حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 3 از 10

"حضورﷺ نے فرمایا کہ ساق عرش پر لکھا ہوا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ لاشریک ہے محمدﷺ بن عبد اللہ میرے بندے اور رسول ہیں اور میں نے سیدنا علی المرتضٰیؓ کے ذریعہ ان کی تائید کی"

اسے شیخ حافظ ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ الخ

 ابونعیم کی قبر پر آج بھی شیعوں والا کلمہ لکھا ہے

الكنى والالقاب:

ابو نعيم الأصبهاني مصغر الحافظ احمد بن عبد الله بن احمد بن اسحاق بن موسى بن مهران الاصبهاني من أَعْلَامِ الْمُحَدِّثِينَ وَالرُّوَاةِ وَأَكَابِرِ الْحُفَّاظِ وَالثَّقَاتِ أَخَدَ عَنِ الْافَاضَلِ وَأَخَذُهُ عَنْهُ لَهُ كِتَابٌ حِلْيَةِ أَلا وَلِيَاء وَهُوَ مِنْ أَحْسَنِ الْكُتُبِ كَمَا ذَكَرَهُ ابْنُ خَلْكَانَ وَهُوَ كِتَابٌ مَعْرُوفٌ بَيْنَ أَصْحَابِنَا يَنْقُلُوْنَ عَنْهَ أَخْبَارَ الْمَنَاقِبِ وَلَهُ أَيْضًا كِتَابُ الْأَرْبَعِينَ مِنَ الْأَحَادِيثِ الَّتِي جَمَعَهَا فِي أَمْرِ الْمَهْدِقِ (ع) وَلَهُ تَارِيخ اصْبَهَانِ وَعَنِ الْمَوْلى نظام الدين القرشي تلْمِيذٍ شَيْخنا البهائي أَنَّهُ ذَكَرَ هُذَا الرَّجَلَ فِي الْقِسْمِ الثَّانِي مِنْ كِتَابِ رِجَالِهِ الْمُسَمَّى بِنظِيمِ الْأَقْوَالَ قَالَ وَرَأَيْتُ قَبْرَهُ فِي اصْبَهَانَ وَكَانَ مَكْتُوبًا عَلَيْهِ قَالَ (ص) مَكْتُوبٌ عَلَى سَاقِ الْعَرْشِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنَ عَبْدِى وَ رَسُولِي أَيَّرْتُهُ بِعَلِي ابْنِ أَبِي طَالِبِ رَوَاهُ الشَّيْخُ الْحَافِظُ الْمُؤْمِنُ الثقة الْعَدَلُ ابُو نُعَيْمِ الخ

(كتاب الكنى والالقاب: جلد اول صفحہ 165 تا 166) 

(مطبوعه تهران طبع جدید) تذكره ابو نعيم

ترجمہ: ابونعیم اصبہانی حافظ احمد بن عبد اللہ بن احمد اکابر محدثین اور راویوں میں سے ہوا اور بہت بڑا حافظ الحدیث اور ثقہ آدمی تھا اپنے دور کے فاضل علماء سے علم پڑھا اور پھر اس سے پڑھنے والے بھی فاضل ہی ہوئے۔ اس کی ایک تصنیف حلیۃ الاولیاء نامی ہے، ابن خلکان نے اس کو بہترین تصنیف کہا ہے۔ یہ کتاب ہم اہلِ تشیع کے علماء میں معروف و مشہور ہے۔ وہ مناقب کی روایات اسی سے نقل کرتے ہیں۔ ابو نعیم کی ایک اور تصنیف کتاب الاربعین ہے۔ جس میں امام مہدی کے متعلق احادیث کو اس نے جمع کیا ہے تاریخ اصفہان بھی اسی کی تصنیف ہے۔ مولوی نظام الدین شاگرد شیخ بہائی نے ابو نعیم کو کتاب نظام الاقوال میں دوسری قسم کے لوگوں میں درج کیا ہے اور لکھا ہے کہ میں نے اصبہان میں اس کی قبر کو دیکھا۔ اس پر یہ عبارت درج تھی 

"حضورﷺ نے فرمایا ساق عرش پر یہ کلمہ تحریر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ لا شریک ہے۔ محمد بن عبد اللہ میرے بندے اور رسول ہیں سیدنا علی المرتضٰیؓ کے ذریعہ میں نے ان کی تائید کی،" 

