حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 1 از 10

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

حلیتہ الاولیاء کے مصنف کا نام حافظ ابو نعیم ہے۔ اس کے بارے میں کتب شیعہ یہی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے مسلک کا مصنف ہے لیکن تقیہ پر پیرا ہو کر اس نے شیعیت چھپائے رکھی۔ اس بنا پر کچھ لوگ اسے اہلِ سنت میں سے سمجھتے ہیں اور پھر سنیت کو بد نام کرنے کے لیے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ غلام حسین نجفی نے بھی یہی کیا۔ سیدنا عمرؓ بن الخطاب کا اپنے سر پر خاک ڈالنا اس کی کتاب سے ثابت کر کے یہ کہنا چاہا کہ بوقت مصیبت سر پر خاک ڈالنا سنیوں کی کتاب اور ان کے خلیفہ سے بھی ثابت ہے۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو۔

ماتم اور صحابہؓ

"وقت مصیبت سر پر خاک ڈالنا سنت سیدنا عمرؓ ہے"

حلية الأولياء:

عَنْ عَقْبه بن عَامِرٍ قَالَ لَمَا طَلَقَ رَسُولُ الله حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ فَبَلَغَ ذَالِكَ عُمَرَ فَوَضَعَ التَّرَابَ عَلَى رَأسِهِ وَجَعَلَ يَقُولُ مَا يَعْبَاءُ اللَّهُ بِعُمَرَ بَعْدَ هٰذا

(اہلِ سنت کی معتبر کتاب حلیۃ الاولیاء: جلد دوم صفحہ نمبر 50 تا 51) سیدہ حفصہؓ بنت عمرؓ 

ترجمہ: راوی کہتا ہے کہ جناب نبی کریمﷺ سیدہ حفصہؓ بنت عمرؓ کو طلاق دی اور یہ خبر جناب سیدنا عمرؓ کو پہنچی تو سیدنا عمرؓ نے سر میں خاک ڈالی اور کہنے لگا اب اس کے بعد اللہ کی بارگاہ میں سیدنا عمرؓ کی کوئی آبرو نہیں۔

قارئین! بیٹی کی طلاق ایک صدمہ ہے لیکن آلِ نبیﷺ کا گھر جس طرح ویران ہوا اور نواسۂ رسولﷺ سیدنا حسینؓ جس بے دردی سے شہید ہوئے، یہ اہلِ اسلام کے لیے ایک مصیبت عظمیٰ ہے۔ یہ مصنف ذرا انصاف فرمائیں کہ سیدہ حفصہؓ کی طلاق پر سیدنا عمرؓ سر میں خاک ڈالیں تو یہ شرعاً جرم نہیں اور اگر سیدنا حسینؓ کی یاد میں ہم خاک ڈالیں تو یہ بدعت ہے۔ ( ماتم اور صحابہؓ صفحہ نمبر 154، 155 تصنیف غلام حسین نجفی). 

جواب: گزشتہ کتب کے مصنفین کے بارے میں تحقیق کا جو طریقہ ہمارے سامنے ہے۔ حلیتہ الاولیاء اور اس کے مصنف کے نظریات و عقائد معلوم کرنے کے لیے ہم انہی دو طریقوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔ پہلے حلیتہ الاولیاء حافظ ابونعیم کے معتقدات خود اس کی تحریروں سے ملاحظہ ہوں۔

محدث ابو نعیم کی شیعہ نواز تحریریں:

در حلیة الاولیاءحلية الاولياء

عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَا أَنسُ اسْكِبُ لِي وُضُوءا اثُمَ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ يَا أَنَّسُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْكَ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ. وَسَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ وَقَائِدُ غَرَ الْمُحَجَّلِينَ وَخَاتِمُ الْوَصِيِّينَ قَالَ أَنَسٌ قُلْتُ اللَّهُم اجْعَلْهُ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَكَتَمْتُهُ إِذْ جَاءَ عَلَى فَقَالَ مَنْ هَذَا يَا أَنَسٍ فَقُلْتُ عَلِيَّ فَقَامَ مُسْتَبْشِرًا فَاعَتْنَقَهُ ثم جَعَلَ يَمْسَحْ عرْقَ وَجْهِهِ بِوَجْهِهِ وَيَمْسَحُ عَرُقَ عَلَى بِوَجْهِهِ قَالَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ شَيْئًا مَا صَنَعْتَ بِي مِنْ قَبْلُ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَأَنْتَ تُودِى عَنِّي وَ تُسْمِعُهُمْ صَوتِي وَتَبِنُ لَهُمُ مَا اخْتَلَفُوا فِيهِ بَعْدِي رَوَاهُ جابر الجعفي عن ابى الطفيل عن أنس نحوہ

