مروج الذہب مصنفہ علی بن حسین مسعودی - ردِ رافضیت | دفاع…

مروج الذہب مصنفہ علی بن حسین مسعودی

  محمد علی

صفحہ 2 از 2

 ابُو الْحَسَنِ عَلَى بْن حُسَينَ الْمَسْعُودِي صَاحِبٌ مُرُوجِ الذَّهْبِ لَهُ كِتَابُ الْمَقَالَاتِ فِي أصُولِ الدِّيَانَاتِ ذَكَرَهُ فِي مُرُوجُ الذَّهَبِ وَذَكَرَ لَهُ النَّجَاشِي أَيْضًا الْإِبَانَۃ فِي أَصُولِ الدِّيَانَاتِ نص على تَشَيوه الشيخ الطوسي وَالنَّجَاشِي وَغَيْرُهُمَا وَلَهُ مُؤَلَّفَاتٌ فِي أَثْبَاتِ إِمَامَةِ الْأَئِمَّةِ الْإِثْنى عَشَرَ ووَهَمَ التَّاجُ السبكي في ذِكْرِه فِي طَبَقَاتِ الشَّافِعِيَّةِ كَمَا ذَكَرَ فِيهَا الشَّيخَ أَبَا جَعْفَرَ مُحَمَّدَ بْن الْحَسَنِ الْطوسی المَعْرُوفَ عِنْدَ الشَّيْعَةِ بِشيخ الطَّائِفَةِ 

(اعيان الشيعة جلد اول صفحہ 571 مولفوا الشيعة في الفرق والديانات مطبوعه بيروت طبع جدید)

 ترجمہ: ابو الحسن علی بن حسین مسعودی صاحب مروج الذہب کی ایک تصنیف کتاب المقالات فی اصول الدیانات ہے۔ اس کتاب کا تذکرہ اس نے مروج الذہب میں کیا ہے۔ نجاشی نے اس کی ایک تصنیف "الابانتہ فی اصول الديانات" کا ذکر کیا ہے اور شیخ طوسی اور نجاشی وغیرہ نے اس کا اہلِ تشیع میں سے ہونا اس پر نص وارد کی ہے۔ بارہ اماموں کی امامت کے اثبات پر اس کی کئی ایک تصانیف ہیں۔ علامہ تاج السبکی نے طبقات شافعیہ میں اس کا ذکر کیا لیکن یہ محض وہم ہے یہ اسی طرح درست نہیں جس طرح ابو جعفر محمد بن حسن الطوسی کو علامہ سبکی نے طبقات شیعہ میں شمار کیا ہے۔ حالانکہ طوسی مذکور شیعوں کے نزدیک شیخ الطائفہ کے لقب سے معروف و مشہور ہے۔

 مسعودی کے شیعہ ہونے پر مزید شیعہ علماء کے فیصلے

 اعيان الشيعه

 عُلَمَاءُ النَّجومِ مِنَ الشَّيْعَةِ وَمِنْ افَضَلِ الْمَوْصُوفِينَ بِعِلْمِ النُّجُومِ الشيخ الفاضِلَّ الشَّيعِيُّ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بن عَلَى الْمَسْعُودِي مُصَنفُ كِتَابٍ مُرُوجِ الذَّهَبِ۔ الخ

(اعيان الشيعه: جلد اول صفحہ 160 مطبوعه بيرون جدید) 

 ترجمہ: شیعہ علماء کہ جنہوں نے علم نجوم میں شہرت پائی۔ اس علم کے علماء میں سے افضل علی بن الحسین بن مسعودی ہے ۔ جو کتاب مروج الذہب کا مصنف ہے۔ یہ شخص اپنے دور کا فاضل اور شیخ تھا۔ اور مسلک کے اعتبار سے شیعہ تھا۔

تنقیح المقال فی علم الرجال:

اس میدان میں تحقیقی بات یہ ہے کہ صاحب مروج الذہب علامہ مسعودی کے بارے میں فن رجال کے علماء کے کئی ایک اقوال ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ انه امامی ثقۃ وھو الحق المحقق بالاتباع۔

