مروج الذہب مصنفہ علی بن حسین مسعودی - ردِ رافضیت | دفاع…

مروج الذہب مصنفہ علی بن حسین مسعودی

  محمد علی

صفحہ 1 از 2

مروج الذہب مصنفہ علی بن حسین مسعودی

ایک سے زائد حوالہ جات کے ذریعہ غلام حسین نجفی وغیرہ نے مروج الذہب کو بھی اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہہ کر پیش کیا اور پھر اس کی عبارات سے اپنے مذموم مقاصد اور باطل عقائد پر دلائل پیش کر کے مقصد براری کی کوشش کی، صرف ایک حوالہ پیش خدمت ہے۔

 سہم مسموم

 بنو امیہ کے زمانہ میں قتلِ حسینؓ کی خوشی میں دس اونٹنیوں کے نحر کرنے کی منت:

  1.  اہلِ سنت کی معتبر کتاب مروج الذهب جلد نمبر صفحہ نمبر 152 طبع بیروت ذكر اخبار الحجاج
  2.  اہلِ سنت کی معتبر کتاب شرح ابن ابی الحدید جلد 1 صفحہ 466 اختصار کی خاطر صرف ترجمہ پیش کرتے ہیں:

 ترجمہ: حجاج بن یوسف نے اپنے ایک چمچے عبداللہ بن ہانی کے عرب کے دو سرداروں کی بیٹیوں سے شادی کی اور پھر اس سے کہا کہ ہم نے تمہاری عزت بنا دی۔ تو عبداللہ بن ہانی نے کہا امیر! ہماری قوم کے بڑے فضائل ہیں۔ ہماری کسی بزم میں عبد الملک کو برا بھلا نہیں کہا گیا۔

جنگ صفین میں سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ ہماری قوم کا ستر آدمی تھا اور ابو ترابؓ کے ساتھ صرف ایک آدمی تھا

  1.  جنگ کربلا کے موقعہ پر ہماری ہر عورت نے منت مانی تھی کر اگر سیدنا حسین بن علیؓ قتل ہو گئے۔ تو ہم دس اونٹنیوں کی قربانی دیں گئیں اور انہوں نے دی بھی ہے۔
  2.   ہماری قوم کے جس مرد کو یہ کہا گیا ہے کہ ابو ترابؓ کو گالیاں دو اور لعنت کرو۔ تو اس نے سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ اور ان کے ساتھ ان کی ماؤں کو بھی گالیاں دیں ہیں۔ حجاج نے کہا بخدا! یہ فضائل ہیں پھر عبداللہ نے کہا کہ جو حسنُ و جمال ہماری قوم میں ہے وہ کسی میں نہیں۔ حجاج ہنس پڑا۔ عبداللہ نے کہا یہ بھی ہماری فضیلت ہے۔ حجاج نے کہا بھائی اسے رہنے دو کیونکہ عبداللہ بن ہانی انتہائی درجہ کا بدشکل تھا۔ اس کے منہ پر چیچک کے داغ تھے۔ اس کی باچھ ٹیٹرھی تھی ایک آنکھ سے بھینگا تھا اور سر میں بڑی بڑی رسولیاں تھیں۔

(سہم مسموم: صفحہ 112 مطبوعہ لاہور )

 جواب: سہم مسموم میں بحوالہ شرح ابن ابی الحدید اور مروج الذہب میں جو عبارت لکھی گئی ان دونوں کتابوں میں سے شرح ابن ابی الحدید کے متعلق ہم گذشتہ صفحات میں تحریر کر چکے ہیں۔ کہ یہ ایک شیعہ مصنف کی تصنیف ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں مزید لکھنا فضول ہو گا ہاں مروج الذہب کے بارے میں چند حوالہ جات درج کیے جاتے ہیں۔ جو کتب شیعہ سے ماخوذ ہیں۔ ان کے مطالعہ کے بعد اس کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں حقیقت سامنے آ جائے گی۔

 مسعودی غالی شیعہ ہے اس نے شیعہ عقائد کے اثبات پر کتابیں لکھیں ہیں

 الذريعه الى تصانيف الشيعه

 (الصَّفْوَةُ) فِي الْإِمَامَةِ لَابِي الْحَسَنِ عَلِي بْنِ حُسَيْنِ الْمُسْعُودِى صَاحِبِ مروج الذهب المتوفى بمصر 346 ذَكَرَهُ النَّجَاشِي وَصَرَحَ به في اول مروج الذهب، 

(الذريعه الى تصانيف الشيعه: جلد 15 صفحہ 47)

