روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند

  محمد علی

صفحہ 2 از 4

 نوٹ: اس عبارت میں صاحب روضۃ الصفاء نے سیدنا طلحہؓ و سیدنا زبیرؓ کی بیعت کو مشروط اور ڈر کی بیعت ثابت کیا۔ اس طرح ان کی توہین کا ارتکاب کیا گیا۔ اس بارے میں مروج الذہب جلد 2 صفحہ 392 کا حوالہ یاد دہانی کے قابل ہے۔ جس میں مذکور ہے کہ جنگِ جمل کے دوران جب سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ملاقات سیدنا زبیرؓ سے ہوئی تو انہوں نے انہیں حضورﷺ کا یہ ارشاد یاد دلایا کہ ایک دفعہ سیدنا زبیرؓ تم نے مجھے ازراہ محبت گلے سے لگایا تو حضورﷺ نے فرمایا تھا آج گلے لگا رہے ہو اور کل ان سے جنگ کرو گے حضورﷺ کا یہ ارشاد سنتے ہی سیدنا زبیرؓ نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ اسی طرح سیدنا طلحہؓ وہ شخصیت ہیں۔ جنہوں نے ایک غزوہ میں حضورﷺ کی حفاظت میں ثابت قدمی دکھائی جس کی مثال ملنا مشکل ہے انہیں یہ ثابت کرنا کہ مالک بن اشتر سے ڈر کر سیدنا علیؓ کی بیعت کی تھی۔ کیا شیعیت کا پرچار نہیں؟

اقتباس نمبر 3:

عائشهؓ ام سلمهؓ را در ایں قول تصدیق نموده گفت من ازیں عزیمت تقاعد نمودم کہ ہیچ نستی به از کنج سلامت نیست چوں عبد اللہ زبیرؓ کہ خواهر زاده عائشہؓ بود ازایں معنی آگاه شدبا و گفت کہ اگر تو دریں سفر موافقت نمی نمائی مین خود را ہلاک می سازم و باسرو پائے برہنہ روئے دریا بان می نہم عائشہؓ باوجود مبالغہ ابن زبیرؓ طمس او را مبذول نفرمود عاقبت ارباب مکر و حیله يسمع عائشهؓ رسانید ندکہ عبدالله زبیرؓ بے زاد و راحلہ بجانب بصره رفت اگ تبدارک مهم دے نپردازی غالبا نپر دزاه بلاک خواه شد. و چوں عائشهؓ باو محبتی مفرط داشت ناچار با مخالفان امام زمان موافقت نموده عزیمت بصره نمود.

(روضة الصفاء: جلد دوم صفحہ 479)

 ترجمہ: جب سیدہ عائشہؓ نے بصرہ جانے کا ارادہ کیا۔ تو چاہا کہ سیدہ ام سلمہؓ بھی ساتھ چلیں۔ لیکن سیدہ ام سلمہؓ نے کہا میں تو سیدنا علیؓ کی مخالفت نہیں کروں گی کیونکہ حضورﷺ کی ایک حدیث ہے آپﷺ نے فرمایا تھا کہ میری ایک بیوی باغیوں کے ساتھ ہو گی اور تمام عرب کے کتے اس پر بھونکیں گے اور پھر حضورﷺ نے فرمایا تھا ضرور عائشہؓ ہوگی۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے سیدہ ام سلمہؓ کی اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ میں بصرہ جانے کا ارادہ ملتوی کرتی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ تنہائی میں ایک کونہ کے اندر بیٹھ جانے سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں ہے۔ جب سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ کو سیدہ عائشہؓ کے اس ارادے کا علم ہوا۔ جو سیدہ مائی عائشہؓ کا بھانجا بھی تھا۔ تو اس نے اپنی خالہ سے کہا۔ اگر آپ بصرہ کی طرف سفر کرنے میں میری موافقت نہیں کریں گی تو اپنے آپ کو ہلاک کر دوں گا اور سر پاؤں سے ننگا بیابان کی طرف نکل کھڑا ہو جاؤں گا لیکن اس کے باوجود سیدہ عائشہؓ بصرہ جانے کے لیے آمادہ نہ ہوئیں۔ بالا آخر کچھ چیلہ بازوں اور مکار لوگوں نے سیدہ عائشہؓ تک یہ بات پہنچائی کہ آپ کا بھانجا بغیر سواری اور خرچہ کے بصرہ کی طرف چل نکلا ہے اگر تم نے اس کی بروقت مدد نہ کی تو شائد وہ راستہ میں ہی ہلاک ہو جائے۔ چونکہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو سیدنا عبد اللہؓ کے ساتھ بے پناہ پیار تھا۔ چنانچہ سیدنا زمان علی المرتضٰیؓ کے مخالفین ساتھ بصرہ جانے کا پکا ارادہ کر لیا۔