 یقیناً وہ امام شیعہ تھا اور یہی قول حق ہے اور اسے ہی حق سمجھنا چاہیے۔ اس عبارت میں مسعودی کے متعلق دو دعوے کیے گئے ایک اس کا امامی ہونا ہے اس دعوے کے دلائل یہ ہیں۔ نجاشی اور فہرست نے اس کا تذکرہ کیا، لیکن اس کے مذہب کے بارے میں قطعا قیل و قال کی ہم نے مقدمہ میں بھی ذکر کیا ہے۔

  1.   اس کا مسئلہ امامت پر مختلف کتب تصنیف کرنا اس کے شیعہ ہونے کی صراحت ہے۔
  2.  الخلاصہ اور رجال ابن داؤد نے باب اول میں اسے صراحت کے ساتھ شیعہ لکھا ہے-
  3.  شہید ثانی کی تعلیق سے یہی ظاہر ہے۔ کیونکہ اس نے مسعودی کو خلاصہ میں شیعہ راویوں کی قسم میں اول میں شمار کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے حالانکہ اعتراض کرنا اس کی عادت ہے۔
  4.  وجیزہ اور بلغہ نے اسے قابل تعریف شخص لکھا ان کا قابل تعریف وہی ہو سکتا ہے جو پکا شیعہ ہو۔
  5.  کتاب النجوم میں ابن طاؤس نے اس کے شیعہ ہونے کی تصریح کی ہے۔
  6.   فاضل مجلسی نے بحار الانوار کے مختلف مقامات پر اپنی کتاب کے مخض کے طور پر کتاب الوصیہ اور مروج الذہب کو لکھا۔
  7.   تکملہ امل الامل میں شیخ حر نے اس کا بھی تذکرہ کیا حالانکہ اس نے اپنی مذکورہ کتاب میں صرف اور صرف شیعہ علماء کا ذکر کیا ہے۔
  8.   اثبات الوسیلہ لعلی ابن ابی طالبؓ مسعودی کی تصنیف ہے کتاب کے نام سے اس کا مسلک نظر آرہا ہے۔

(تنقیح المقال: جلد 2 صفحہ 282، 283 مطبوعہ تہران طبع جدید)

 خلاصہ: الذریعہ الکنی و القاب منتخب التواریخ اعیان الشیعہ اور تنقیح المقال کہ حوالہ جات سے مروج الذہب کے مصنف علی بن الحسین المسعودی کے بارے میں حقائق سامنے آئے۔ ان میں سے تقریباً تمام حوالہ جات میں اس کے شیعہ امامی ہونے کی تصریح موجود ہے جس پر بہت سے دلائل پیش کیے گئے۔صاحب منتخب التواریخ نے علامہ تاج السبکی کا اسے طبقات شافعیہ میں شمار کرنا وہم قرار دیا اور اس کے ساتھ ساتھ جن باتوں سے اس کا کچھ سنی ہونا معلوم ہوتا تھا۔ اس کا جواب بھی دیا گویا اس کے سنی ہونے کا صرف وہم تھا۔ ورنہ حقیقت میں علمائے شیعہ نے اس کے امامی شیعہ ہونے کی تصریح کی ہے۔ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے غلام حسین نجفی کا اسے سنی اور اس کی کتاب مروج الذہب کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب لکھنا کس قدر دلیری ہے اور کتنی بڑی بددیانتی اور دھوکہ دہی ہے۔ دراصل نجفی چاہتا یہ ہے کہ میں اِدھر اُدھر کی کتابوں کو اہلِ سنت کی کتابیں کہہ کر اور انہیں اہلِ سنت کی معتبر کتاب کا عنوان دیکھ کر قارئین کو یہ باور کرا سکوں گا کہ میں اپنے دعوے پر کتب اہلِ سنت سے بہت سے حوالہ جات پیش کر رہا ہوں اور کرسکتا ہوں حالانکہ وہ کتابیں ہوتی ان کے مذہب کی ہیں۔

 (فاعتبروا یا اولی الابصار)


صفحہ 2 از 2