حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 6 از 10

روایت مذکورہ کو صاحب میزان الاعتدال نے بشار کی خود ساختہ ذکر کیا اور بشار کا معمول ظاہر و باہر ہے کہ ثقہ لوگوں کے نام پر حدیث گھڑ کر لوگوں کو بتایا کرتا تھا۔ عبداللہ مقانی صاحب تنقیح المقال نے اس قدر تسلیم کیا کہ امامی شیعہ ہے۔ اگرچہ اس کی تفصیل سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ بہرحال امام باقرؓ کے اصحاب میں سے ہے۔ لہٰذا ابو نعیم کا ایسے کذاب اور وضاع الحدیث کی روایت کو تنقید و جرح کے بغیر اپنی کتاب میں ذکر کر دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ابو نعیم کا نظریاتی طور پر اس سے اتفاق کرتا تھا اور اس لیے ابو نعیم کا شمار اہلسنت علماء میں ہرگز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کی عبارات اہلسنت کی عبارات کہلانے کی مستحق ہیں۔

عبارت نمبر 3:

حدثنا محمد ابن المظفر ثنا محمد ابن جعفر بن عبد الرحيم حدثنا احمد بن محمد بن يزيد بن سليم ثنا عبد الرحمن بن عمران ابن ليلى اخو محمد بن عمران ابن ليلى اخو محمد بن عمران ثنا يعقوب بن موسى الهاشمي عن ابن أبي رواد عن اسماعيل بن اميه عن عكرمه عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَحْيَى حَيَاتِي وَيَمُوتُ مَمَاتِي وَيَسْكُنُ جَنَّةً عَدْنٍ غرَسَهَا رَبِّي فَلْيُوَالِ عَلِيًّا مِنْ بَعْدِى وَلِيُوَالِ وَلِیهُ وَلْيَقْتَدِ بِالْأَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِي فَإِنَّهُمْ عِترَتی خُلِقُوا مِنْ طِينَتِي رُزِقُوا افَهُمَا وَعَلَمَا وَيْلٌ لِلْمُكَذِّبِينَ بِفَضْلِهِمْ مِنْ أُمَّتِي لِلقَاطِعِينَ فِيهِمْ صِلَتِي لَا أَنَا لَهُ اللهُ شَفَاعَتِي

(حلیۃ الاولياء: صفحہ 86 جلد 1)

ترجمہ: محمد بن مظفر اپنے واسطوں سے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو خوشی سے یہ چاہتا ہو کہ میری زندگی جیے، میری موت مرے اور جنت عدن میں سکونت رکھے۔ جسے میرے رب نے تیار کیا ہے تو اسے چاہے کہ میرے بعد سیدنا علی المرتضٰیؓ سے محبت کرے اور اس کے ولی سے محبت کرے میرے بعد ائمہ کی اقتداد کرے۔ کیونکہ وہ میری عترت ہیں میرے خمیر سے پیدا کیے گئے اور وافر فہم و علم کے مالک ہیں اور جو لوگ ان کے فضل کی تکذیب کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے بربادی ہے اور جوان میں میری صلہ رحمی کاٹنے والے ہیں ان کے لیے بھی بربادی اور ان کو اللہ تعالیٰ میری شفاعت سے محروم رکھے گا۔

توضیح:

