حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 4 از 10

ترجمہ: حضورﷺ نے حضرت انسؓ کو فرمایا میرے لیے وضو کا پانی لاؤ۔ آپ نے وضو فرمایا اور دو رکعتیں ادا کیں پھر کہا: اے انسؓ اب جو شخص اس دروازہ سے تم پر سب سے پہلے داخل ہو گا۔ وہ امیر المؤمنين، سيد المسلین، قائد غیر المجلین اور خاتم الوصیین ہو گا۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں میں نے دل میں کہا۔ اے اللہ! یہ منصب کسی انصاری کو عطا کرنا۔ اچانک سیدنا علی المرتضٰیؓ آ گئے حضورﷺ نے پوچھا۔ انس یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا سیدنا علیؓ المرتضٰی ہیں۔ آپﷺ بخوشی کھڑے ہوئے اور ان سے معانقہ کیا پھر ان کے چہرہ کا پسینہ اپنے چہرہ پر ملنے لگے۔ سیدنا علی المرتضٰیؓ کا پسینہ اُن کے چہرے پر بہ رہا تھا سیدنا علی المرتضٰیؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہﷺ! آج آپ میرے ساتھ کچھ ایسا سلوک کر رہے ہیں۔ جو اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آیا اس پر آپﷺ نے فرمایا کیوں نہ کروں کیونکہ تو وہ ہے جو میری طرف سے امانتیں ادا کرے گا۔ میری آواز لوگوں کو سنائے گا۔ اور میرے بعد جس میں لوگ اختلاف کریں گے تم اُسے بیان کرو گے۔ ابوطفیل نے جابر جعفی نے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔

وضیح

روایت مذکورہ میں "خاتم الوصیین" کے لفظ اہلِ تشیع کے ایک عظیم عقیدہ کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ یہی عقیدہ یہ لوگ اپنی اذان اپنے کلمہ میں ادا کرتے ہیں اور اسی عقیدہ کی بنا پر وہ خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کرنا ناجائز اور غاصبانہ فعل گردانتے ہیں۔ گویا اس ایک لفظ سے حافظ ابو نعیم نے شیعیت کی بھرپور ترجمانی کر دی ہے پھر شیعہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی جبری بیعت کے وقت سیدنا علی المرتضٰیؓ نے بہت زیادہ آہ و بکا کی اور روضہ رسولﷺ سے آواز بھی آئی اس آہ و بکا کے واقعہ کا ذکر ابو نعیم نے و تسمعهم صوت الخ میں کر کے شیعیت کی ہمنوائی کی۔ علاوہ ازیں روایت مذکورہ کے راوی ابراہیم بن میمون اور حارث ابن حصیرہ کٹر شیعہ ہیں۔

ميزان الاعتدال:

ابراهيم بن محمد بن میمون من الجلاء الشيعة

( میزان الاعتدال جلد اول صفحه نمبر 30) 

ترجمہ: ابراهیم بن محمد بن میمون شیعہ برادری کے بہت بڑے عالم ہیں۔

ميزان الاعتدال

الحارث بن حصيره الازدى من المحترقين بِالْكُوفَةِ فِي التَّشَيعِ وَقَالَ ذَنِي سَأَلْتُ حريرا أرأيت الحارث بن حصيره قَالَ نَعَم رَأَيْتُهُ شَيْخُنَا كَبِيرًا طَوِيلَ السَّكُوتِ يَصِرٌ على أمر عظيم عن الحارث بن حصيره عن زيد بن وهب سمعتُ عَلِيًّا يَقُولُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَ احَوَهُ رَسُولِهِ لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا کذَابٌ وَ قَالَ أَبُو حَاتِمِ الرَازِئُ هُوَ مِنَ الشَّيْعَةِ الْعِشْقِ

