کتاب الفتوح: اعثم کوفی مصنفہ احمد ابن اعثم کوفی - ردِ…

کتاب الفتوح: اعثم کوفی مصنفہ احمد ابن اعثم کوفی

  محمد علی

صفحہ 2 از 4

بَعَثَ مُعَاوِيَةُ بْنُ ابي سفيانؓ اِلى جُعْدة بِنْتِ الْأَشْعَثِ بن قيس زَوْجَةِ الْحَسَنِؓ سَمِّي الْحَسَنَؓ وَلَكِ مِائَةُ اَلْفِ دِرْهَمٍ وَ أُزَوِّجُكِ بِيَزِيد فَسَمَّتْهُ فَلَمَّا مَاتَ الْحَسَنُؓ بَعَثَتْ إِلَيْهِ لِتَنْجِزِ وَعْدِہ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا الْمَالَ - 

(تاريخ اعثم کوفی: جلد 4 صفحہ 206 وفات الحسنؓ تذکره بن علی)

ترجمہ: سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کی بیوی جعدة کی طرف پیغام بھیجا کہ اگر تو اپنے خاوند سیدنا حسنؓ کو زہر دے کر ہلاک کر دے تو میں تجھے ایک لاکھ درہم دوں گا اور اپنے بیٹے یزید سے تیری شادی بھی کر دوں گا اس لالچ پر جعدہ نے سیدنا حسنؓ کو زہر دے کر ہلاک کر دیا جب یہ کر چکی تو سیدنا معاویہؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنا وعدہ پورا کرو اس پر سیدنا امیر معاویہؓ نے مشروطہ مال جعدہ کی طرف بھیج دیا۔

 نوٹ: سیدنا حسنؓ کو ان کی بیوی جعدہ کا زہر دینے کا واقعہ ہے جو دراصل سیدنا امیر معاویہؓ پر اعتراض ہے، اس کا تفصیل کے ساتھ جواب اسی جلد میں تحریر کر چکے ہیں اور دلائل سے یہ بھی ثابت کر چکے ہیں کہ خود سیدنا حسنؓ کو بھی اپنے قاتل کے بارے میں کوئی علم نہ تھا لہٰذا اس عبارت سے سیدنا امیر معاویہؓ کی ذات پر قتل سیدنا حسنؓ کا الزام دھرنا کسی سنی کا عقیدہ نہیں ہو سکتا بلکہ کوئی مخالف سیدنا امیر معاویہؓ ہی کر سکتا ہے اور دنیا جانتی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا بدخواہ کون ہے؟

حوالہ نمبر 4

ذِكْرُ كَلَامِ مَا جَرَىٰ بَيْنَ حَفْصَةَؓ بِنْتِ عُمَرَ بْن الخَطَّابِ وَ بَيْنَ اُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَليؓ قَالَ وَبَلَغَ ذَالِكَ حَفْصَةَ بنتِ عمر بن الخطابؓ فارسلت إلى أم كلثومؓ فَدَعَتْهَا ثُمَّ أَخْبَرَ تْهَا باجْتِمَاعِ النَّاسِ إِلَى النَّاسِ إِلى عَائِشَةَؓ كُلَّ ذَالِكَ لِيَغَمِّهَا بِكَثْرَةِ الْجُمُوعِ إِلى عَائِشَةَؓ قَالَ فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ كُلْثُومٍؓ عَلٰی رِسْلِكِ يَا حَفْصَةٌؓ فَإِنَّكُمُ إِنْ تَظَاهَرْتُمْ عَلی أَبِي فَقَدْ تَظَاهَرْتُمْ عَلَى رَسُولِﷺ فَكَانَ الله مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلٌ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلٰئِكَةُ بَعْدَ ذَالِكَ ظَهِيرٌ فَقَالَتْ حَفْصَةٌؓ يَا هَذِهِ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّكِ فَقَالَتْ أُمُّ كُلْثُومٍؓ وَكَيْفَ يُعِيدُكِ اللهُ مِنْ شَرِّيْ وَقَدْ ظَلَمَتِنِي حَقى مَرَّتَيْنِ الْأَوَّلُ مِيرَاثي مِنْ أَمِّي فَاطِمَة بِنْتِ رَسُولِﷺ وَ الثَّانِي مِيرَاثِی مِنْ أَبِيکِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ وَ لَاَمَتِ النِّسَاءُ حَفْصَةَؓ عَلَى ذَالِكَ لَوْمًا شَدِيدًا

(تاریخ اعثم كوفى: جلد 2 صفحہ نمبر 299 تا 300 مطبوعہ حیدرآباد دکن طبع جدید)

