حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 2 از 10

ترجمہ: ابی برزہ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے سیدنا علی المرتضٰیؓ کے بارے میں ایک عہد لیا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا اے رب! وہ عہد بیان فرما دو فرمایا سنو!

میں نے کہا سنتا ہوں۔

تو کہا بے شک سیدنا علی المرتضٰیؓ ہدایت کا جھنڈا میرے اولیاء کا امام اور میری اطاعت کا نور ہے۔ 

اس عبارت سے بھی شیعہ نظریات ٹپک رہے ہیں۔ پیغمبر آخرالزمانﷺ سے سیدنا علی المرتضٰیؓ کے بارے میں عہد لیا جا رہا ہے۔ شاید اسی عہد کے پیشِ نظر مناقب ابن شهر اشوب نے لکھا ہے کہ"اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم نے اے محمدﷺ! سیدنا علی المرتضٰیؓ کی ولایت کا اعلان نہ کیا تو میں آپ کو عذاب دوں گا۔" 

اب دو سرا طریقہ اپناتے ہوئے ہم ابو نعیم کے متعلق کتب شیعہ سے چند حوالہ جات پیش کرتے ہیں جن میں شیعہ اکابر و محققین نے بالتصریح یہ لکھا ہے کہ حافظ ابو نعیم ہمارا آدمی ہے اور اس کی شیعیت پختہ ہے۔ حوالہ ملاحظہ ہو۔

محدث ابونعیم ملا باقر مجلسی شیعہ کا جد اعلیٰ ہے اور خاندان مجلسی میں ابو نعیم کا تشیع متوارث سے منقول ہے۔ شیعہ علماء

الذريعة:

تاريخ اصفهان للحافظ بي نعيم احمد بن عبد الله بن احمد بن اسحاق بن موسى بن مهران الاصفهاني المولود (334) اور 336) والمتوفى 430 كَمَا أَتَحَهُ ابْنُ خُلْكَانَ وَقَبُرُ فِي الأَصْفَهان في(آب بخشان) قَالَ فِي مَعَالِمِ العلماءِ إِنَّهَ عَامِيٌّ إِلَّا أَنَّ لَهُ مَنْقَبَةُ الْمُطَهِّرِينَ وَ مَرْتَبَهُ الطيبين وَمَا نَزَلَ مِنَ القرآن في أمير المومنين عليه السلام وعن الشيخ البهائي انه أو رد فِي حِلْيَتِهِ مَا يَدُلُّ عَلَى خُلُوصِ وَلَا يُهِ وَ هُوَ الْجدُّ الاعلى لِلْعَلَامَةِ الْمُجْلِي وَحُكِيَ في (الرَّوْضَاتِ) عَنِ الأمير محمد حسين الخواتون آبادى الْجَزَمُ بِتَشَيعه نقْلَا عَنْ آبَائِهِ عَنْهُ.

(الذريعة الى تصانيف الشيعه: جلد سوم صفحہ نمبر 232 مطبوعة بيروت طبع جدید)

ترجمہ: تاریخ اصفهان ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی کی تصنیف اس کا سن پیدائش 334 یا 336 ہے اور 430 میں انتقال ہوا۔ یہ تاریخ ابن خلکان کی تحقیق کے مطابق ہے اصفہان میں مقام آب بخشان میں اس کی قبر ہے معالم العلماء میں ہے کہ ابو نعیم ایک عام سنی مصنف ہے۔ مگر اہلِ بیت مطہرین کی منقبت و مرتبہ میں دو تصانیف بنام منقبة المطهرين، مرتبۃ الطیبین ہیں۔ اس نے قرآن کریم کی وہ آیات بھی اکٹھی کی ہیں۔ جو سیدنا علی المرتضٰیؓ کی شان میں نازل ہوئیں۔ شیخ بہائی کا کہنا ہے کہ ابو نعیم نے اپنی کتاب حلیۃ الاولیاء میں ایسی باتیں درج کیں ہیں۔ جو اس کی اہلِ بیت سے محبت پر دلالت کرتی ہیں ابونعیم مذکور علامہ مجلسی کا دادا ہے اور "الروضات" میں امیر محمد حسین خاتون آبادی سے حکایت کی گئی ہے کہ ابو نعیم یقیناً اہلِ تشیع میں سے ہے اس کا کٹر شیعہ ہونا اس کے آباؤ اجداد سے منقول ہے۔

