مقتل ابی مخنف مصنفہ لوط بن یحیی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مقتل ابی مخنف مصنفہ لوط بن یحیی

  محمد علی

صفحہ 2 از 3

ترجمہ: حقیقت حال یہ ہے کہ ابو مخنف لوط بن یحییٰ کے امامی شیعی ہونے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے جیساکہ اس کے بارے میں ایک بہت بڑی محققین کی جماعت نے تصریح کی ہے (کہ یہ شیعہ ہے) نہج البلاغہ کی شرح میں ابن ابی الحدید کا یہ کہہ کر اس کے شیعہ ہونے کا انکار کرنا ایک بکواس سے کم نہیں ہے، ابو مخنف محدثین میں سے ہے اور ان لوگوں میں سے ہے جو امامت کو بالاختیار کہتے ہیں، پھر ابنِ ابی الحدید نے یہ بھی کہا کہ ابو مخنف کا شمار شیعہ رجال میں نہیں ہوتا، یہ وہ بکواس ہے جو اہلِ سنت کیا کرتے ہیں بھلا یہ انکار کب درست ہو سکتا ہے جبکہ ایک بہت بڑی جماعت نے اس کے شیعہ ہونے کی تصریح کی ہے بلکہ بعض نے تو اس کی روایت کے مردود ہونے کی وجہ سے اس کا شیعہ ہونا قرار دیا ہے، جیسا کہ ان کی عادت ہے، کیا صاحب قاموس کا یہ قول تمہارے پیش نظر نہیں ہے جو اس نے مخنف کے مادہ پر بحث کے دوران کہا، قول یہ ہے ، مخنف بروزن منبر ہے اور ابو مخنف لوط بن یحییٰ قصے کہانیاں بیان کرنے والا شیعہ ہے، اس کی تالیفات قابلِ اخذ نہیں ہیں، عجیب سے عجیب تر یہ ہے کہ ابنِ ابی الحدید نے ابو مخنف کے بارے میں شیعہ نہ ہونے کی بات کی لیکن وہ بھی اس وقت جب اس کے ایسے اشعار نقل کر چکا تھا جن میں اس نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو رسول اللہﷺ کا وصی کہا ہے اور ان اشعار کے درج کرنے کے بعد خود ابنِ ابی الحدید نے لکھا ہے کہ یہ اشعار اور رجزیہ کلام ابو مخنف کا ہے اور اس نے انہیں کتاب واقعۃ الجمل میں لکھا ہے، ابنِ ابی الحدید کا یہ شعر ذکر کرنا ابو مخنف کے شیعہ ہونے کی دلیل ہے اور اگر یہ شیعہ نہ ہوتا تو اس کے اشعار کی روایت نہ کرتا جیسا کہ اکثر اہلِ سنت کی عادت ہے، مختصر یہ کہ ابو مخنف لوط بن یحییٰ امامی شیعہ ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس میں شک و ریب نہیں ہونا چاہیے۔

 تنقیح المقال:

وقال النجاشي لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف بن سالم الازدي الغامدي أبو مخنف شيخ أصحاب الأخبار بالكوفة و وجههم وكان يسكن الي ما يرويه روي عن جعفر بن محمدو صنف كتبا كثيرة منها كتاب المغازي، كتاب السقيفة، كتاب الردة، كتاب فتوح الاسلام، كتاب فتوح العراق، كتاب فتوح خراسان، كتاب الشوري، كتاب قتل عثمان، كتاب الجمل، كتاب صفين، كتاب النهروان، كتاب الحكمين، كتاب الغارات، كتاب مقتل أمير المؤمنينؓ، كتاب مقتل الحسينؓ، كتاب مقتل الحسنؓ.الخ

( تنقیح المقال: جلد دوم، صفحہ 43 من ابواب اللام مطبوعہ تھران)

ترجمہ: نجاشی نے کہا کہ لوط بن یحییٰ ابو مخنف کوفہ کے قصہ کہانیاں بیان کرنے والوں میں سے بڑا آدمی تھا اور سیدنا جعفر صادقؓ سے جو روایات اس نے کیں اس پر مطمئن تھا، اس کی بہت سی تصانیف ہیں مثلاً  کتاب الغازی، کتاب السقیفہ، کتاب الردۃ، کتاب فتوح الاسلام، کتاب فتوح العراق، کتاب فتوح خراسان، کتاب الشوریٰ، کتاب قتلِ عثمانؓ، کتاب الجمل، کتاب صفین، کتاب نہروان، کتاب الحکمین، کتاب الغارات، کتاب مقتل امیر المؤمنین، کتاب مقتل حسنؓ و حسینؓ الخ