 نوٹ: سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا بصرہ تشریف لے جانا۔ اس کا سبب یہ بیان کیا گیا کہ ان کی بھانجے کی محبت نے ایسا کرنے پر مجبور کیا اگر مائی صاحبہؓ ایمان و اعتقاد کی اتنی کمزور تھیں کہ رشتہ داری کی ان کی نظر میں زیادہ اہمیت تھی۔ یہ واقعہ صاحب روضته الصفاء نے نہ جانے کہاں سے لیا ہے کسی دوسری کتاب میں اس بےسروپا اور بے سند واقعہ کا تذکرہ نہیں ملتا۔ جس سے صاف ظاہر ہے میر محمد خواند شاہ نے محض سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر اعتراض کی فضاء ہموار کرنے کے لیے اسے گھڑا ہے۔ محبوبہ محبوب رب العالمین کی توہین کون کیا کرتے ہیں؟

اقتباس نمبر 4:

از سیدنا محمد باقر روایت کرده اندکہ چوں سیدنا علی کرم الله وجه رحصن را گرفتہ بجنبانید تمامت حصار چناں بجنبید کہ صفیهؓ دختر حیی از سر تخت بیفتا و روئے او مجروح شد.(روضته الصفاء جلد 2 صفحہ 375)

 ترجمہ: سیدنا باقرؓ سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی المرتضٰیؓ نے قلعہ خیبر کا دروازہ پکڑ کر اسے ہلایا۔ تو قلعہ کی پوری دیوار کانپ اٹھی اور صفیہ دختر حیؓ تخت پر سے نیچے گر گئی اور زخمی ہو گئی۔

 نوٹ: سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شجاعت کا کون منکر ہے۔ وہ اسدالله الغالب ہیں۔ قلعہ خیبر کا دروازہ اکھاڑ پھینکا۔ لیکن جس انداز سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شجاعت اس واقعہ میں بیان کی گئی یہ ان واقعات میں ایک ہے جن کو اہلِ تشیع نے خود گھڑا۔ اہلِ تشیع کے خود ساختہ واقعات کو بڑے شدومد سے نقل کرنے والا آپ جان چکے ہوں گے کون ہے؟

اقتباس نمبر 5

در اعلام الوری مذکور است کہ علیؓ درداد بابوبکرؓ رسید ابوبکرؓ پر یہ کہ اے علیؓ چپ واقعہ شده مگر درشان من چیزے نازل گشتہ علیؓ گفت نہ ولیکن رسول خداﷺ مرا فرمود کہ سوره براۃ از تو بستانم ومن بر مشرکان خوانم ابوبکرؓ از راه برگشتہ بہ نزد رسول اللهﷺ آمد و بعرض رسانید کہ إِنَّكَ استنى لامر طالب الأعْنَاقِ فِيهِ إِلَى فَلَمَّا تَوَجَهُتُ تَرَودنِي عَنْهُ مَالِي أُنْزِلَ فِي القُرْآنُ فَقَالَ النَّبِيﷺ وَالكِن الأمِينَ هَبَطَ إِلَى عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَ لَانه لَا يُؤَدِّي إِليْكَ الا انْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ وَعَلى مِنَي وَهُوَ أَحْى وَوَصِينِي وَ وَارِتي وَخَلِيفَتِي فِي أَهْلِي وَأَمَّتی مِنْ بَعْدِي يَقْضِي دَيْنِي يَنْجُرُ وَالهُدى لَا يُؤدى الأعلي 

 (تاريخ روضة الصفاء: جلد 2 صفحہ 408 تا 409)

صفحہ 2 از 4