حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 5 از 10

روایت مذکورہ کے جو ذرائع اور واسطے حافظ ابو نعیم نے بیان کیے۔ اُن کے رجال کٹر شیعہ بلکہ کذاب اور سرکار دو عالمﷺ کے اصحاب کو گالی دینے والے لوگ ہیں اور جابر جعفی تو کھلم کھلا عبداللہ بن سباء کا پرچارک ہے اور رجعت علی المرتضٰیؓ کا قائل ہے۔ جو اہلِ تشیع کا ایک اور واضح عقیدہ ہے۔ ابو نعیم نے اس روایت کو ذکر کر کے اس پر کوئی تنقید نہ کی۔ اسی کی رضا مندی کی دلیل ہے لہٰذا ابو نعیم کا تشیع واضح ہے اور تقیہ کا خوگر شیعہ ہونا ظاہر ہے۔

نوٹ: روایت مذکورہ کے آخری الفاظ "قال لعلى أنتَ تُبَینُ ما لامتي اخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِی" کے متعلق مستدرک میں یہ مذکور ہے ۔ "قلت بل هو فيما اعتقده من وضع ضرار قال ابن معين كذاب" یعنی علامہ ذہبی کہتے ہیں کہ روایت مذکورہ ضرار کی گھڑی ہوئی ہے اور ابن معین نے اسے کذاب کہا ہے۔ لہٰذا روایت مذکورہ کا آخری حصہ بھی پہلے کی طرح موضوع ہے۔ اگرچہ اول حصہ بالاتفاق موضوع ہے۔

عبارت نمبر 2

قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يا على الخصِمُكَ بِالنُّبُوَّةِ وَلَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَتَخْصِمُ النَّاسَ بِسَبْع وَلَا يُحَاكَ فِيهَا أَحَدٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَنْتَ أَوَّلُهُمْ إِيمَانَا بِاللَّهِ وَأَنْهَهُمْ بِعَبْدِ اللَّهِ وَتَقُومَهُمْ بِأَمْرِ اللهِ وَأَقْسَمَهُم بِالسَّوِيَّةِ وَأَعْدَ لَهُمْ فِي الرعیة وَأَبْصَرُهُمْ بِالْقَضِيَةِ وَاعْظَمَهُمْ عِنْدَ اللَّهَ مَزِيَّةً

(حلية الأولياء: جلد اول صفحہ 65 تا 66)

ترجمہ: حضورﷺ نے فرمایا اے علیؓ! میں تیرے ساتھ نبوت کے ساتھ جھگڑا کروں گا اور میرے بعد نبوت نہیں ہے اور تو لوگوں کے ساتھ سات باتوں میں جھگڑا کرے گا اور ان میں کوئی قریشی تیرے ساتھ جھگڑا نہ کرے گا۔ تو اللہ پر ایمان لانے میں، اللہ کا عہد پورا کرنے میں، اللہ کا امر قائم کرنے میں ان سب سے پہلے درجہ پر ہے۔ اور ان میں سے برابر تقسیم کر کرنے، رعیّت میں انصاف کرنے، فیصلہ کی حقیقت تک رسائی اور اللہ کے نزدیک مرتبہ میں اعلیٰ و افضل ہے۔

توضيح

روایتِ مذکورہ میں جملہ خصمك بالنبوة، کا ظاہر معنیٰ تو یہی ہے کہ میں محمدﷺ تیرے ساتھ اے علیؓ نبوت کے ساتھ جھگڑا کروں گا اور المنجد و خیر میں خصم کا معنیٰ یہ بھی کیا گیا ہے اس کے پیشِ نظر معنیٰ یہ ہو گا کہ میں تجھ پر بذریعۂ نبوت غالب آجاؤں گا لیکن "ولا نبوۃ بعدی" کا پھر کوئی محل نظر نہیں آتا۔

راقم الحروف نے اس عبارت کا ترجمہ اور مطلب مولوی اختر علی صدر مدرس جامعۃ المنتظر سے پوچھا تو انہوں نے بھی غلبہ کا معنیٰ لیا اور پھر روایت کا مطلب کچھ یوں بیان کیا۔ 