اعيان الشيعه

عَنْ رِيَاضِ الْعُلَمَاءِ أَن أَبا نعيم هذا المعروف انه كَانَ مِنْ مُحَدِّثي عُلَمَاءِ أَهْلِ السُّنَّةِ ولكِنَّ سَمَاعِي مِنَ الاسْتَاذِ مُحَمَّد باقر مجلسى أنَّ الظَّاهِرَ كَونُهُ مِنْ عُلَمَاءِ أَصْحَابِنَا وَ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ فِي بَعْضِ فَوَائِدِ سيدنا الامير محمد حسین خاتون آبادی سبطِ العَلَامَةِ محمد باقر المجلسي قال و مِمَّنْ أَطَّلْعَهُ عَلَى تَشَيْعِهِ مِنْ مَشَاهِيْرِ عُلَمَاءِ أَهْلِ السُّنَّةِ هُوَ الْحَافِظُ أَبو نعيم المحدث باصبهان صاحب كتاب حلية الأولِيَاء وَهُوَ من أحدَادِ جَدَى العلامة ضَاعَفَ اللهُ الْعَامَة وقَدْ نَقَلَ جَدَى تَشَيعَهُ عَنْ وَالِدِه عَنْ أَبِيهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ إِلَى أَنْ قَالَ وَ لِذَا تَرَى كِتَابَهُ المسمى بحلية الأولياء يَحْتَوى عَلَى أَحَادِيثِ مَنَاقِبِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام مثالاً يُوجَدُ فِي سَائِرِ الْكُتُبِ وَلَمَّا كَانَ الوَلَدُ أَعْرَفُ بِمَذْهَبِ الوَالِدِ منْ كُلِّ اَحَدٍ لَمْ يَبْقَ شَكَ في تَشَيعه وَعَنِ الْمَوْلى نظام الدين القرشى مِن تَلاھنةِ الشيخ البهائي أنَّهُ ذَكَرَة في المقسم الثاني مِنْ كِتَابِ رِجَالِهِ نِظَامُ الْأَقْوَالِ وَقَالَ رَأَيْتُ قَبْرَهُ فِي إِصْبَهَانَ مَكْتُوبًا عَلَيْهِ قَالَ رَسُول الله صلى الله عليه وسلم مكتوب عَلَى سَاقِ الْعَرْشِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَبْدِي وَرَسُولِي وَأَيَّدْتُهُ بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَوَاہ الشيخ المُؤْمِنَ الحافظ الثِقَةُ الْعَدَلُ ابُو نعيم الخ-

(اعيان الشيعه: جلد سوم صفحہ نمبر 7 مطبوعہ بیروت طبع جدید) تذکره ابونعیم

ترجمہ: ریاض العلماء سے منقول ہے کہ ابو نعیم صاحب علیہ الاولیاء اہلِ سنت کے محدثین میں سے تھا لیکن میں نے جو اپنے استاد محمد باقر مجلسی سے سن رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ابو نعیم ہمارے علماء میں سے تھا اور روضات الجنات میں امیر محمد حسین خاتون آبادی جو کہ ملا باقر مجلسی کا نواسہ ہے۔ نے کچھ فوائد ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے۔ اہلِ سنت کے مشہور علماء میں سے جن کے شیعہ ہونے پر مجھے اطلاع ہوئی۔ ان میں سے ایک حافظ ابونعیم محدث اصبہانی ہے جن کی تصنیف حلیۃ الاولیاء ہے۔ ابو نعیم مذکور میرے داد کے اجداد میں سے ہیں میرے دادا نے ان کا شیعہ ہونا اپنے والد اور والد کے والد سے نقل کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ابو نعیم تک تمام کو شیعہ میں سے کہہ گئے۔ پھر کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصنیف حلیۃ الاولیاء میں ایسی احادیث پاتے ہو۔ جو سیدنا علی المرتضٰیؓ کی منقبت میں ہیں۔ یہ احادیث تمہیں دوسرے کسی مصنف کی کتاب میں نہ ملیں گی۔ جب بیٹا اپنے والد کے مذاہب کو سب سے زیادہ بہتر جانتا ہے۔ تو پھر ابو نعیم کے شیعہ ہونے میں قطعاً شک نہ رہا۔ نظام الدین قرشی جو کہ شیخ بہائی کے شاگردوں میں سے ہے اس سے منقول ہے کہ میں نے ابونعیم کی اصبہان میں قبر دیکھی۔ اس پر یہ عبارت درج تھی۔ 

صفحہ 2 از 10