مقتل ابی مخنف مصنفہ لوط بن یحیی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقتل ابی مخنف مصنفہ لوط بن یحیی

  محمد علی

صفحہ 1 از 3

مقتل ابی مخنف مصنفہ لوط بن یحیی

اہلِ تشیع کے ہاں سیدنا حسینؓ کے غم ماتم کرتے ہوئے خون بہانا جائز ہے، جب اس پر اہلِ سنت کی طرف سے اعتراض ہوتا ہے تو اس وقت مقتل ابی مخنف کا حوالہ پیش کرتے ہیں اور اسے اہلِ سنت کی معتبر کتاب لکھ کر اتمام حجت کرتے ہیں۔

آئیے پہلے ان کا ایسا کرنا ثابت کریں پھر مقتل ابی مخنف  پر گفتگو کریں گے۔

 ماتم اور صحابہ کرامؓ

 ماتم سیدنا حسینؓ میں سیدہ زینبؓ کا خون بہانا

( اہلِ سنت کی معتبر کتاب مقتل ابی مخنف بحوالہ ینابیع المودۃ صفحہ 350 پر ہے )

فلما رأت زينبؓ رأس اخيه قد اتو بالرؤس مقدما عليها نطحت جبهتها بمقدم الاقتاب خرج دم منها

 ترجمہ: جب سیدہ زینب بنت علیؓ نے اپنے بھائی کے سر کو دیکھا جو سب سروں کے آگے آگے تھا، (اب چونکہ بازار کوفہ ہے اور مصیبت کی انتہا ہے، نبی زادیوں پر لوگ صدقہ کی کھجوریں پھینک رہے ہیں، قتل امام مظلوم کی خوشی میں طبل بجائے جا رہے ہیں، بازار سجے ہوئے ہیں، نواسۂ رسولﷺ کا سر نیزے پر ہے اور نبیﷺ کی نواسیاں سر برہنہ اونٹوں پر سوار ہیں، آلِ نبیﷺ کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ یہود و نصاریٰ بھی رحم کھائے ہوئے ہیں) ایسی حالت میں ام المصائب نے اپنا سر چوب محمل پر مارا اور خون جاری ہو گیا، بہن کا سر اور بھائی کا سر ہم رنگ ہو گئے۔

( ماتم اور صحابہ تصنیف غلام حسین نجفی شیعی: صفحہ 157، 158) 

جواب: ینابیع المودۃ کے حوالہ سے نجفی نے مقتل ابی مخنف کا حوالہ پیش کیا، گویا حوالہ ایک لیکن کتابیں دو ہو گئیں، جہاں تک ینابیع المودۃ کا تعلق ہے جو سلیمان بن ابراہیم کی تصنیف ہے ہم اس کے متعلق گزشتہ اوراق میں بحث کر چکے ہیں، یہ تو اہلِ سنت کی کتاب ہی نہیں،اب دوسری کتاب مقتل ابی مخنف کے بارے میں نجفی نے جو دھوکہ دینے کی کوشش کی، ہم اس کی پردہ دری کرتے ہیں، اس کے مصنف کا نام لوط بن یحییٰ ہے، یہ وہ شخص ہے جس کے کٹر شیعہ ہونے میں نہ کسی شیعہ کو شک ہے اور نہ ہی سنی کو، اگر ہے تو نجفی اینڈ کمپنی کو لوط بن یحییٰ کون ہے؟ دونوں طرف کی کتب سے ملاحظہ کیجیے۔

 صاحب مقتل ابی مخنف شیعہ ہونے پر سنی شیعہ علماء کی نصوص

 میزان الاعتدال

لوط بن يحي أبو مخنف اخباري تالف لا يوثق به تركه أبو حاتم وغيره، وقال الدار قطني ضعيف، وقال يحيى بن معين ليس بثقة، وقال مرة ليس بشيء، وقال ابن عدي شيعي محترق صاحب اخبارهم

(1۔ میزان الاعتدال: جلد دوم، صفحہ 360 مطبوعہ مصر)

( 2۔ لسان المیزان جلد چہارم، صفحہ 492 مطبوعہ بیروت)

 ترجمہ: لوط بن یحییٰ ابو مخنف قصے کہانیاں بیان کرنے والا غیر معتبر راوی ہے، ابو حاتم نے اس کی روایت کو چھوڑا، دار قطنی نے اسے ضعیف کہا، یحییٰ بن معین اسے غیر ثقہ کہتے ہیں، مرۃ اسے لیس بشیء اور ابن عدی نے اسے شیعی کہا اور سخت جلا بُہنا قصہ گو تھا۔

الکنی و الالقاب:

أبو مخنف لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف بن سليم الازدي شيخ أصحاب الأخبار بالكوفة وجههم كما عن (نجش) وتوفي سنة 157 يروي عن الصادق (ع) ويروي عنه هشام الكلبي وجده مخنف بن سليم صحابي شهد الجمل في أصحاب علي (ع) حاملا رأية الازد فاستشهد في تلك الوقعة سنة 36 وكان أبو مخنف من اعاطم مؤرخي الشيعة

(الكنى والالقاب: جلد اول، صفحہ 155 مطبوعہ تھران طبع جديد) تذكرة ابو مخنف 

ترجمہ: ابو مخنف لوط بن یحییٰ ازدی کوفہ کے ان بڑے لوگوں میں سے تھا جو واقعات اور قصہ کہانیاں بیان کرنے والے تھے، یہ بات نجاشی سے منقول ہے، سن 157ھ میں فوت ہوا، سیدنا صادقؓ سے روایت کرتا ہے اور اس سے آگے ھشام الکلبی نے روایت کی ہے، اس کا دادا مخنف بن سلیم صحابی تھا، جنگ جمل میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کے طرفداروں میں ازد کا جھنڈا اٹھائے ہوئے شریک ہوا تھا اور اسی جنگ میں شہادت پائی، یہ سن36 کا واقعہ ہے، خود ابو مخنف شیعہ مؤرخین کے اکابر میں سے تھا۔

صاحب مقتل لوط بن یحیی مشہور امامی شیعہ ہے 

 شیعہ علماء کا متفقہ فیصلہ

تنقیح المقال:

وتنقيح المقال في حال الرجل أنه لا ينبغي التأمل في كونه شيعيا اماميا كما ذحرح بذلك جماعة وانكار ابن أبي الحديد ذالك بقوله في شرح النهج و أبو مخنف من المحدثين وممن يري صحة الامامة بالاختبار وليس من الشيعة ولا معدودا من رجالها، انتهي من الخرافات التي تعودت العامة عليها في مذهبهم وفيما يرجع إليه كيف وقد صرح جماعة منهم بتشيعه بل جعل بعضهم تشيعه سببا لرد روايته كما هي عادتهم غالبا إلا تري الي قول صاحب القاموس في مادة خ ن ف و مخنف كمنبر و أبو مخنف لوط بن يحيى اخباري شيعي تالف متروك انتهي ، والعجب العجاب إن ابن أبي الحديد نطق بما سمعت بعد أن روي اشعارا في أن عليا وصي رسول الله وقال ذكر هذه الاشعار والاراجز باجمعها أبو مخنف لوط بن يحيى في كتاب وقعة الجمل انتهي فان نقله تلك الاشعار شاهد لتشيعه والا لم يكن ليرويها كما هي عادة أهل السنة غالباً وبالجملة فكون الرجل شيعيا اماميا مما لا ينبغي الريب فيه

( تنقیح المقال فی علم الرجال: جلد دوم، صفحہ 44 من ابواب اللام مطبوعہ تھران طبع جدید)

صفحہ 1 از 3