روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند

  محمد علی

صفحہ 1 از 4

روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند

محمد میر خواند بن خاوند شاہ کی تصنیف روضته الصفاء بھی ان کتابوں میں سے ایک ہے جن میں اہلِ سنت کے خلاف زہریلا پروپیگینڈا کیا گیا ہے اس کا مصنف پکا امامی شیعہ ہے جیساکہ ہم حوالہ جات سے ثابت کریں گے لیکن اس کے باوجود کچھ اہلِ تشیع اسے سنی کے طور پیش کر کے اس کی کتب سے حوالہ دے کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی قسم کی ایک بھونڈی کوشش غلام حسین نجفی نے بھی کی۔ سیدنا عثمان غنیؓ کے بارے میں زہر اگلتے ہوئے وہ لکھتا ہے: "سیدہ عائشہؓ کا فتوٰی کہ سیدنا عثمانؓ نعثل کو قتل کرو اللہ اس کو قتل کرے"

ثبوت ملاحظہ ہو ۔ اہلِ سنت کی معتبر کتاب روضته الصفاء ذکر عثمانؓ الخ (قول مقبول صفحہ 539)

 جواب: حسب سابق ہم اس سلسلہ میں وہی دو طریقے اختیار کرتے ہیں۔

 اول: یہ کہ اس کی چند عبارات پیش کریں جو اس کے نظریات و معتقدات پر روشنی ڈالتی ہوں۔

 دوم: یہ کہ اس کے بارے میں اسمائے رجال اور کتب وغیرہ کے بارے میں تحقیق کرنے والے محمد میر خواند صاحب روضته الصفاء کو کسی گروہ کا آدمی کہتے ہیں۔ آئیے! صاحب روضۃ الصفاء سے چند اقتباسات دیکھیں:

روضته الصفاء سے چند شیعہ نواز اقتباسات:

اقتباس نمبر 1:

عبید بن سلمہ کہ از اخوان عائشہؓ بود بعد از مشاهده ایں افعال و اقوال ترک اختلاط از عائشہؓ کرده یا او گفت۔ عجب حالتی است کہ نخستیں کسیکہ زبان تبعرض و تشنیع عثمانؓ کشود تو بودی و پیوسته می گفتی کہ اقتلوا نعثلا فانه قد کفر ونعثل اسم الشخصے طويل اللحیة بود کہ باعثمانؓ از روئے صورت مشابہت داشت و هرگاه معترضان در مقام بد گوئی و عیب جوئی عثمانؓ می آوند ایں اسم بردے اطلاق می کردند. چوں عبید بن سلمہ حالتہ راسخن مذکور منسوب کرد عائشہؓ جواب داد کہ بعد از آنکہ قوم عثمانؓ را از افعالی کہ پسندیده ایشاں نہ بود توبہ دادند و اجتماع برقتل او نمود ندایں هر دو قول است اما حدیث اخیر بہتر است از حدیث اولی عبید بن سلمہ دراں باب بیتے چند گفتہ که ایں دو بیت از جملہ ابیات است

فَمِنْكِ الْبَدَاءُ وَ مِنْكِ الْمَفَرُ

وَ مِنْكِ الرِّيَاحُ وَ مِنْكِ المَطَر

وَأَنْتِ أَمَرْتِ بِقَتْلِ الْإِمَامِ

وَقَاتِلہ عِندَنَا مَنْ أَمَرَ

(تاریخی روضتہ الصفاء: جلد 2 صفحہ 478 ذکر خلافت امیر المؤمنین سیدنا علیؓ مطبوعہ لکھنو طبع قديم)