حافظ ابو نعیم نے اس روایت میں سیدنا علی المرتضٰیؓ اور ائمہ اہلِ بیت سے دوستی اور محبت رکھنے کا جو ذکر کیا اسے اہلِ تشیع بڑے طمطراق سے بیان کرتے ہیں کیونکہ ان حضرات کی افضلیت کے منکر کو آپ کی شفاعت سے محرومی کی وعید دی گئی اور اس کے برخلاف محبِ علیؓ و ائمہ اہلِ بیت کے لیے بہت سے اخروی مدارج و مقامات بیان کیے گئے ہیں اہلِ تشیع کی کتب میں لکھا ہے کہ حضورﷺ نے اپنی امت کو قبل از وقت آگاہ کر دیا تھا کہ میرے وصال کے بعد لوگ میری جانشینی میں جھگڑیں گے۔ لہٰذا سیدنا علی المرتضٰیؓ سے موالات کا مظاہرہ کرنا اور مخالفین کا ساتھ نہ دینا اور خلافت بلا فصل، سیدنا علی المرتضٰیؓ کے لیے سمجھنا اور پھر جب سیدنا علی المرتضٰیؓ اس دار فانی سے تشریف لے جائیں تو ان کی اولاد کو ہی افضلیت کا مستحق سمجھنا ان کی ہی اقتداد کرنا اور یہی کچھ حافظ ابو نعیم بھی دبی زبان سے کہہ رہا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ کہ اہلِ سنت جن کو خلیفہ اول، دوم، سوم تسلیم کرتے ہیں یہ دراصل سیدنا علی المرتضٰیؓ کی فضیلت کے جھٹلانے والے ہیں۔ اور حضورﷺ کی صلہ رحمی کا خیال نہ رکھنے والے ہیں اور آپﷺ کی شفاعت سے محروم ہیں۔ اس لیے یہ لوگ غاصب، ظالم اور باغی قرار پائے (معاذ اللہ) بہر حال حافظ ابو نعیم کی ان عبارات کی روشنی میں کوئی بھی اہلِ سنت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لہٰذا ان کی عبارات ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ ان کا تشیع ظاہر اور تقیہ مخفی ہے۔ علاوہ ازیں روایت مذکورہ کے سب سے پہلے راوی محمد بن مظفر کے متعلق علامہ ذہبی فرماتے ہیں۔

میزان الاعتدال:

"إِنَّ أَبَا الْوَلِيدَ قَالَ فِيهِ تَشيعُ ظَاهِر" يعني ابو الوليد نے کہا۔ کہ محمد بن مظفر میں تشیع بالکل واضح ہے۔ 

(ميزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 138)

 اسی طرح ایک اور راوی عبد الرحمٰن بن عمران ہے۔ اس کے بارے میں صاحب تنقیح المقال رقمطراز ہے۔

تنقيح المقال:

وَالْإِسْنَادُ جَمَاعَةٍ عَنْ ابی الْمُفَضَّلُ عَنْ حَمِيدٍ وَظَاهِرُهُمَا كَوْنُهُ إِمَامَيًّا-

(تنقيح المقال: جلد 2 صفحہ 146 من البواب الدين)

ترجمہ: جماعت کا اسناد ابی مفضل سے کہ حمید سے مروی ہے اور ظاہر دونوں سے یہ ہے کہ وہ امامی ہے۔ 

قارئین کرام! خلافت بلافصل اور امامت ائمہ اہلِ بیت کا عقیده جواب تشیع کا معروف و مشہور عقیدہ ہے۔ حافظ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں اسے بیان کیا اور پھر اس کے دو راوی خود شیعہ امامی ہیں ان کی روایت کردہ حدیث پر کوئی اعتراض یا جرح نہیں کی۔ اب ایسے شخص کو غلام حسین نجفی وغیرہ اہلِ سنت کا بڑا عالم کہہ کر اس کے حوالہ جات پیش کریں اور پھر انہیں ہمارے خلاف بطور حجت بیان کریں اس کو کون ذی ہوش تسلیم کرے گا۔ اسی عبارت کو سامنے رکھ کر غلام حسین نجفی نے حافظ ابونعیم کے بقول یہ ثابت کرنے کی ناپاک کوشش کی کہ معاذاللہ خلفائے ثلاثہؓ کو ہم شیعہ ہی غاصب ظالم نہیں کہتے بلکہ سنیوں کا ایک بہت بڑا عالم بھی یہی کہہ رہا ہے جب ابو نعیم میں خود تشیع بھرا پڑا ہے تو پھر اس کی عبارات سے اہلِ سنت پر حجت قائم کرنا کس طرح درست قرار دیا جا سکتا ہے۔

عبارت 4 ينابيع المودة:

عن ابى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَسْرِى بي فِي لَيْلَةِ الْمُعْرَاجِ فَاجْتَمَعَ عَلَى الْأَنْبِيَاءُ فِي السَّمَاءِ فَأَوَحَى اللَّهُ الی يَا مُحَمَّدُ بِمَاذَا بُعِثْتُمْ فَقَالُوا بُعِثْنَا عَلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ وَعَلَى الْإِقْرَارِ بِنَبُوتِكَ وَ الْوَلَايَةِ لِعَلِّي بن أبي طالب- رواه الحافظ ابو نعیم (ينابيع المودة صفحہ نمبر 238) تذکرہ فضائل اہلِ بیت

صفحہ 6 از 10