کتاب الفتوح: اعثم کوفی مصنفہ احمد ابن اعثم کوفی - ردِ…

کتاب الفتوح: اعثم کوفی مصنفہ احمد ابن اعثم کوفی

  محمد علی

صفحہ 1 از 4

کتاب الفتوح: اعثم کوفی مصنفہ احمد ابن اعثم کوفی

"کتاب الفتوح" کے مصنف کا نام ابو محمد احمد بن اعثم کوفی ہے۔ عام کتب شیعہ کی طرح اس میں بھی حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں نازیبا اور زہریلا مواد موجود ہے۔ جن روایات میں اس قسم کی باتیں ہیں غلام حسین نجفی وغیرہ اسے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہہ کر ان روایات کو بطور محبت پیش کرتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر ایک دو اقتباس ملاحظہ ہوں۔

 ماتم اور صحابہؓ

 اہلِ سنت کی معتبر کتاب اعثم کوفی صفحہ نمبر 159 چھاپ قدیم فارسی:

"وسگاں یک ہایش رار بوده لودند (ماتم اور صحابهؓ صفحہ 145) 

 ترجمہ: کسی کی لاش پر کتے آئے اور ایک ٹانگ گھسیٹ کر لے گئے۔ نصیب اپنا اپنا۔

 نوٹ: یہ روایت اعثم کوفی نے سیدنا عثمان غنیؓ کے بارے میں لکھی ان کی شہادت پر ان کی لاشں تین دن تک بے گور و کفن پڑی رہی اور کوئی پرسان حال نہ تھا حتیٰ کہ لاش کی ایک ٹانگ کتے کاٹ کر لے گئے۔

ماتم اور صحابہؓ

  اعثم کوفی

 ترجمہ: ابنِ جریر نے ذکر کیا ہے کہ جب قاتلوں نے سیدنا عثمانؓ کے سر قلم کرنے کا ارادہ کیا تو عورتوں نے چیخ و پکار کی اور اپنے منہ پیٹے منہ پیٹنے والی عورتوں میں دو سیدنا عثمان غنیؓ کی بیویاں تھیں، ایک نائلہ اور دوسری ام النبیین اور منہ پیٹنے والی عورتوں میں سیدنا عثمانؓ کی بیٹیاں تھیں (ماتم اور صحابہؓ صفحہ 116)

جواب: غلام حسین نجفی نے اس حوالے سے ثابت یہ کرنا چاہا کہ سیدنا عثمان غنیؓ چونکہ بدکردار خلیفہ تھے معاذاللہ اس لیے انہیں اپنی قسمت کا لکھا دیکھنا پڑا لاش تک کو کسی نے نہ پوچھا اور کتے عام مردار کی طرح اس کی ٹانگ لے اڑے اس گستاخی اور توہین سیدنا عثمانؓ کا جواب توہم فقہ جعفریہ جلد چہارم میں تفصیل سے تحریر کر چکے ہیں جو چھپ کر بازار میں آ گئی ہے یہاں ہمیں اس بارے میں کچھ کہنا ہے "کتاب الفتوح المعروف اعثم کوفی اہلِ سنت کی معتبر کتاب ہے" اس بارے میں حقیقت یہ ہے کہ اس کے مصنف اور اس کی اس تصنیف کے شیعہ ہونے میں غلام حسین نجفی وغیرہ کو بھی یقین ہے لیکن حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خصوصا خلفائے ثلاثہؓ کی شان جہاں کہیں کوئی ادھر ادھر روایت نظر آتی ہے اسے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کی روایت کہہ کر عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے اعثم کوفی آٹھ جلدوں پر محیط ہےاور اس میں بہت سے مقامات پر اہلِ تشیع کے مخصوص عقائد کا ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے تمام کتاب سے ان مقامات کی نشاندہی کرنا طویل کام ہے اس لیے اس کی چند عبارات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

اعثم کوفی کے چند حوالہ جات

حوالہ نمبر 1

الَمْ تَكُونِينَ تُحَرِّضِينَ النَّاسَ عَلَى قَتْلِهِ ثُمَّ إِنَّكِ أَظْهَرْتِ عَيْبَهُ وَقُلْتِ اقْتُلُوا نْعْثَلاً فَقَدْ كَفَرَ

(كتاب الفتوح: جلد 2 صفحہ 249 ذكر قدوج عائشهؓ من مكه)