(حلية الاولياء: جلد اول صفحہ نمبر 63 تا 64 تذكره على ابن ابي طالب)

ترجمہ: حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ مجھے حضورﷺ نے وضو کے لیے تیاری کا حکم دیا میں نے وضو کا اہتمام کیا آپﷺ نے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر دو رکعت پڑھیں پھر مجھ سے فرمایا جو سب سے پہلے اس دروازے سے داخل ہو گا وہ امیر المؤمنین، سید المسلمین اور خاتم الوصیین اور امت کا مسلمہ قائد ہوگا۔ میں نے دل میں ہی کہا۔ اے اللہ! یہ آنے والا انصار میں سے ہو۔ اتنے میں سیدنا علیؓ المرتضٰی تشریف لائے۔ حضورﷺ نے پوچھا کون آیا ہے؟ میں نے عرض کیا! علیؓ آئے ہیں۔ آپﷺ خوشی سے کھڑے ہوئے اور ان کو گلے لگا لیا، پھر اپنا پسینہ ان کے منہ پر اور ان کا پسینہ اپنے منہ پر ملنے لگے۔ سیدنا علیؓ عنہ نے پوچھا حضورﷺ آج آپ نے میرے ساتھ جو کچھ کیا وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا آپ نے فرمایا۔ ایسا کرنے سے مجھے کوئی چیز کیسے روکتی۔ حالانکہ تم وہ ہو کہ میرا پیغام لوگوں تک پہنچاؤ گے۔ اور میری آواز ان کو سنواؤ گے اور ان کے مابین اختلاف کو واضح کرو گے۔ اس روایت جیسی روایت جابر جعفی نے ابو الطفيل کی سند سے حضرت انسؓ سے ذکر کی ہے۔

نوٹ: حضورﷺ کی مذکورہ کلام سیدنا علیؓ المرتضٰی کے خلیفہ بلا فصل ہونے کی ایک دلیل ہے اور یہی عقیدہ اہلِ تشیع کا ہے۔ اسی لیے، خاتم الوصیین کا لقب بھی انہیں عطا کیا گیا۔ یعنی حضورﷺ کے قرضہ جات اور آپ کے پاس رکھی گئی امانتوں اور وعدوں کا ایفاء یہ سب سیدنا علی المرتضٰیؓ  کی ذمہ داری بنتی تھی لیکن ان پر عمل سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کیا۔ لہٰذا وہ وصیتِ مصطفےٰﷺ کے پورا کرنے والے ٹھہرے۔

سلیمان بن ابراهيم صاحب ینابیع المودۃ نے ایک روایت اپنی کتاب میں درج کر کے اُسے حافظ ابو نعیم کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھا ہے حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب مجھے شب معراج آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا۔ تو آسمان پرتمام پیغمبر جمع تھے۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو وحی آئی اے محمدﷺ! ان سے ان کی بعثت کا مقصد پوچھیے۔ انہوں نے جواب دیا خدا کی وحدانیت کی گواہی، آپﷺ کی نبوت کا اقرار اور سیدنا علی المرتضٰیؓ کی ولایت کو ماننا یہ ہماری بعثت کا مقصد ہے۔ (ینابیع المودة: صفحہ نمبر 337)

حضرات انبیائے کرامؑ سے سیدنا علی المرتضٰیؓ کی امامت و ولایت کا اقرار لیا جانا کس سنی کا عقیدہ ہے؟ اگر حافظ ابونعیم سنی تھا تو اس مضمون کی روایت کیوں کی؟ اور پھر اسے شیرِ مادر سمجھتے ہوئے سلیمان بن ابراہیم نے اسے ینابیع المودۃ میں کیوں ذکر کیا؟

حلية الاولياء:

عَنْ أَبِي بَرْزَهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه ان اللهَ عَهْدَ إِلى عَهْدًا فِي عَلَى فَقُلْتُ يَا رَبِّ بَيِّنُهُ لِي فَقَالَ اسْمَعُ فَقُلْتُ سَمِعْتُ فَقَالَ إِنَّ عَلِيًّا رَايَةَ الْهُدَى وَ إِمَامَ أَوْلِيَائِي وَ نُورَ مَنْ أَطَاعَني

(حلية الاولياء: جلد اول صفحہ 66 تا 67 مطبوعہ، بيروت)

صفحہ 1 از 10