گورنران کے مادی حقوق
علی محمد الصلابیمادی اعتبار سے گورنران کے کچھ حقوق ہیں، ان میں سب سے اہم تنخواہ ہے جس پر زندگی گزارنے کا انحصار ہوتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، بالخصوص خلفائے راشدینؓ نے گورنروں کی تنخواہ کو کافی اہمیت دی، انہیں ان کا حق دیا، مزید برآں مالی تعاون کر کے انہیں عوام الناس سے بے نیاز کر دیا تاکہ لوگ ان پر اثر انداز نہ ہوں اور انہیں رشوت کے چکر میں پھنسانے کی کوشش نہ کریں۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 60) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس بات کے لیے ہمیشہ کوشاں تھے کہ ہمارے گورنران پارسائی اور رعایا کے مال سے پاک دامنی و بے نیازی کی زندگی گزاریں اور ان کے پاس اتنا مال رہے کہ وہ دوسروں کے مال سے بے نیاز رہیں۔ شاید آپؓ نے اس سلسلے میں خطرناک متوقع اندیشوں کو محسوس کر لیا تھا اور یہ جان لیا تھا کہ اگر اپنے گورنران کو پاک دامن بنانا ہے اور رعایا کی دولت سے بے نیاز کرنا ہے تو ضروری ہے کہ انہیں ان کی ضروریات سے زیادہ مال دیا جائے۔ ایک مرتبہ ابو عبیدہ اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان اسی موضوع پر گفتگو ہوئی، تو حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا: امیر المؤمنین! آپؓ نے صحابہِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے حرمتی کر ڈالی، یعنی انہیں گورنر بنا کر۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اے ابو عبیدہ! اگر اپنے دین کی سلامتی کے لیے دین پرستوں سے تعاون نہیں لوں گا تو پھر کس سے لوں گا۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا: اگر آپؓ ایسا کر ہی رہے ہیں تو انہیں تنخواہ دے کر خیانت سے بچایے۔
(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 122) حضرت ابو عبیدہؓ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر انہیں صحابہؓ کو کسی چیز کا ذمہ دار بنائیں تو قابل قدر تنخواہ سے نوازیں تاکہ ان میں خیانت یا لوگوں سے مال لینے کا احساس تک نہ پیدا ہو۔ چنانچہ حضرت عمرؓ اسلامی لشکر کے کمانڈروں، گاؤں کے امراء و حکام اور تمام گورنروں و افسران کو ان کے عمل کے حساب سے معاوضہ و عطیہ دیتے تھے، تاکہ وہ اپنے فرائض کو بحسن وخوبی انجام دیں۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 149) جیسا کہ ابھی یہ بات گزری ہے کہ حضرت عمرؓ اپنے گورنروں کو رعایا کے مال سے مستغنیٰ اور پارسا دیکھنا چاہتے تھے، چنانچہ اسی مناسبت سے ان سے کہتے تھے: ’’میں نے تم کو اور خود اپنی ذات کو بیت المال ملکی خزانہ کے لیے یتیم کے وصی کے قائم مقام کر دیا ہے، لہٰذا جو مال دار ہو وہ پاک دامنی اختیار کرے اور جو محتاج ہو وہ اس میں سے معروف طریقے سے کھائے۔
(تاریخ المدینۃ: جلد 2 صفحہ 694، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 149) آپؓ نے تقریباً اپنے تمام تر گورنران و افسران اور سرکاری کارندوں کے لیے خاص اور مستقل تنخواہیں مقرر کر دی تھیں۔ خواہ وہ روزینہ کی شکل میں رہی ہوں یا ماہانہ اور سالانہ شکل میں، تاریخی مصادر میں بعض تنخواہوں اور وظائف کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں کچھ خوراک کی شکل میں تھے اور کچھ مقررہ نقود و مبالغ کی شکل میں۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 150) روایات سے ثابت ہے کہ سیدنا عمرؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو قضاء اور بیت المال کا، حضرت عثمان بن حنیفؓ کو فرات سے سیراب ہونے والے علاقوں کی پیمائش کا اور حضرت عمار بن یاسرؓ کو نماز اور اسلامی فوج کا ذمہ دار بنایا تھا اور ان سب کو ایک بکری روزینہ دیتے تھے، نصف بکری، اس کے بازو اور پائے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا حصہ تھا اس لیے کہ وہ نماز اور فوج کے ذمہ دار تھے اور اس کا ربع 1/4 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا اور دوسرا ربع 1/4 حضرت عثمان بن حنیفؓ کا حصہ تھا۔ اسی طرح روایات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپؓ نے مصر پر حضرت عمرو بن عاصؓ کی گورنری کے دوران ان کی تنخواہ دو سو 200 دینار مقرر کی تھی۔
