے کہ صاحب مروج الذہب علامہ مسعودی کے بارے میں فن رجال کے علماء کے کئی ایک اقوال ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ۔ انه امامی ثقۃ وھو الحق المحقق بالاتباع۔
یقینا وہ امام شیعہ تھا اور یہی قول حق ہے۔ اور اسے ہی حق سمجھنا چاہیے۔ اس عبارت میں مسعودی کے متعلق دو دعوے کیے گئے ایک اس کا امامی ہونا ہے اس دعوے کے دلائل یہ ہیں۔
- نجاشی اور فہرست نے اس کا تذکرہ کیا، لیکن اس کے مذہب کے بارے میں قطعا قیل و قال کی ہم نے مقدمہ میں بھی ذکر کیا ہے۔
- اس کا مسئلہ امامت پر مختلف کتب تصنیف کرنا اس کے شیعہ ہونے کی صراحت ہے۔
- الخلاصہ اور رجال ابن داؤد نے باب اول میں اسے صراحت کے ساتھ شیعہ لکھا ہے-
- شہید ثانی کی تعلیق سے یہی ظاہر ہے۔ کیونکہ اس نے مسعودی کو خلاصہ میں شیعہ راویوں کی قسم میں اول میں شمار کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے حالانکہ اعتراض کرنا اس کی عادت ہے۔
- وجیزہ اور بلغہ نے اسے قابل تعریف شخص لکھا ان کا قابل تعریف،وہی ہو سکتا ہے۔جو پکا شیعہ ہو۔
- کتاب النجوم میں ابن طاؤس نے اس کے شیعہ ہونے کی تصریح کی ہے۔
- فاضل مجلسی نے بحار الانوار کے مختلف مقامات پر اپنی کتاب کے مخض کے طور پر کتاب الوصیہ اور مروج الذہب کو لکھا۔
- تکملہ امل الامل میں شیخ حر نے اس کا بھی تذکرہ کیا حالانکہ اس نے اپنی مذکورہ کتاب میں صرف اور صرف شیعہ علماء کا ذکر کیا ہے۔
- اثبات الوسیلہ لعلی ابن ابی طالبؓ مسعودی کی تصنیف ہے کتاب کے نام سے اس کا مسلک نظر آرہا ہے۔
(تنقیح المقال جلد دوم صفحہ 282 283 مطبوعہ تہران طبع جدید)
خلاصہ
الذریعہ الکنی و القاب منتخب التواریخ اعیان الشیعہ اور تنقیح المقال کہ حوالہ جات سے مروج الذہب کے مصنف علی بن الحسین المسعودی کے بارے میں حقائق سامنے آئے۔ ان میں سے تقریباً تمام حوالہ جات میں اس کے شیعہ امامی ہونے کی تصریح موجود ہے جس پر بہت سے دلائل پیش کیے گئے۔صاحب منتخب التواریخ نے علامہ تاج السبکی کا اسے طبقات شافعیہ میں شمار کرنا وہم قرار دیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ جن باتوں سے اس کا کچھ سنی ہونا معلوم ہوتا تھا۔ اس کا جواب بھی دیا گویا اس کے سنی ہونے کا صرف وہم تھا ۔ورنہ حقیقت میں علمائے شیعہ نے اس کے امامی شیعہ ہونے کی تصریح کی ہے۔ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے غلام حسین نجفی کا اسے سنی اور اس کی کتاب مروج الذہب کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب لکھنا کس قدر دلیری ہے۔ اور کتنی بڑی بددیانتی اور دھوکہ دہی ہے۔ دراصل نجفی چاہتا یہ ہے کہ میں اِدھر اُدھر کی کتابوں کو اہلِ سنت کی کتابیں کہہ کر اور انہیں اہلِ سنت کی معتبر کتاب کا عنوان دیکھ کر قارئین کو یہ باور کراسکوں گا کہ میں اپنے دعوے پر کتب اہلِ سنت سے بہت سے حوالہ جات پیش کر رہا ہوں۔ اور کرسکتا ہوں حالانکہ وہ کتابیں ہوتی ان کے مذہب کی ہیں۔
(فاعتبروا یا اولی الابصار)