 ترجمہ: الصفوة نامى كتاب ابو الحسن علی بن حسین سعودی کی تصنیف ہے۔ جسے اُس نے مسئلہ امامت کے موضوع پر لکھا۔ یہ مصنف مروج الذهب کا بھی مصنف ہے جو 346 میں مصر میں انتقال کر گیا۔ اس کا نجاشی نے ذکر کیا اور مروج الذہب کے شروع میں اس کی تصریح موجود ہے۔

 الكنى والالقاب: مسعودی شیخ و بزرگ تاریخ نگاران و مستند آنها جناب ابو الحسن علی بن حسین بن علی مسعودی ہذلی عالمی بزرگوار و نورانی کد اور اعلامه (ره) در قسم اول از خلاصه الرجالش ذکر کرده و گفته - کہ برائے او کتابیست در امامت و غیر آن که از آنست کتابی در اثبات وصیت حضرت علی ابن ابی طالب

علیہ السلام دادست صاحب کتاب مروج الذهب علامہ مجلسی ره در مقدمه و پیش گفتار بحار فرموده و مسعودی را نجاشی در فهرستش از رادیان شیعه شمرده و گفته اور است کتاب اثبات الوصیه لعلی ابن ابی طالب علیہ السلام و کتاب مروج الذهب در سال 333 برابر (شلج) از دنیا رفت و بعضی هم گفته اند تا سال 345 برابر (شمه) زیست -

( الكنى والالقاب عربي: جلد سوم صفحہ 184)

 (الكنى والالقاب فارسی جلد چهارم صفحہ 221 تصنیف شیخ عباس قمى تذكره مسعودی)

 ترجمہ: مسودی ہذلی جس کا نام ابوالحسن علی بن حسین بن علی ہے۔ بہت بڑا شیخ اور مورخین میں سے بزرگ اور ان کا مستند ہونے کے ساتھ ایک بہت بڑا عالم تھا۔ علامہ نے اسے خلاصتہ الرجالش کی قسم اول میں ذکر کیا اور کہا کہ اس کی ایک کتاب امامت وغیرہ کے مسئلہ پر ہے جس میں اس نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی وصیت کے اثبات پر بہت کچھ لکھا ہے۔ مروج الذہب بھی اسی کی تصنیف ہے۔

علامہ مجلسی نے مقدمہ میں اور بحار الانوار کی عبارت شروع کرنے سے قبل اس کا تذکرہ کیا۔ اور نجاشی نے اسی مسعودی کو اپنی فہرست میں ان راویوں میں شمار کیا ہے جو شیعہ مسلک رکھتے ہیں اور کہا کہ اس کی ایک کتاب کا موضوع سیدنا علی المرتضیٰؓ کی وصیت کا اثبات بھی ہے۔ کتاب مروج الذہب اسی کی تصنیف ہے۔ 333 یا 345 میں انتقال کر گیا

 مسعودی تبرا باز نہ تھا اس لیے بعض لوگ اسے شیعہ نہیں سمجھتے حالانکہ وہ پکا امامی ہے

 سید ہاشم شیعی کا بیان

 منتخب التواريخ:

یکے از علمائے معروف عجم در باره مسعودی صاحب مروج الذهب گویدا و شیعی بنود بعلت آنکه در اخبار خلفائے بنی عباس و غیرہم اقتصاد بر مثالب و عیوب و طعن و لعن نکرده است. و از محاسن اعمال آنان لمختی بر شمرده با آنکه مسعودی مردے شیعی و امامی بود و در نقل تاریخ وظیفه مؤرخ را انجام داده است نه ابراز را انجام داده است نه ابر از تعصب مذہبی کرده و ہرکس داند کہ شقی ترین مردم روزگار نیز بعض صفات نیک واشتند

(منتخب التواریخ مقدمہ: جلد مطبوعہ تہران طبع جدید)

 ترجمہ: ایک معروف عجمی عالم نے مسعودی کے بارے میں کہا اور دلیل یہ پیش کی کہ اس نے مروج الذہب میں بنی عباس کے خلفاء کے مظالم عیوب پر لعن طعن نہ کرنے کے علاوہ ان کے فضائل و محاسن بھی بیان کیے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسعودی امامی شیعہ ہے اور اس نے تاریخ نویسی میں ایک مؤرخ کا کردار سامنے رکھا نہ کہ مذہبی تعصب سے کام لیا۔ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ دنیا کا بدبخت ترین آدمی بھی کچھ صفات ایسی رکھتا ہے جو قابلِ تعریف و ستائش ہوں۔

 اعيان الشيعه

صفحہ 1 از 2