حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 8 از 10

میرے آباء و اجداد میں منقول ہے کہ ابو نعیم بظاہر اہلِ سنت کے مشہور محدث ہوئے ہیں لیکن در حقیقت وہ خالص شیعہ تھے چونکہ یہ دونوں افراد حافظ ابونعیم کے خاندان کے افراد ہیں ان کے کہنے کے مطابق ہم نے ابو نعیم میں شیعیت کا اثبات کیا کیونکہ گھر والے اپنے اندرون خانہ کے حالات دوسروں کی بہ نسبت بہتر اور صحیح جانتے ہیں لیکن راقم الحروف پچھلے دنوں جب حرمین طیبین کی زیارت کے لیے وہاں پہنچا تو مجھے حافظ ابونعیم کی ایک کتاب ملی جس کا نام "الامامه والرد علی الرافضہ" ہے۔ اس کتاب کے مقدمہ میں ڈاکٹر علی بن محمد بن ناصر نے بھی یہی کچھ لکھا۔ جو ہم بیان کر چکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو اس کتاب کا صفحہ نمبر 161) اس کتاب میں حافظ ابو نعیم کے (جیسا کہ کتاب کے نامغ سے ظاہر ہے، خلفائے ثلاثہؓ پر کیے گئے شیعوں کے بہت سے اعتراضات کا رد فرمایا اور تحقیقی جوابات دیے۔ جن کو ہم اپنی تصنیفات تحفہ جعفریہ کی پانچ جلدوں میں تفصیل سے پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔ اس نئی کتاب کو دیکھ کر میرے ذہن میں فوراً ایک تاویل آئی وہ یہ کہ ملا باقر مجلسی اور محمد حسین خاتون آبادی چونکہ حافظ ابو نعیم کی اولاد میں سے ہیں۔ انہوں نے خواہ مخواہ تقیہ کا سہارا لے کر حافظ ابو نعیم کو بھی اپنے مسلک کا پیرو لکھ دیا ہو کیونکہ ممکن ہے یہ دونوں اسے عار و شرم محسوس کرتے ہوں کہ کوئی انہیں کہے کہ تم شیعہ بنے بیٹھے ہو۔ دیکھو تمہارا دادا عظیم محدث حافظ ابو نعیم کٹر سنی تھا۔ پھر جب اس پر ان دونوں کو یہ کہا جائے کہ تم سنیوں کو کتے اور سور سے بھی برا سمجھتے ہو۔ تو بتاؤ تمہارا اپنے دادا حافظ ابونعیم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیونکہ وہ اہلِ سنت سے تعلق رکھتا تھا اگر واقعی سنی تمہارے نزدیک ایسے ہی ہیں تو پھر تم ان لوگوں کی اولاد ہو جو کتے اور سور سے بدتر ہیں۔ علاوہ ازیں جب شیعہ لوگ سنیوں کو کنجریوں کی اولاد بھی کہتے ہیں تو ان دونوں پر یہ الزام بھی آتا تھا کہ تم خود بھی ایک سنی کی اولاد ہونے کی وجہ سے زندیق ہو۔ ان تمام لوازمات و اعتراضات سے بچنے کے لیے انہوں نے حافظ ابونعیم کو خواہ مخواہ شیعہ بنا دیا ہو۔ گویا یہ سب کچھ اپنی ہی ذہنی اختراع ہے اور اپنے آپ کو بچانے اور بدنامی سے دور رہنے کے لیے اپنے دادا کو بھی اپنے نظریات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ حافظ ابو نعیم کی مذکور کتاب الامامہ والرد علی الرافضہ، میں خلفائے ثلاثہؓ کی شان میں بہت سی روایات مذکور ہیں، ہم ان میں سے چند احادیث بطور مثال درج ذیل کر رہے ہیں۔ ان سے آپ حافظ ابو نعیم کے بارے میں مذکورہ تأویل کی تائید کریں گے۔

خلفائے ثلاثہؓ کے فضائل میں حافظ ابو نعیم کی ذکر کردہ چند روایات

1: سیدنا صدیق اکبرؓ کی شان میں احادیث

 الامامة

عن ابي عثمانؓ حدثني عمرو ابن العاصؓ ان رسول اللهﷺ واله واصحابه وسلم بعثہ على جيش ذات السلاسل فلما أتيته قُلْتُ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ، عَاٸشةؓ قُلْتُ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ أَبُوهَا قَالَ ثم عَدَ رِجَالاً

(كتاب الامامة والرد على الرفضة: صفحہ 227 مكتبة العلم والحكم مدينه منوره)

