حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم

  محمد علی

صفحہ 9 از 10

سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے سیدنا عمرو بن میمونؓ روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب تو صالحین کا ذکر کرے تو سیدنا عمرؓ کے اہل پر تحیت و سلام بھیجا کر ہم یہ سمجھتے تھے سکینہ (وحی) سیدنا عمرؓ کی زبان پر بولتی ہے۔

 2: الامامة:

عن عون بن ابي جحيفهؓ عن ابيه قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَؓ وَهُوَ مُسَجى فِي ثَوْبِهِ وَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ فَجَاءَ عَلَىؓ وكشف الثوبِ وَقَالَ رحمة الله عليك ابا حفص فَوَاللَّهِ مَا بَقِي أَحَدٌ بَعْدَ رَسُولِ اللهِﷺصلى والہ واصحابه وسلم أحب إلى أن القى الله بصحيفته منك رواه البو المعشر المديني عن نافع عن ابن عمرؓ

 (احاديث في تفضيل عمرؓ، الامامة: صفحہ 282)

ترجمہ: سیدنا عون بن ابی صحیفہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمرؓ کے پاس تھا۔ جب وہ وصال کے بعد کفن میں لپیٹے ہوئے تھے۔ اتنے میں سیدنا علی المرتضیؓ تشریف لائے اور منہ سے کپڑا ہٹا کر فرمانے لگے اے ابا حفصؓ اللہ کی تجھ پر رحمت ہو۔ خدا کی قسم رسولﷺ کے بعد تم سے بڑھ کر مجھے کوئی محبوب نہیں کہ جس کے اعمال کے ساتھ میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں اسے ابو اعمش مدینی نے نافع سے وہ سیدنا ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں۔

 3: الامامة:

عن ابي اسحاقؓ قَالَ ذَهَبَ بأَبِي إِلَى الْمَسْجِدِ يَومَ الجمعة فَقَالَ لِي هَل لَّكَ يا بُنَى أَن تَنْتُه إلى علىؓ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ قُم فَقُمْتُ فَإِذَا أَنَا بِشَيْخ أبيض الرأس واللَّحْيَةِ قَائِم عَلَى الْمِنْبَرِ لَہ صَلَعَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ خَيْرُ هذِهِ الْأُمَّةِ بعد نبيھاﷺ واله واصحابه و سلم ابو بكرؓ ثُمَّ عُمرؓ (الامامة: صفحہ 283)

 (احاديث في تفضيل عمرؓ)

ترجمہ: ابو اسحاقؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد اپنے ساتھ جمعہ کے دن مسجد میں لے گئے فرمانے لگے کیا تم سیدنا علیؓ کے ساتھ کوئی خواہش رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا ہاں فرمایا اٹھو! میں کھڑا ہو گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ سفید ریش اور سر کے سفید بالوں والا منبر پر کھڑا تھا۔ میں نے انہیں یہ فرماتے سنا۔ اس امت میں اس کے پیغمبرﷺ کے بعد بہترین آدمی سیدنا ابوبکرؓ پھر سیدنا عمرؓ ہیں۔

 سیدنا عثمان غنیؓ کی شان میں چند روایات

 1: الامامة:

عن عثمانؓ بن عبد الله بن موهب قال جاء رجل من مصر لحج البيت فَقَالَ يَا ابْنَ عُمَرَؓ انِي سَائِلُكَ عَنْ شَىء فَحَدثنِي انْشِدُكَ اللَّه بِحُرمَة ھذا الْبَيْتِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانؓ تَغِيبُ عَن بَدر فلَمُ يَشْهَدُهَا ؟ فَقَالَ نَعَم وَ لكِن أَمَّا تَغَيبه عَن بَدْرِ فَانَهُ كانت تحته بنت رسول اللهﷺ فَمَرِضت فَقَالَ له رسول اللهﷺ لكَ أجْرٌ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَ سَهُمُهُ۔

(الامامة: صفحہ 302 303) 