 اعیان الشیعه

مؤلفوا الشيعة في التاريخ والسير والمغازي ومنهم أبو مخنف لوط بن يحيى الازدي الغامدي قال النجاشي من أصحاب الأخبار بالكوفة وجههم وصنف كتبا كثيرة منها المغازي، فتوح الشام الخ

وقال ابن النديم في الفهرست قرات بخط احمد بن الحارث الخزاز ، قالت العلماء أبو مخنف بأمر العراق واخبارها وفتوحها يزيد علي غيره والمدائني بأمر الخراسان والهند والفارس والواقدي بالحجاز والسيرة وقد اشتركو في فتوح الشام واثنان من الثلاثة شيعة أبو مخنف والواقدي

(اعیان الشیعہ للسید محسن الامین: جلد اول صفحہ 152 مطبوعہ بیروت طبع جدید)

مؤلفوا الشیعہ فی التاریخ و السیر و المغازی 

 ترجمہ: جن شیعہ علماء نے فن تاریخ، سیرت اور مغازی پر کتب لکھیں، ان میں سے ایک ابو مخنف لوط بن یحییٰ ازدی غامدی بھی ہے، نجاشی نے کہا کہ یہ کوفہ کے قصہ گو لوگوں میں سے مشہور آدمی تھا، اس نے بہت سی کتب تصنیف کیں، ان میں سے مغازی، فتوح الشام میں فہرست میں ابن ندیم نے کہا کہ میں نے احمد بن حارث خزاز کے ہاتھوں سے لکھی تحریر پڑھی، علماء کہتے ہیں کہ عراق کے واقعات و فتوحات کے معاملہ میں ابو مخنف تمام تاریخ دانوں سے آگے ہے اور مدائنی خراسان اور ہند و فارس کی تاریخ میں سبقت رکھتا ہے، تاریخ حجاز اور سیرت کے موضوع پر واقدی کا نمبر ہے، یہ تینوں فتوح الشام میں برابر ہیں، ان تینوں میں سے ابو مخنف اور واقدی شیعہ ہیں۔

 اعیان الشیعه: جماعة من الشيعة امتازوا عن غيرهم في الرجال والتاريخ والانساب أبو مخنف لوط بن يحيى الازدي في قاموس اخباري شيعي

(اعيان الشيعه: جلد اول، صفحہ 156)

 ترجمہ: فن رجال، تاریخ اور انساب کے معاملہ میں وہ شیعہ علماء جو دوسروں سے اس فن میں ممتاز ہیں ان میں سے ایک ابو مخنف لوط بن یحییٰ ازدی بھی ہے، القاموس میں ہے کہ یہ اخباری اور شیعی تھا۔

الذریعة: مقتل أمير المؤمنينؓ لابي مخنف لوط بن يحيى يروي عنه هشام الكلبي الذي توفي سن 205 صاحب مقتل أبي عبدالله الحسين، مقتل أبي مخنف.مر بعنوان مقتل أبي عبدالله الحسين۔مقتل أبي عبدالله الحسين،لابی مخنف

(الذريعة: جلد 22، صفحہ 29 تا 31 مطبوعہ بیروت طبع جدید)

 ترجمہ: مقتل امیر المومنینؓ نامی کتاب ابو مخنف لوط بن یحییٰ کی تصنیف ہے، اس سے ھشام کلبی نے روایت کی جو 205 میں فوت ہوا۔

مقتل ابی عبداللہ الحسین کا مصنف بھی لوط بن یحییٰ ہے۔

  نوٹ:جیسا کہ ہر ذی علم جانتا ہے کہ آقائے بزرگ طہرانی نے الذریعہ الی تصانیف الشیعہ میں ان لوگوں کی تصانیف و تالیفات کا تذکرہ کیا ہے جو شیعہ ہوئے، جیسا کہ اس کتاب کے نام سے ظاہر ہے جبکہ اس کتاب میں لوط بن یحییٰ ابو مخنف کا بھی تذکرہ موجود ہے، جو ہم الذریعہ وغیرہ کے حوالہ سے لکھ چکے ہیں، جب ابو مخنف اور اس کی تصنیفات دونوں مسلک شیعہ پر ہیں تو پھر اس کو سنی کیونکر سمجھا جائے۔

 لمحہ فکریہ:

صفحہ 2 از 3