ترجمہ: اس گفتگو کا تذکرہ جو سیدہ حفصہ بنت عمر بن الخطابؓ اور سیدہ ام کلثومؓ بنت علی المرتضیؓ کے مابین ہوئی، جب سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے ساتھ بہت سے لوگوں کا قافلہ کی شکل میں بصرہ جانے کا معاملہ سیدہ حفصہؓ کو پہنچا تو اس نے (سیدہ حفصہؓ نے) سیدہ ام کلثومؓ کو بلوایا اور پھر سیدہ ام کلثومؓ کو سیدہ عائشہؓ کے ساتھ لوگوں کے اجتماع کی خبر دی یہ اس لیے کیا تھا کہ سیدہ ام کلثومؓ کو سیدہ عائشہؓ کے پاس لے جا کر بہت سے لوگوں کی موجودگی میں پریشان کیا جائے سیدہ ام کلثومؓ نے کہا: اے سیدہ حفصہؓ! رک جاؤ اگر تم نے میرے باپ پر غلبہ کیا ہے تو تم رسول اللہﷺ پر بھی غلبہ کر چکے ہو لیکن اس وقت رسول اللہﷺ کا ساتھی اللہ٬ جبرائیل نیک مومن اور فرشتے بنے(اور تم ان کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے) یہ سن کر سیدہ حفصہؓ کہنے لگی: اے لڑکی! میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، سیدہ ام کلثومؓ نے کہا میرے شر سے تو پناہ کیسے مانگ سکتی ہے حالانکہ تو مجھ پر دو مرتبہ زیادتی کر چکی ہے؛ پہلی زیادتی یہ کہ تو نے میری والدہ سیدہ فاطمہؓ کی میراث مجھ سے غصب کی اور دوسری یہ کہ تیرے باپ سے میرا ورثہ غصب ہوا، اس پر موجودہ عورتوں نے سیدہ حفصہؓ پر خوب ملامت کی۔

حوالہ نمبر 5

قَالَتْ أم سلمهؓ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍؓ حَىٌّ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِؓ مَا سَمِعْنَا هَذَا مِنْ رسُولِ اللهِﷺ سَاعَةً قَطُّ فَقَالَتْ أم سلمةؓ رحمة الله عليها إِن لَمْ تَكُنْ اَنْتَ سَمِعْتَهُ فَقَدْ سَمِعَتْهُ خَالَتُكَ عَائِشَهُؓ وَهَا هِيَ فَاسْئَلْهَا فَقَدْ سَمِعَتُهُﷺ يَقُولُ عَلیٌؓ خَلِيفَةٌ عَلَيْكُمْ فِي حَيَاتِي وَمَمَاتِي فَمَنْ عَصَاهُ فَقَدْ عَصَانِي اَلتَشْهَدِينَ يَا عَائِشَةُؓ بِهَذَا أَمْ لَا فَقَالَتْ عَائِشَةُؓ اللَّهُمَ نعم

(تاريخ اعثم كوفي: جلد 2 صفحہ 282 تا 283 تذكره خبر عائشہؓ مع ام سلمهؓ)

 ترجمہ: سیدہ ام سلمہؓ نے سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ سے فرمایا سیدنا علی المرتضیٰؓ بقید حیات ہیں اور وہ ہر مومن مرد و عورت کے ولی ہیں یہ سن کر سیدنا عبداللہ راضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ بات ہم نے تو کبھی بھی رسولﷺ سے نہیں سنی۔ سیدنا ام سلمہؓ نے فرمایا اگر تم نے نہیں سنی تو تمہاری خالہ سیدہ عائشہؓ نے تو سن رکھی ہے وہ موجود ہیں ان سے دریافت کر لو انہوں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے سنا سیدنا علیؓ میری زندگی اور موت دونوں صورتوں میں تم پر میرا خلیفہ ہے لہٰذا جس نے سیدنا علیؓ کی نافرمانی کی اس نے درحقیقت میری نافرمانی کی۔ اے سیدہ عائشہؓ کیا تم اس کی گواہی دیتی ہو یا نہیں؟ سیدہ عائشہؓ نے کہا بخدا میں اس کی گواہی دیتی ہوں۔

نوٹ: حضورﷺ کی زندگی اور آپﷺ کے وصال کے بعد خلافت کا حقدار صرف اور صرف سیدنا علی المرتضیٰؓ کو بتلانا "خلافت بلا فصل" کہلاتا ہے اور اس سے خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کو غاصبانہ اور ناجائز ثابت کرنا نظر آتا ہے کیا اس عقیدے کا معتقد اہلِ سنت ہو سکتا ہے۔

حوالہ نمبر 6

بعد ازاں چو مرض آں امام عالی مقام زیادت شد و دانست کے وقت ارتحال اس سیدنا حسینؓ راوصیتہا کردہ کہ امر امامت را بداں جناب تفویض نمود- (تاریخ اعثم کوفی جلد چہارم٬ صفحہ 207، تذکرہ وفات حسنؓ)

صفحہ 2 از 4