 ترجمہ: ( عبید بن ام کلاب سے جب سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے دمِ سیدنا عثمانؓ کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ تو سیدنا علی المرتضٰیؓ کی ولایت کو برا سمجھتی ہے اور سیدنا عثمانؓ کی طرفدار بن کر ان کے خون کا مطالبہ کر رہی ہے کیا تم نے لوگوں کو قتل سیدنا عثمانؓ پر ابھارا نہ تھا؟ اور پھر ان کے عیب بھی گنوائے اور یہاں تک کہا تھا اس نعثل (لمبی داڑھی والے) کو قتل کر دو یہ کافر ہو گیا ہے۔

حوالہ نمبر 2

اما ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ چنانکه بدان اشارت شد چندانکه تواتست و دانست مردم راور قتل تحریص می کرد. نا گاہی کہ سفر مکه درپیش داشت در مکه اور آاگہی دادند کہ عثمانؓ بدست صنادید اصحاب مقتول گشت نیک شاد شد - فقالت اَبعَدَهُ اللّٰهُ بِمَا قَدَّمَتْ یَدَاهُ اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِى قتله - عائشه در قتل سیدنا عثمانؓ شکر خداوند بگذاشت- دبرا و لعن و نفرین فرستاد- ہمانا عثمانؓ درا و اخر روزگار خود مانند کسی کہ از کرده خود پشیمان باشد گلا ہے شعری انشاء کردی دایں دو شعر ازدی روایت کردہ اند. 

تَقْنِي اللَّذَازَةٌ مِمَّنْ قَالَ صَفْوَتُهَا مِنَ الْحَرَامِ وَيَبْقَى الْإِثْمُ وَالْعَارُ

تَبْقَى عَوَاقِبُ سُوءٍ مِنْ مَعْقِبِهَا لَا خَيْرَ فِي لَذَّةٍ مِنْ بَعْدِھَا النَّارُ

(كتاب الفتوح اعثم كوفي: جلد 2 صفحہ 243 مطبوعہ مدینہ منوره طبع جدید)

ترجمہ: جیسا کہ اس کی طرف اشارہ گزر چکا ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ نے جس قدر ہو سکا لوگوں کو قتل سیدنا عثمانؓ پر ابھارا، اتفاقاً انہیں مکہ شریف جانا پڑ گیا جب مکہ پہنچ گئی تو لوگوں نے انہیں سیدنا عثمانؓ کے قتل ہونے کی اطلاع کی کہ وہ اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاتھوں مارے گئے ہیں یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئیں اور کہا اس نے جو کچھ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا نتیجہ دے دیا جس اللہ نے اسے قتل کروایا اس کا لاکھ لاکھ شکر ہے سیدنا عثمانؓ پر لعنت اور نفرت کا اظہار کیا خود سیدنا عثمان غنیؓ زندگی کے آخری لمحات میں اپنے کیے پر پشیمان نظر آتے تھے اور کبھی کبھار شعر بھی پڑھا کرتے تھے یہ دو شعر ان سے روایت کیے گئے ہیں:

بڑے بڑے حرام کاموں کی لذت فنا ہو جائے گی 

اور ان کا گناہ اور شرم باقی رہ جائے گی

برائی کرنے والے کے لیے اس کی برائی کے برے نتائج ہی باقی رہیں گے

 ایسی خوشی کا کیا فائدہ کہ جس کے انجام پر دوزخ ملے 

نوٹ: "نعثل کافر کو قتل کر دو" سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی طرف جملے کی نسبت کی حقیقت ہم اسی جلد میں تحریر کر چکے ہیں یہاں صرف اعثم کوفی کے حالات و نظریات کی روشنی میں اسے پیش کیا گیا ہے کیا کوئی اہلِ سنت کا فرد ام المومنینؓ کی طرف سیدنا عثمان غنیؓ کے بارے میں ایسے نظریات رکھتا ہے؟ اسی طرح سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت کا سن کر خوشی کا اظہار وہی کیا کرتے ہیں اور ان پر لعنت و نفرت کا ثبوت وہی پیش کیا کرتے ہیں جنہیں سیدنا عثمان غنیؓ کی خلافت حقہ پر یقین و ایمان نہیں یہ دونوں خبیث خیالات و نظریات رافضیوں کے ہیں اس لیے اعثم کوفی نہ خود سنی ہے اور نہ ہی اس کی کتاب الفتوح اہلِ سنت کی تصانیف میں سے ہے۔

حوالہ نمبر 3

صفحہ 1 از 4