ترجمہ: سیدنا ابو عثمانؓ سے روایت ہے کہ مجھے عمرو ابن العاصؓ نے حدیث بتائی۔ بے شک رسول اللہﷺ نے انہیں ذات سلاسل کے لشکر کا سردار بنا کر بھیجا۔ اس میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر بن خطابؓ بھی تھے، مجھے سپہ سالار مقرر کرنے پر مجھے خیال آیا۔ رسولﷺ کے نزدیک میں ان سے بھی زیادہ محبوب ہوں، میں نے عرض کیا یا رسولﷺ! آپ کو سب سے زیادہ کون پسند ہے؟ فرمایا سیدہ عائشہؓ میں نے عرض کیا مردوں میں سے؟ فرمایا اس کا والد آپ نے پھر کچھ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا بھی نام لیا۔

 2: الإمامة:

عن عمرو ابن عتبهؓ قَالَ اتيت رسول اللهﷺ واله اصحابه وسلم أَوَّلَ مَا بَعَثَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُسْتَخْفِ فَقُلْتُ فَمَن مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرَ قَالَ حُرَّ وَ عبد يعني أبا بكرؓ و بلالؓ

(الامامة والرد على الرفضة: صفحہ 231)

ترجمہ: سیدنا عمر بن عتبہؓ کہتے ہیں کہ میں رسول کریمﷺ کے پاس بعثت مبارکہ کے ابتدائی دور میں حاضر ہوا جبکہ آپ چھپے تھے۔ میں نے عرض کیا آپﷺ کے ساتھ کون کون اس وقت ہیں؟ فرمایا ایک آزاد اور ایک غلام یعنی سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا بلالؓ۔

 3: الامامة:

عن طلحةؓ بن مصرف قال سألت عبد الله بن ابي اوفي هَلْ کانَ رسول الله ﷺ واله واصحابه وسلم أوصى؟ قَالَ لا فَكَتَبَ عَلَى المسلمين أوامر المسلمين بِالْوَصِيَّةِ وَلَمُ يُوصِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ الله

 ( الامامة: صفحہ 233)

ترجمہ: طلحہ بن مصرفؓ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفیؓ سے پوچھا کیا سرکار دو عالمﷺ نے آخری وقت کوئی وصیت فرمائی تھی؟ فرمایا نہیں۔ آپ نے مسلمانوں کو تو وصیت کرنے کا حکم دیا، خود وصیت نہ فرمائی فرمایا! آپ نے کتاب اللہ وصیت فرمائی تھی۔

 4: الامامة:

عن عروة عن عائشةؓ وعن ابيهاﷺ وصلى الله تعالى عَلَى بَعْلِهَا وَ نَبِیهَا قَالَتْ دخل رسول اللهﷺ واله واصحابه وسلم في اليوم الذي بَدَا فِيهِ فَقَالَ ادْعِي لِي أَبَاكَ وَأَخَاكَ (حتى) اكْتُبُ لابِي بَكْرِؓ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ (وَيَتَمَنَی) ممَن وَيَابَي الله والمؤمنون إلا ابا بكرؓ 

 ( الامامة والرد على الرافضہ: صفحہ 249 تا 250 خلافت امیر المومنینؓ ابوبكرصديقؓ مكتبة مدينة المنورة)

 ترجمہ: سیدہ عائشہؓ سے سیدنا عروہؓ بیان کرتے ہیں فرماتی ہیں کہ جب حضورﷺ کے وصال شریف کے لمحات قریب آئے۔ تو آپﷺ نے فرمایا اپنے والد اور بھائی کو بلاؤ حتٰی کہ میں ابوبکرؓ کے لیے کچھ تحریر لکھوں مجھے خوف ہے کہ کوئی کہنے والا کہے گا اور کوئی آرزو رکھنے والا آرزو کرے گا، اللہ اور تمام مومن اس کا انکار کریں گے مگر اللہ تعالیٰ اور تمام مومن سیدنا ابو بکرؓ کا انکار نہیں کرتے۔

 سیدنا عمر بن خطابؓ کی شان میں احادیث:

 1: الامامة :

عن عمرو ابن ميمونؓ عن علي بن ابي طالبؓ قَالَ إِذَا ذْكرْت الصَّالِحِينَ فَحَي أَهْلَ العُمَرؓ كُنَا نَعْدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ على لسان عمرؓ -

 (احاديث في تفضيل عمرؓ ) (الامامه صفحہ 281) 

 ترجمہ:

صفحہ 8 از 10