حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 10 از 10

حافظ ابو نعیم کی کتاب سے خلفاء ثلاثہؓ کی شان میں چند روایات جو ہم نے درج کیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو نعیمؒ  کے دل میں خلفاء ثلاثہؓ کی بےپناہ محبت تھی اور پھر اسی اخبار میں انہوں نے شیعوں کے خلفاء ثلاثہؓ پر کیے گئے اعتراضات کا جواب بھی دیا۔ یہ بھی ان کے اہلِ سنت ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ انہیں ان کی اولاد نے خواہ مخواہ اپنی بناوٹی عزت بچانے کے لیے شیعہ بنایا ہے ورنہ درحقیقت اہلِ سنت کے عظیم محدث ہیں۔ رہا ان کی کتاب "حلیۃ الاولیاء" میں سیدنا مناقب علی المرتضیؓ کے سلسلہ میں بعض روایات جو اہلِ سنت کے عظیم مسلک کے خلاف ہیں اور اسی طرح سیدنا عمر بن خطابؓ کے بارے میں واقعہ کہ جب انہوں نے اپنی بیٹی سیدہ حفصہؓ کی طلاق کا سنا تو سر پر خاک ڈال کر پیٹنے لگے وغیرہ وغیرہ باتیں ان کی دو وجوہات سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ حافظ ابونعیم کے سامنے اپنے مقرر کردہ موضوع پر احادیث جمع کرنا مقصود و مطلوب تھا۔ رہا یہ کہ کون سی حدیث و روایت ضعیف، موضوع، متروک وغیرہ ہے اور کون سی قابل عمل؟ اسے انہوں نے پیش نظر نہ رکھا۔ جس طرح علامہ السیوطیؒ کا طریقہ ہے کہ وہ کسی موضوع پر جس قدر ذخیرہ احادیث ملتا ہے۔ اسے جمع کر دیتے ہیں، پھر ان کی صحت وغیرہ صحت کا تعین کرنے کے لیے انہوں نے "الاولی الموضوعه" نامی کتاب تصنیف فرمائی کہ جس میں انہوں نے اپنی روایات کے صحت سقم کو واضح کر دیا۔ اسی طرح حافظ ابونعیم نے صرف احادیث و روایات جمع کر دیں۔ ان کے مقام و مرتبہ کو علماء حدیث پر چھوڑ دیا۔ دوسری وجہ یہ کہ ان کی کتب میں ان کی اولاد (جو شیعہ تھی) نے ایسی روایات داخل کر دیں جو شیعیت کی موید تھی۔ یہ وجہ قوی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ شیعوں سے اپنے جدّا اعلیٰ کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ایسی حرکت کرنا کوئی بعید نہیں بلکہ یہ ان کی دیرینہ عادت ہے۔

بہر حال ابونعیم کی طرف منسوب شده عبارات اہلِ سنت پر قطعاً حجت نہیں بن سکتیں کیونکہ حافظ ابو نعیم کے نزدیک سیدنا ابوبکر صدیقؓ افضل الخلق بعد انبیاء اور سیدنا عمر بن خطابؓ ان کے بعد اعلیٰ درجہ کے مالک ہیں۔ مولانا عبد الرحمٰن جامی اور حافظ ابو نعیم محدث کے بارے میں جو میں نے تاویل ذکر کی ہے اللہ تعالیٰ نے کثرت درود شریف کی برکت سے مجھ پر ان کا القاء کیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی، اپنے محبوب کی اور محبوب کے محبوبوں کی محبت میں ہی زندہ رکھے، اسی حال میں موت آئے اور کل قیامت میں اسی کیفیت کے ساتھ میدان حشر میں جائیں۔

آمین بجاہ نبی الرحمۃﷺ


صفحہ 10 از 10