(الطبقات الکبرٰی: جلد 4 صفحہ 261) سیدنا سلمان فارسیؓ جب 30 ہزار آبادی والے شہر مدائن پر گورنر تھے تو ان کی تنخواہ پانچ ہزار 5000 درہم مقرر کی تھی، لیکن ان کے زہد کا یہ عالم تھا کہ اپنے ہاتھ کی معمولی کمائی پر گزر بسر کر لیتے اور تنخواہ محتاجوں و ضرورت مندوں پر صدقہ کر دیتے۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 547) علاوہ ازیں دوسری بہت سی روایات وارد ہیں جو حضرت عمرؓ کے گورنروں کی تنخواہوں میں تفاوت و اختلاف پر دلالت کرتی ہیں لیکن واضح رہے کہ یہ اختلاف فاروقی دور حکومت میں حالات و ظروف کی ترقی و تبدیلی پر منحصر تھا۔ یہ غیر معقول بات تھی کہ آپؓ کی حکومت کے اول دن سے عمال و گورنران کی جو تنخواہیں تھیں وہ اسی مقدار میں آپؓ کے عہد خلافت کے آخری ایام تک باقی رہیں، اس لیے کہ فتوحات کی وسعت اور بیت المال کی آمدنی میں اضافے کے سبب دور کے احوال و ظروف میں تبدیلی اور لوگوں کی ضروریات میں اضافہ ہو چکا تھا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 63) تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ، حضرت معاویہؓ کو شام کی گورنری پر دس ہزار 10،000 دینار سالانہ دیتے تھے، نیز اسلا می لشکر کے امراء اور بستیوں کے ذمہ داروں کو ان کی ذمہ داریوں اور ملکی غلہ جات کی آمدنی کے حساب سے 9 ہزار، 8 ہزار اور 7 ہزار دینار کے درمیان وظیفہ دیتے تھے۔
(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 50، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 63) آپؓ کے بعض گورنران اپنی گورنری و امارت کی کار گزاریوں کی تنخواہ لینا پسند نہیں کرتے تھے، لیکن آپؓ انہیں لینے کا مشورہ دیتے رہے، اسی مناسبت سے ایک مرتبہ آپؓ نے اپنے ایک گورنر سے کہا: کیا بات ہے کہ تم مسلمانوں کے کئی کاموں کے ذمہ دار ہو، لیکن جب اپنی محنت کا معاوضہ دیے جاتے ہو تو اسے لینا ناپسند کرتے ہو، اس سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے کہا: میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں، میں خیریت و کشادگی میں ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرا معاوضہ مسلمانوں پر صدقہ کر دیا جائے۔ حضرت عمرؓ نے ان سے کہا: ایسا نہ کرو، جو تم چاہتے ہو میں نے بھی یہی چاہا تھا، رسول اللہﷺ مجھے عطیہ دیتے تھے اور میں کہتا تھا: اسے مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’اسے لے لو، اپنا مال بنا لو اور پھر اسے صدقہ کرنا، بغیر مطالبہ اور لالچ کیے اس قسم کا جو مال تمہارے پاس آئے اسے لے لو اور جو اس طرح نہ ہو اسے نہ لو۔‘‘
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 64، الإدارۃ الإسلامیۃ: محمد کرد: صفحہ 48) بہرحال گورنران و افسران کو تنخواہوں اور عطیات سے نوازنا اور انہیں عوام کی دولت سے مستغنیٰ کرنا ایک اسلامی اصول تھا، جسے رسول اللہﷺ نے نافذ کیا تھا، اور آپؓ کے بعد خلفائے راشدینؓ اس پر عمل پیرا رہے۔ انہوں نے اپنے افسران کو رعایا کے مال سے بے نیاز کیا اور انہیں حکومتی کار گزاریوں اور اسلامی سلطنت کی مصلحت و مفاد کے لیے فارغ کیا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 64)