فرائد السمطین مصنفہ ابراہیم بن محمد حموینی - ردِ رافضیت |…

فرائد السمطین مصنفہ ابراہیم بن محمد حموینی

  محمد علی

صفحہ 2 از 2

حوالہ نمبر 2  کے مطابق سیدنا علیؓ وصی رسولﷺ ہیں اور بارہ ائمہ یکے بعد دیگرے وصی ہیں لہٰذا خلفائے ثلاثہؓ نے حضورﷺ کی وصیت کو ٹھکرا کر اپنی خلافت کا اعلان کیا۔

حوالہ نمبر 3 کے اعتبار سے تمام ائمہ کو معصوم کہا گیا، یہی چند عقائد ہیں کہ جو شیعہ اور سنی کے مابین مختلف ہیں، شیعہ ان کے شد و مد سے قائل ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ ان عقائد کی وجہ سے صاحب فرائد السمطین محمد بن ابراہیم کٹر شیعہ ہے ان حوالہ جات سے جو عقائد نظر آئے ان کی روح سے ہم پہچان گئے کے فرائد السمطین کا مصنف ہرگز سنی نہیں ہے۔

 اب دوسرا طریقہ سامنے رکھیے خود شیعہ محققین سے پوچھتے ہیں کے اس مصنف کے بارے میں تمہاری کیا تحقیق ہے، تو سنیے!

 فرائد السمطین کا مصنف شیعوں کا پروردہ ہے اس لئے اس کا شیعہ ہونا ہی قرین عقل ہے، آقا بزرگ شیعہ

 الذریعہ:

و بالجملة ترجم صاحب الرياض صدر الدين ابراهيم هذا في ذيل عنوان المحتمل تشيعهم للتلمذ علي الشيعة والتاليف في فضائل أهل بيت أقول في مكتبة المشكاة نسخة من فرائد السمطين تامةاولها بعد البسملة تبارك الذي نزل الفرقان علي عبده ليكون للعالمين نذيرا وبعد ذكر النبي قال وانتخب له أمير المؤمنين علياؓ اخا وعونا وردام الي قوله والحمد لله الذي ختم النبوة به و بدء الولاية من اخيه صنو أبيه المنزل فصله النبوة منزلة هارونؑ من موسيؑ وصيه الرضي المرتضيؓ علي باب مدينة العلم الي قوله و وصيه أسد الله الغالب علي أبن أبي طالب واله و عترته المباركة و ذراريه الطاهرات نجوم فلك العصمة

(الذريعة: جلد 16 صفحہ 136، 137 مطبوعہ بیروت طبع جدید)

 ترجمہ: صاحب الریاض صدر الدین ابراہیم نے اپنی اس تصنیف میں ایک عنوان باندھا ہے، وہ یہ کہ کچھ مصنفین ایسے ہیں جو مشہور و معروف شیعہ علماء کے شاگرد ہیں اور انہوں نے فضائل اہلِ بیت پر تصانیف بھی لکھی، ان دو باتوں کی بناء پر ان مصنفین کے شیعہ ہونے کا احتمال ہے۔

اس عنوان کے تحت صاحب فرائد السمطین کا تذکرہ بھی موجود ہے، میں (صاحب الذریعہ) کہتا ہوں کہ مکتبہ المشکوٰۃ میں فرائد السمطین کا مکمل نسخہ موجود ہے۔

اس کتاب میں بسم اللّٰہ کے بعد تبارك الذي نزل الفرقان آیت لکھی ہوئی ہے، اس کے بعد حضورﷺ کی صفت و ثناء تحریر ہے۔ پھر یہ الفاظ موجود ہیں، " اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو حضورﷺ کے لئے منتخب کیا، آپﷺ کے بھائی اور مددگار بنے "پھر سیدنا علی المرتضیٰؓ کے بارے میں مزید لکھا کہ"تمام تعریفیں اس اللہ کی جس نے آپﷺ پر دروازہ نبوت بند کر دیا اور ولایت کی ابتداء آپ کے چچازاد بھائی سے کی جو آپ کے ساتھ وہ مقام و منزلہ رکھتے ہیں جو ہارونؑ کو موسیٰؑ کے ساتھ تھا، سیدنا علی المرتضیٰؓ آپﷺ کے وصی ہیں، الرضی و المرتضیٰؓ ہیں"

باب العلم ہے میں آخر میں یہ کہا حضورﷺ کے وصی، اللہ کے شیر سیدنا علی ابنِ ابی طالبؓ آپ کی عترت و آل مبارکہ جو آسمان عصمت کے درخشاں ستارے ہیں (یعنی معصوم ہیں) 

 توضیح: "صاحب الریاض" نے دو وجوہات کی بناء پر محمد بن ابراہیم حموینی کے شیعہ ہونے کا احتمال ذکر کیا لیکن آقائے بزرگ طہرانی شیعی صاحب الذریعہ نے اس کی تصنیف فرائد السمطین کے اقتباسات سے اس کا پکا شیعہ ہونا ثابت کیا ہے، جن باتوں سے اس کی شیعیت ثابت کی گئی وہ بالاختصار یہ ہیں : 

  1.  سیدنا علی المرتضیٰؓ کو حضورﷺ کا وزیر، خلیل، رفیق اور ظہیر لکھا گیا۔
  2. إنما ولیکم الله ورسوله کی تفسیر کے تحت سیدنا علی المرتضیٰؓ کو امام الاولیاء لکھ کر ان کی آل و اولاد کو ائمہ معصومین کہا گیا۔
  3. سیدنا علی المرتضیٰؓ وصی رسولﷺ ہیں۔

ان تین عقائد کے بعد جب اس کا شیعہ ہونا صاحب الذریعہ کے نزدیک مسلم تھا تو اس نے اسی حموینی کے لئے یہ دعائیہ الفاظ اسی مذکورہ صفحہ پر کہے:

غفر الله عنه لمحبۃ الائمة الطاهرين واحياه علی متابعتهم و ولايتهم وامامته عليها وحشره معهم وجعله تحت لوائهم سادة الاولين و الآخرين

ائمہ معصومین کے ساتھ محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ حموینی کو معاف کر دے، ان کی متابعت اور امامت کے عقیدہ پر اسے زندہ رکھے اور ان کے ساتھ اس کا حشر و نشر کرے اور ان اولین و آخرین کے سرداروں کے جھنڈے تلے اسے جگہ دے۔ 

مذہب شیعہ میں صرف اور صرف اہلِ تشیع کے لئے دعائے مغفرت ہے، فروع کافی میں مذکور ہے کہ اگر کوئی اہلِ سنت مرجائے تو اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کی جائے اور اگر بامر مجبوری شرکت کرنی پڑے تو اس کے لئے مغفرت کی دعا کرنا حرام ہے بلکہ اس کی بجائے لعنت کی دعا کرے۔

آقائے بزرگ طہرانی نے کلمات دعائیہ کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ فرائد السمطین کا مصنف ان کا اپنا ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے، ان تصریحات کے بعد حموینی کی شخصیت نکھر کر سامنے آ گئی، اب اسے سنی عالم اور اس کی تصنیف کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب قرار دینا ظلم عظیم سے کم نہیں، قول مقبول کے نامقبول و نامعقول انداز سے اس کے مؤلف لا یعقل نجفی حجتی کی بےایمانی بھی ظاہر ہوگی۔

 ( فَاعۡتَبِرُوۡا يَااُوۡلِيۡ الأَبۡصَار )


صفحہ 2 از 2