حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 7 از 10

ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کہ حضورﷺ نے فرمایا! جب مجھے معراج کی رات سیر کرائی گئی تو میرے پاس انبیاء کرامؑ جمع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی۔ اے محمدﷺ کس کے ساتھ تمہیں مبعوث کیا گیا سب انبیاء کرامؑ بولے لا اله الا الله وحدہ کی گواہی دینے کے ساتھ بھیجا گیا اور حضورﷺ کی نبوت کے اقرار پر اور سیدنا علی المرتضٰیؓ بن ابی طالب کی ولائیت کے اقرار پر بھیجا گیا۔

لمحہ فكريہ:

مذکورہ عبارت حافظ ابو نعیم سے سلیمان بن ابراہیم نے نقل کی اس میں عقائد شیعہ کی صراحتہ ترجمانی کی گئی ہے۔ کیونکہ اہلِ تشیع کی کتب میں موجود ہے کہ انبیائے کرامؑ کی تشریف آوری تین باتوں پر موقوف تھی توحید باری تعالیٰ، رسالت محمدﷺ اور ولایت سیدنا علی المرتضٰیؓ اور یہ عقیدہ کسی سنی کا ہرگز نہیں، نہ ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔

اس عبارت سے بھی حافظ ابونعیم میں تشیع کے پائے جانے کا اظہار ہو رہا ہے۔

آخری گزارش

حافظ ابو نعیم کے بارے میں اہلِ سنت کی کتب اسماء الرجال میں کوئی جرح نہیں کی گئی۔ جس کیوجہ سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ حافظ ابونعیم بھی صحیح العقیدہ سنی ہیں۔ اور ان میں رفض و شیعیت نام تک سے بھی نہیں۔ لہٰذا جو لوگ ان پر تشیع کا الزام دھرتے ہیں یہ درست نہیں۔

 حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ ہماری کتب اسماء الرجال میں واقعی ان پر جرح نہیں کی لیکن خود شیعہ کتب میں انہیں بہترین تقیہ باز شیعہ کہا ہے اور ان کے اس قول کی تائید خود حافظ ابو نعیم کی کتب کی عبارات بھی کرتی ہیں جن میں سے چند بطورِ نمونہ ہم نے ذکر کیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں تشیع بہرحال موجود تھا اس لیے ان کی تصنیفات کے حوالہ جات کو وہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے عنوان سے پیش کرنا ہمارے خلاف کوئی حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ٹھیک ہے حافظ ابو نعیم نے کچھ صحابہ کرامؓ کی بھی تعریف لکھی ہے لیکن اس سے ان کا تشیع ختم نہیں ہو جاتا۔ کیونکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو خلفائے ثلاثہؓ پر لعن طعن نہیں کرتے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ رافضیوں کے غلط نظریات کی تردید کرنے کے لیے بھی تیار نہیں مختصر یہ کہ حافظ ابو نعیم اگرچہ بظاہر اہلِ سنت کا فرد ہے لیکن اس کی وہ عبارات جن میں تشیع ہے وہ ہم پر ہرگز حجت نہیں۔

اسی طرح صاحب اعیان الشیعہ ابو نعیم کے شیعہ ہونے پر یہ دلیل پیش کی کہ شیخ بہائی کے شاگرد نظام الدین شیعہ نے اسے علماء شیعہ کی قسم ثانی میں ذکر کیا ہے اور اس بارے میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ابونعیم کی قبر پر وہی کلمہ لکھا ہوا ہے جو اہلِ تشیع کا مروج ہے۔ ان تمام دلائل و شواہد سے منہ موڑ کر نجفی وغیرہ کا اسے سنی اور اس کی کتاب حلیة الاولیاء کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب لکھنا کسی قدر فریب ہے؟

دوسری طرف ہمارے علماء نے ابو نعیم کی روایات کو بوجہ کثرت موضوعات نا قابل اعتبار کہا ہے۔ جیسا کہ لسان المیزان میں مذکور ہے۔

لسان الميزان:

لَا أَعْلَمُ لَهُمَا ذَنبًا أَكْبَرَ مِنْ رِوَايَتِهِمَا المَوْضُوعَاتِ سَاكِتِينَ عَنْهَا

(لسان الميزان: صفحہ 201 جلد 1) تذکرہ احمد بن عبد الله الحافظ ابو نعیم)

ترجمہ: ان دونوں (ابو نعیم و ابن مندہ) کا سب سے بڑا جرم میرے نزدیک یہ ہے کہ ان دونوں نے موضوع روایات اپنی کتب میں ذکر کیں۔ اور پھر ان پر خاموشی اختیار کی ۔ اب جبکہ علماء شیعہ ابو نعیم کو بالدلائل اہلِ تشیع میں شامل کریں۔ اور پھر ان کی روایات میں موضوعات کی بہتات بھی ہو۔ تو پھر کس اعتبار سے ابو نعیم کی کوئی روایات قابل استدلال ہو سکتی ہے؟ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ابو نعیم نے موضوعات وہی درج کیں۔ جو مسلک شیعہ کی مؤید ہیں۔ اور اس کی طرف اعیان الشیعہ میں امیر خاتون آبادی کا قول اشارہ کر رہا ہے "حلیۃ الاولیاء" میں سیدنا علیؓ المرتضٰی کے مناقب میں ایسی احادیث موجود ہیں۔ جو کسی دوسری کتاب میں نہیں مل سکتیں.

  فاعتبروا یا اولی الابصار

مصنف کی طرف سے حافظ ابونعیم کے بارے میں ایک تاویل

حافظ ابونعیم کے بارے میں ہم نے تفصیلی بحث کرتے ہوئے ثابت کیا تھا کہ اس میں تشیع موجود ہے۔ جس کی دلیل مختصر یہ تھی کہ ملاباقر مجلسی (مشہور شیعہ محقق) کے اجداد میں سے ابونعیم ہے اور اسی طرح محمد حسین خاتون آبادی شیعی کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ ابو نعیم میرے دادا کے اجداد میں سے ہے ۔وَقَد نَقَلَ جَدَى تَشَيْعَهُ عَن وَالِدِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ اٰبائِهِ حتى انتهى اليه قَالَ هُوَ مِن مَشَاهِيرٍ مُحَدثی الْعَامَةِ ظَاهِرًا إِلَّا أَنَّهُ مِنْ خُلَصِ الشَّيعَة في باطن أمرہ

(ایان الشیعہ :جلد 3 صفحہ 7)

صفحہ 7 از 10