یہ روایت حافظ مومن شیخ ابو نعیم نے ذکر کی ہے

لمحہ فكريہ

کچھ لوگوں نے حافظ ابو نعیم اصفہانی کو سنی علماء میں شمار کیا اور پھر اس کے فضائل اور مناقب بھی ذکر کیے۔ بات دراصل یہ ہے کہ سنیوں میں چونکہ تقیہ منافقت نہیں ہے۔ اس لیے نہ خود کرتے ہیں اور نہ کسی میں بغیر دلیل اس کو ثابت کرتے ہیں علماء اہلِ سنت نے ابو نعیم کی کتب کو دیکھا۔ ان میں بظاہر کوئی ایسی بات جو اہلِ تشیع اور اہلِ سنت کے مابین فرق کرنے والی ہو نظر نہ آئی اور نہ ہی صحابہ کرامؓ پر تبرہ بازی کی گئی ہو۔ اس بنا پر انہوں نے اسے اپنا سمجھا اس کے برعکس شیعہ مسلک میں "تقیہ" کے بغیر آدمی بے دین ہوتا ہے۔ لا دین لمن لا تقية له اس لیے انہوں نے تقیہ باز شیعہ علماء اور کھرے سنیوں کے مابین فرق کیا اور تحقیق کے ساتھ دونوں کی نشاندہی کی۔ اس لیے جب اہلِ تشیع کو کوئی ایسی عبارت جو ان کے مقصد و معتقدات کے مطابق ہو نظر آئی تو اس کے قائل کو اپنا کہا اور اہلِ سنت کی روش پر اس کا چلنا اسے بطور تقیہ قرار دیا اس حقیقت کے پیش نظر حافظ ابونعیم کو شیعہ محققین اور علماء نے صاف صاف لکھا کہ یہ دراصل ہمارا آدمی ہے محض تقیہ کی بنا پر سنی بنا ہوا تھا اور ظاہر سنیوں نے اسے سنی ہی کہا اور یہ دھوکہ کچھ شیعہ لوگوں کو بھی ہو گیا۔ اس دھوکہ سے آگاہ کرنے کے لیے ملا باقر مجلسی کے حوالے سے اس کے نواسے نے ابو نعیم کے جدی پشتی شیعہ ہونے کی دلیل پیش کی اور حلیۃ الاولیاء کتاب کو بھی بطور سند پیش کیا۔

حافظ ابو نعیم کے تشیع پر اس کی اپنی عبارات کی گواہی:

عبارت نمبر 1 حلية الاولياء

حَدٌثنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عَيَّاشٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حُصَيْره عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ جُنَّدَبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَّس أسْكُبُ لِي وَضُوءا) ثُمَّ تَامَ وَصَلَّى رَكْعَتَینِ ثُمَّ قَالَ يَا أَنَسَ أَوَّلُ مَنْ يَدُخُلُ عَلَيْكَ مِنْ هذَا الْبَابِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ وَ قَائِدُ الغُرِ المُحَجَلِينَ وَخَاتِمُ الْوَصِينَ) قَالَ انسَ قُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلُهُ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ وَكَتَمْتُهُ إِذَا جَاءَ عَلَى فَقَالَ مَنْ هَذَا يَا أَنَس فَقُلْتُ عَلَى فَقَامَ مُستبشرا فاعتنقه ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ عِرَقَ وَجْهَهُ بِوَجْهِهِ وَيَمْسَحُ عِرْقَ علي بوجهه قَالَ عَلَى يَا رَسُولَ الله لقد رأَيتك صَنَعْتُ شَيًّا مَا صَنَعْتَ لِي مِنَ قَبْلِ : قَالَ وَ مَا يَمْنَعُنِي وَأَنتَ تَوَدِّى عَنِّى وَتَسْمَعُهُمْ صَوتي وَ تَبَيَّنَ لَهُمُ مَا اخْتَلَفُوا فيهِ بَعْدِي ) رواه جابر الجعفي عن ابي الطفيل نحوه .

(حلية الاولياء: جلد 1 صفحہ 63 تا 64)

صفحہ 3 از 10