کتاب الفتوح: اعثم کوفی مصنفہ احمد ابن اعثم کوفی - ردِ…

کتاب الفتوح: اعثم کوفی مصنفہ احمد ابن اعثم کوفی

  محمد علی

صفحہ 3 از 4

 ترجمہ: اس کے بعد جب سیدنا حسنؓ کا مرض بڑھ گیا اور آپؓ کو یقین ہو چلا کہ اب دنیا سے میرے کوچ کا وقت آن پہنچا ہے تو آپ نے اپنے برادر خورد جناب سیدنا حسین ؓ کو بہت سی وصیتیں فرمائیں اور یہ بھی فرمایا کہ اب میرے بعد امامت کا معاملہ تمہارے سپرد ہے۔

نوٹ: امامت کے بارے شیعوں کا یہ نظریہ ہے کہ یہ "منصوص من اللہ" ہوتی ہیں اس کی وضاحت عقائد جعفریہ جلد اول میں ملاحظہ کر لیں اسی عقیدے کی ترجمانی کرتے ہوئے اعثم کوفی نے یہ روایت بلا سند ذکر کی کہ سیدنا حسنؓ نے بوقت وصال سیدنا حسینؓ کی امامت کی نص فرما دی۔

حوالہ نمبر 7

اعثم کوفی ایک واقعہ یوں نقل کرتا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس سے گزر ہوا تو وہ راہب آپ کو دیکھ کر نیچے اترا اور آپ پر ایمان لے آیا پھر کہنے لگا کہ میرے پاس حضرت عیسی علیہ السلام کی لکھی ہوئی ایک کتاب ہے میں وہ پیش کرتا ہوں چنانچہ وہ کتاب لایا اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کو پڑھ کر سنائی اس میں لکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ امی لوگوں میں ایک رسول بھیجے گا جو انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا پھر جب اس پیغمبر کا انتقال ہو جائے گا تو اس کے امتی اختلاف کا شکار ہو جائیں گے اختلاف خدا ہی بہتر جانتا ہے کب تک رہے گا پھر ایک شخص اسی امت میں سے اس نہر کے کنارے سے گزرے گا وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والا ہو گا لہٰذا جس کسی کو اس مرد صالح کی زیارت نصیب ہو اسے اس کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ وہ خاتم الانبیاء (جناب محمدﷺ) کا وصی ہو گا اور جو بھی اس کے ساتھ مرے گا وہ درجہ شہادت پائے گا یہ سن کر سیدنا علی المرتضیٰؓ رو دیے اور کہنے لگے تمام تعریفیں اس اللہ کو زیب جس نے ابرار کی کتابوں میں میرا ذکر کیا ہے۔

 نوٹ: اس بے سروپا اور بے سند واقعہ سے اعثم کوفی نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ رسول خداﷺ کے وصی تھے اور یہ بھی کہ حضورﷺ کے بعد امت میں اختلاف کی صورت میں لوگوں کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ساتھ دینا چاہیے نہ کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ وغیرہ کا۔ سیدنا علی المرتضٰیؓ کو رسول کریمﷺ کا وصی ماننا کس کا عقیدہ ہے ؟ کون اپنی اذان و کلمہ میں اس کا اظہار کرتا ہے؟

حوالہ نمبر 8

ثمَّ أَمَرَ عَلَى بِرَيْنِ عُثْمَانَؓ فَحُمِلَ وَقَدْ كَانَ مَطْرُومًا عَلَى مَرْبَلَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى ذَهَبَتِ الْكِلابُ بِفَرْدِ رجُلَيْهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُصْرِيِّينَ وَأُمَّةٌ لَا نُدُفِتْهُ إِلَّا فِي مَقَابِرِ الْيَهُودِ (تاريخ اعثم كوفي: جلد 2 صفحہ 247، تذکره مقتل عثمانؓ)

 ترجمہ: سیدنا عثمان غنیؓ کے شہید ہو جانے کے بعد تین دن تک اس کی نعش کوڑے کرکٹ کے ایک ڈھیر پر پڑی رہی۔ حتیٰ کہ آپ کی ایک ٹانگ کتے کاٹ کر لے گئے ۔ پھر کہیں جا کر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے انہیں دفن کرنے کا حکم دیا ۔ ایک مصری شخص اور دوسرے بہت سے لوگوں نے کہا کہ انہیں یہودیوں کے قبرستان میں ہی دفنایا جائے۔