 ترجمہ: سیدنا عثمان غنیؓ کے شہید ہو جانے کے بعد جب سیدہ عائشہ صدیقہؓ ان کے خون کا مطالبہ کرنے لگیں تو ان کے بھائی عبید بن سلمہ نے جب ان تمام افعال و اقوال کا مشاہدہ کیا تو اپنی بہن سیدہ عائشہؓ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور ان سے کہا عجیب حالت ہے کہ سیدنا عثمان غنیؓ کے بارے میں سب سے پہلے اعتراض کرنے والی تم خود ہو اور کئی مرتبہ یہ کہ چکی ہو کہ اس نعثل کو قتل کر دو یہ کافر ہو گیا ہے "نعثل" ایک لمبی داڑھی والے شخص کا نام تھا جس کی شکل و صورت سیدنا عثمان غنیؓ سے ملتی جلتی تھی اور جب کسی کی عیب جوئی اور برا بھلا کہنے کا موقعہ آتا ہے تو نعثل کا لفظ اس وقت استعمال کرتے ہیں۔ جب عبید بن سلمہ نے سیدہ عائشہؓ کو یہ بات کہی تو انہوں نے جواباً کہا کہ جب لوگوں نے سیدنا عثمان غنیؓ سے کچھ ایسے افعال سرزد ہوتے دیکھے جو ناپسندیدہ تھے۔ تو انہوں نے توبہ کرنے کو کہا اور ان (سیدنا عثمانؓ) کے قتل کے لیے اکٹھے ہو گئے یہ دو قول ہیں لیکن آخری بات پہلی بات سے بہتر ہے عبید بن سلمہ کے اس موقعہ پر کہے گئے اشعار میں سے دو شعر یہ ہیں۔

اے سیدہ عائشہؓ! تو نے اس کام کی ابتداء کی۔

 اور تجھ پر ہی اس کا اختتام ہوتا ہے۔

 اور ہوا بھی تیری طرف سے تھی اور بارش بھی۔ تو نے ہی تو قتل سیدنا (عثمانؓ) کا حکم دیا تھا۔ ہمارے فیصلہ کے مطابق ان کا قاتل وہی ہے۔ جس نے قتل کا حکم دیا تھا۔

 نوٹ:  عبارت بالا میں صاحب روضۃ الصفاء نے کس ڈھٹائی سے سیدہ عائشہ صدیقہؓ ؓ پر قتل سیدنا عثمانؓ کا الزام لگایا۔ گویا جنگ جمل کی بنیاد سیدہ عائشہؓ بنیں؛ سیدنا عثمانؓ کو کافر، نعثل ایسے بے ہودہ الفاظ کی نسبت مائی صاحبہؓ کی طرف کی گئی۔ اور کمال چالاکی سے شیعہ معتقدات کو جناب عبید بن سلمہ کی زبانی بیان کر کے سیدہ عائشہؓ پر کتنا بڑا بہتان قائم کرنے کی کوشش کی۔

اقتباس نمبر 2:

عمران و ابو الاسود نزد طلحہؓ و زبیرؓ رفتہ ہمیں سوال کردند و از ایشاں ہمیں جواب شنیدند . راز عائشہؓ استماع نموده بودند رسولان گفتند کہ چگونہ با علیؓ مخالفت توانید کرد کہ بعیت او در گردن شما است طلحهؓ و زبیرؓ جواب داد کہ ما از بیم شمشیر مالک اشتر بر بیعت اور قدام نمودیم مشروط با آنکه قاتلان عثمانؓ راسیاست فرماید۔

 (تاریخ روضته الصفاء: جلد 2 صفحہ 479) 

 ترجمہ: عمران اور ابو الاسود جب سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ کے پاس پہنچے تو ان سے آنے کی وجہ پوچھی۔ (ان دونوں نے وہی جواب دیا جو سیدہ عائشہؓ سے پہلے یہ سن چکے تھے ان دونوں نے سیدنا علیؓ کے قاصد ہونے کی حیثیت سے بصرہ کے قریب جا کر مائی صاحبہؓ کا ایک لشکر کے ہمراہ تشریف لانا۔ اس کی وجہ پوچھی تو مائی صاحبہؓ نے جواباً کہا تھا ہم قاتلان سیدنا عثمانؓ کو سزا دینے کے لیے آئے ہیں) اس کے بعد ان دونوں قاصدوں نے سیدنا طلحہؓ و سیدنا زبیرؓ سے پوچھا کہ تم نے جب سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت کر لی ہے تو پھر ان کی مخالفت پر کیوں اُتر آئے ہوئے۔ دونوں نے جواب دیا کہ ہم نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت مالک اشتر کی تلوار کے خوف سے اس شرط پر کی تھی۔

کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ قاتلان سیدنا عثمان غنیؓ کے ساتھ جو سلوک ہونا چاہیے وہ کریں گے اور انہیں مناسب سزا دیں گے۔

صفحہ 1 از 4