 (ميزان الاعتدال: جلد 1 صفحہ 200) حرف حاء

ترجمہ: حارث بن حصیرہ کوفہ کے دل جلے شیعوں میں سے تھا۔ ذینج کہتا ہے میں نے جریر سے پوچھا کیا تو نے حارث بن حصیرہ کو دیکھا ہے کہا ہاں وہ ایک بہت بوڑھا اور بہت زیادہ خاموش آدمی تھا ایک امر عظیم پر اصرار کرتا تھا وہ یہ کہ اس نے علی بن وہب کے واسطہ سے بیان کیا کہ اس نے سیدنا علی المرتضٰیؓ سنا فرماتے تھے میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسولﷺ کا بھائی ہوں۔ یہ بات میرے بعد وہی کہے گا جو بہت بڑا جھوٹا ہو گا۔ ابو حاتم رازی کے بقول حارث بن حصیر بےلگام شیعوں میں سے تھا۔

قارئین کرام! روایت مذکورہ کے دونوں راوی کٹر شیعہ اور بےلگام ہونے کے ساتھ ساتھ حسد و بغض کے مارے بھی ہیں۔ ان کی روایت کسی اہلِ سنت کے لیے کب حجت بن سکتی ہے؟ اگر ابو نعیم میں ان کی ہم نوائی نہ ہوتی اور وہ کٹر اہلِ سنت ہوتا تو ایسوں کی روایت ذکر نہ کرتا اور اس روایت میں سیدنا علی المرتضٰیؓ کا جو قول پیش کیا گیا۔ وہ حقیقت سے بہت دور ہے جس اعتبار سے سیدنا علی المرتضٰیؓ حضورﷺ کے بھائی ہیں۔ اسی اعتبار سے عبداللہ بن عباسؓ اور فضل بن عباسؓ کا بھی آپ سے یہی رشتہ ہے۔ کیا یہ دونوں اگر اپنے آپ کو رسول اللہﷺ کا بھائی کہیں تو "کذاب" شمار ہوں گے؟ علاوہ ازیں ابو نعیم نے روایت کے آخر میں اسی روایت کا جابر حنفی سے مروی ہونا بیان بھی کیا اور یہ صاحب اپنے دو ساتھیوں سے بھی چند قدم آگے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

تهذيب التهذيب

وَكَانَ جَابِرُ كَذَّابًا. قال الشعبي الجابر الجابر لَا تَمُوتُ حَتَّى تَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم- قال اما جَعْفِي فَكَانَ وَاللَّهِ كَذَابًا يُؤْمِنُ بِالرَّجعة- وقال ابو يحيى الحماني عن ابي حنيفه مَا لِقَيْتُ فِيمَنْ لَقِيتُ أَكْذَبَ مِن جابر الجعفي. وقال يحي بن يعلى سمعت زائدة يقول جابر الجعفي رافضي يستم اصْحَابَ النبي صلى الله عليه وسلم قال المجلي كَانَ ضَعِيفًا يَغْلُو في التشيع وقال الميونى قلت لا حمد بن خداش أَكَانَ جَابِرٌ يَكْذِب قال إى والله..وقال ابن حبان كان سبانيا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ الله بن سباء وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ عَلِيًّا يَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا۔

(تهذيب التهذيب: جلد دوم صفحه 47 تا 50)

ترجمہ: جابر کذاب ہے شعیبی نے جابر سے کہا۔ تو اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک رسول اللہﷺ پر بہتان نہ باندھ لے۔ کہا کے جعفی وہ تو خدا کی قسم کذاب تھا۔ اور رجعت پر ایمان رکھتا تھا۔ ابو یحییٰ الحمانی نے ابی حنیفہ سے بیان کیا کہ میں نے جابر جعفی ایسا کذاب اور کوئی نہیں دیکھا۔ یحییٰ بن یعلی کا کہنا ہے میں نے زائدہ سے سنا کہ جابر جعفی رافضی تھا۔ حضورﷺ کے صحابہؓ کو گالی دیا کرتا تھا مجلی کا کہنا ہے، ضعیف راوی ہے اور تشیع میں غلو کرتا تھا۔ میمونی نے کہا کہ میں نے احمد بن خداش سے پوچھا کیا جابر جھوٹ بولتا تھا۔ اس نے کہا خدا کی قسم! ہاں ابن حبان نے کہا کہ جابر جعفی عبداللہ بن سبا یہودی کے مذہب کا پیرو تھا اور کہا کرتا تھا کہ سیدنا علی المرتضٰیؓ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔

لمحہ فکریہ

صفحہ 4 از 10