 نوٹ: سیدنا عثمان غنیؓ کی نعش کا تین دن تک بےگور و کفن ایک کوڑے کے ڈھیر پر پڑا رہنا اور پھر اس دوران کتوں کا ان کی ٹانگ لے اڑنا ہم ان دونوں گستاخیوں کا مسکت جواب تحفہ جعفریہ جلد چہارم صفحہ 506 پر تحریر کر چکے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت بروز جمعہ ہوئی اور ہفتہ کی رات آپ کو سپرد خاک کر دیا گیا تھا۔ حش کوکب (جس کا ترجمہ کوڑا کرکٹ کا ڈھیر کیا گیا )۔ دراصل ایک کوکب نامی صحابی کے نام کا باغ تھا جو یہودیوں کے قبرستان کے قریب تھا اور دوسری طرف اس کی جنت البقیع سے ملتی تھی یہ واقعہ اگرچہ ناسخ التواریخ میں بھی مذکور ہے لیکن اس نے اسے اعثم کوفی سے لیا۔ جس سے پتہ چلا کہ اس بےسند اور بےاصل واقعہ کا وضع کرنے والا اعثم کوفی ہے۔ اور اسے جس مقصد کے لیے تراشا گیا۔ وہ آپ کے سامنے ہے کیا ایسے واقعات گھڑنے والا سنی عالم کہلا سکتا ہے؟ بغض سیدنا عثمان غنیؓ کن کی فطرت میں رچا ہوتا ہے؟

حوالہ نمبر 9:

فَغَضَبَتْ عَائِشَةُؓ وَقَالَتْ نَاوِلَنِي كَنَّا مِنْ حصباء فَنَاوَلُوهَا فَحَصَبَتْ بِهَا أَصْحَابَ عَلِيٌّ وَ قَالَتْ شَاهَتِ الْوُجُوهُ فَصَاحَ بِهَا رَجُلٌ مِنْ اصحَابِ عَليؓ وَقَالَ يَا عَائِشَةٌؓ وَمَا رَمَيْتِ إِذْ رَمَيْتِ وَالكِنَّ الشَّيْطَنَ رَمىثُمَّ جَعَلَ يَقُولُ شِعْرًا. 

    قَدْ جِئْتِ يَا عَيْشُ لِتَعْلَمِينَا 

    وَ تَنشُرُ الْبَرْدَ لِتَهزمِينَا 

    وَ تَقْذِفي الْحَصَبَاءُ جَهْلاًفِينَا 

    فَعَنْ قَلِيْلٍ سَوْفَ تَعْلَمِينَا 

(تاريخ اعثم كوفي: جلد 2 صفحہ 325 تا 326 خبر الفتى الذي حمل المصحف)

 ترجمہ: جنگِ جمل کے دوران سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے غصہ میں آ کر کہا۔ مجھے کنکریاں پکڑاؤ لوگوں نے کنکریاں دیں آپ نے وہ کنکریاں علی المرتضیٰؓ کے ساتھیوں کی طرف پھینکتے ہوئے کہا! تمہارے چہرے سیاہ ہو جائیں یہ سن کر سیدنا علی المرتضیؓ کے ایک طرف دارنے کہا۔ اے عائشہؓ! یہ کنکریاں جب تو نے پھینکیں تھیں تو تو نے نہیں بلکہ شیطان نے پھینکی تھیں۔ پھر یہ شعر بھی کہے۔

اے عائشہؓ! تو نے یہ کنکریاں اس لیے پھینکیں تاکہ تو ہمیں یہ بتلائے کہ ہم شکست کھانے والے ہیں۔ تمہیں ہمارے بارے یہ علم ہی نہیں کہ ہم کیا ہیں۔ بہت جلد تجھے اس کا بھی پتہ چل جائے گا۔

 نوٹ:کیا گیا اور پھر ایک فرضی طرفدار سیدنا علیؓ کا قول پیش کر کے اعثم کوفی نے دراصل اپنے خبث باطنی کی غذا بہم کی۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا کنکریاں مارنا اور پھر سیدنا علیؓ کے ایک شیعہ کا اسے شیطان کی کنکریاں مارنا قرار دینا کسی سنی کے ذہن میں یہ خبیث مضمون آ سکتا ہے ؟

ان حوالہ جات سے اعثم کوفی کے نظریات و عقائد خود اس کی تحریروں سے واضح ہوئے اور ان کی روشنی میں ہم اس نتیجہ پر بآسانی پہنچ گئے کہ اعثم کوفی پکا اور کٹر رافضی ہے اور اس کی تصانیف اسی کے نظریات کی پرچار میں ہیں۔ انہی خطرات کی روشنی میں خود شیعہ محقق اسے کیا کہتے ہیں۔ یہ بھی سنیے۔

الذريعة

فتُوحُ الْإِسْلَامُ لِأَحْمَدَ بْنِ اعْثم ابي محمد الكوفي الأَخْبَارِي المُؤرخ المتوفى حدود 314 عَبَّرَ عَنْهُ يَا قُوت كِتَابِ الفتوح (الذريعة إلى تصانيت الشيعه جلد 16، صفحہ 119)

صفحہ 3 از 4