اے علیؓ! بالفرض اگر تو میرے ساتھ نبوت میں جھگڑا کرے تو میں غالب آجاؤں گا۔ لیکن اہلِ علم بخوبی جانتے ہیں کہ اس قسم کا مفروضہ شانِ نبوت کے بھی خلاف ہے اور سیدنا علی المرتضٰیؓ کی مخاصمت بھی وہمِ کفر سے خالی نہیں حقیقیت یہ بھی ہے کہ سیدنا علی المرتضٰیؓ کا درجہ اہلِ تشیع کے ہاں انبیاء کرامؑ سے بڑا ہے۔ بلکہ بقیہ آئمہ اہلِ بیت کا مرتبہ بھی حضرات انبیاء کرامؑ سے ارفع و اعلیٰ ہے۔ اس عقیدہ کے پیشِ نظر مذکورہ روایت کا مفہوم یہ ہوگا کہ سیدنا علی المرتضٰیؓ حضورﷺ سے نبوت میں مخاصمت کریں گے لیکن حضورﷺ ان پر غالب رہیں گے اور سات باتوں میں سیدنا علی المرتضٰیؓ  تمام بقیہ انسانوں پر غالب ہیں۔ جبکہ اہلِ تشیع سیدنا علی المرتضٰیؓ میں کچھ ایسی خصوصیات کے معتقد ہیں جو سرکار دو عالمﷺ کو بھی حاصل نہیں۔ تو پھر حضورﷺ سے ان کی مخاصمت کی وجہ بنتی ہے۔ عقائد جعفریہ جلد اول میں کتب شیعہ سے حوالہ جات کے ذریعہ ہم ان خصوصیات سے متعلق تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔

بالجملہ مذکورہ عبارت ابونعیم کے تشیع کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس روایت کے آخر میں "اعظمهم عند الله مزية"، بھی شیعیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ کیونکہ سیدنا علی المرتضٰیؓ کا تمام انسانوں سے افضل ہونا جن میں انبیائے کرامؑ بھی شامل ہوں یہ اگرچہ اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے لیکن اہلِ سنت کے نزدیک یہ کفریہ عقیدہ ہے اور اگر اس عظمت و افضلیت سے مراد حضورﷺ کے صحابہ کرامؓ سے ہے تو بھی اہلِ سنت کے معتقدات کے خلاف ہے کیونکہ ہمارے عقیدہ کے مطابق صحابہ کرامؓ میں افضلیت سیدنا ابوبکرؓ کو حاصل ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ روایت مذکورہ سے ابونعیم کے تشیع کا ثبوت ملتا ہے۔ 

میزان الاعتدال

بشار بن ابراهيم قال العقيلي يروى عن الاوزاعي مَوْضُوعات وقال ابن عدى هُوَ عِنْدِي مِمَّنْ يَضَعُ الْحَدِيثَ وقال ابن حبان كَانَ يَضَعُ الحَدِيث عَلى الثقات وَوَضَعَ نَحوه خالد بن اسماعيل انبانا مالك عن حميد عن انس مطين حدثنا خالد ابن خلد العبدي حدثنا بشر بن ابراهيم الانصاري عن ثور عن خالد بن معدان عن معاذ مرفوعا يَا عَلى أَنَا اخْصِمُ بالنبوة ولانبوة بعدی وَتَخْصِمُ النَّاسَ بِسَبْعٍ أَنْتَ اوْلَهُمْ إِيمَانًا وافهمهم بعهد واقَومَهُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ وَاقْسَمْ بالسويَّةِ وَعدْلِهِمْ وَ أَبْصَرُهُمْ بِالْقَضَاءِ وَ أَعْظَمُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَزِيَّةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ

(ميزان الاعتدال: جلد اول صفحہ 145، 146)

ترجمہ: بشار بن ابراہیم کے متعلق عقیلی نے کہا کہ یہ امام اوزاعی سے من گھڑت روایتیں بیان کرتا تھا۔ ابن عدی نے اسے من گھڑت احادیث والا بتایا ابن حبان نے کہا کہ یہ ثقہ لوگوں پر من گھڑت احادیث لگاتا تھا ان موضوع روایات میں سے ایک یہ بھی ہے جو خالد بن اسماعیل کی سند سے حضرت انسؓ سے مرفوعاً اس نے ذکر کی جس میں مذکور ہے کہ حضورﷺ نے سیدنا علی المرتضٰیؓ کو فرمایا میں تیرے ساتھ نبوت کے ساتھ جھگڑوں گا۔ الخ

تنقيح المقال: لَم اقِفُ فِيهِ إِلَّاعَلَى عَدَّ الشيخ إِيَّاهُ فِي رِجَالِهِ بالعنوان المذكور من اصحاب الباقر عليه السلام ظَاهِرُهُ كَونَهُ إِمَامِيَّا إِلَّا أَنَّ حَالَهُ مَجْهُولٌ

(تنقيح المقال جلد اول صفحہ 169) 

ترجمہ: میں بشار کے متعلق صرف اتنا جانتا ہوں کہ شیخ نے اسے اپنے رجال میں شمار کیا ہے اور وہ امام باقر کے اصحاب سے ہے۔ لہٰذا اس کا امامی ہونا ظاہر ہے لیکن اس کے تفصیلی حالات معلوم نہیں ہو سکے۔

لمحہ فكریہ

صفحہ 5 از 10