ترجمہ: سیدنا عثمانؓ بن عبداللہ موہب کہتے ہیں کہ مصر سے ایک شخص حج بیت اللہ کے لیے آیا۔ اس نے سیدنا ابن عمرؓ سے کہا میں تم سے ایک بات پوچھنے والا ہوں تمہیں اس بیت اللہ کی حرمت کی وساطت سے اللہ کی قسم دیتا ہوں مجھے اس کا صحیح جواب دینا۔ کیا تمہیں علم ہے کہ سیدنا عثمانؓ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے تھے؛ اس کی کیا وجہ تھی سیدنا ابن عمرؓ نے فرمایا وہ واقعی غزوۂ بدر سے غیر حاضر تھے لیکن ان کی غیر حاضری کی وجہ یہ تھی کہ ان کے عقد میں حضورﷺ کی ایک صاحبزادیؓ تھی جو بیمار تھیں تو انہیں حضورﷺ نے فرمایا تمہارے لیے بدر میں موجود صحابی کا اجر بھی ہے اور اس کا حصہ بھی مال غنیمت میں سے ہے۔

 2: الإمامة 

عن انسؓ قَالُ لَمَّا أَمَرَ رَسُول اللهﷺ واله واصحابه وسلم ببيعة الرضوان كَانَ عُثْمَانَؓ رَسُولِ اللهﷺ إلى أهل مَكَّةَ فَبَايَعَ النَّاسُ فَقَالَ رسول اللهﷺ ان عثمانؓ في حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةٍ رَسُولِهِ فَضَرَبَ احدی يَدَيْهِ عَلَى الْأَخْرَى فَكَانَ يَدُ رسول اللهﷺ لِعُثْمَانَؓ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لَانُفُسِهِمْ

( الامامة: صفحہ 305)

(خلافة الامام امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفانؓ)  

 ترجمہ: سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضورﷺ نے بیعت رضوان کا ارشاد فرمایا تو اس وقت سیدنا عثمانؓ جناب رسول کریمﷺ کی طرف سے اہلِ مکہ کی طرف پیغام لے جانے والے تھے تمام لوگوں نے بیعت کی پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ سیدنا عثمانؓ، اللہ کی حاجت اور اس کے رسول اللہﷺ کی حاجت میں مصروف ہے۔ پھر آپﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا پس رسول اللہﷺ کا ہاتھ جو سیدنا عثمانؓ کی طرف سے تھا وہ دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاتھوں سے کہیں بہتر تھا۔

3: الامامة:

فان زعم عثمانؓ أعطى من بيْتِ مَالِهِمْ مَا لم یكُن لَّهُ فِيهِ حق قيل له لم يثبت ذالك مِنْ وَجْهِ الصَّحِيحِ بَلْ قَالَهُ مَنْ قَالَ ظَنَّا وَكَيْفَ يُقْبَلُ على عثمانؓ وھو من أكثَرِ النَّاسِ مَالا وَابْدَلَهُمْ وَأَكْثَرَهم عطية وَمَعْرُوفًا مَعَ أَنَّ الْأَيَّامَ لَا تَخْلُو مِنْ جھال يَقُولُونَ مَا لا يَعْلَمُونَ

 (الامامة: صفحہ 318)

(خلافه الامام امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفانؓ) 

ترجمہ: اگر کوئی زعم کرے کہ سیدنا عثمانؓ نے بیت المال سے ایسے لوگوں کو دیا جن کا کوئی حق نہ تھا۔ تو اسے جواباً کہا جائے گا کہ تیرا یہ کہنا کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے۔ بلکہ یہ کسی کا اپنے ظن کے مطابق کہنا ہے۔ سیدنا عثمان غنیؓ کے بارے میں یہ بات کیسے مانی جا سکتی ہے۔ حالانکہ آپ تمام لوگوں سے مال میں اس کے خرچ کرنے میں اور بھلائی کے کاموں میں صرف کرنے کے اعتبار سے بڑھ کر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ ہر دور میں جہلاء بکثرت ہوتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے رہتے ہیں جن کا انہیں کوئی صحیح علم نہیں ہوتا۔

 خلاصہ کلام

صفحہ 9 از 10