روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند

  محمد علی

صفحہ 4 از 4

ترجمہ: روضۃ الصفاء فارسی زبان میں لکھی گئی ہے اور اس کے مصنف کا نام محمد میر خواند بن خاوند شاه یا محمد بن خواند شاہ خوارزمی حسینی ہے۔ جو سیدنا زین العابدینؓ کی نسل میں سے تھا۔ 66 برس کی عمر میں 903ء بمطابق دو ذی العقدہ میں اس نے انتقال کیا۔ اس کی یہ تاریخ چھ جلدوں پر مشتمل ہے ارادہ یہ تھا۔ کہ اسے سات جلدوں میں مکمل کرے گا لیکن ساتویں جلد بیماری کی وجہ سے نہ لکھ سکا یہ جلد اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے غیاث الدین نے لکھ کر مکمل کی۔ مختصر یہ کہ یہ کتاب بارہ اماموں کے حالات بھی بیان کرتی ہے اسی لیے ریاض العلماء میں اس کے مصنف کے شیعہ ہونے کا احتمال بیان کیا گیا ہے یہ کتاب 1271 میں بمبئی میں چھپی مصنف نے اس کا خلاصہ اس خانقاہ میں بیٹھ کر لکھا تھا۔ جو اس کے لیے وزیر امیر علی شیر نے تعمیر کروائی تھی۔ اس کے بیٹے غیاث الدین نے بھی ایک فارسی تاریخ بنام حبیب السیر لکھی اور اس میں اپنے والد کی کتاب روضتہ الصفاء سے استفادہ کیا گیا۔

غیاث الدین کے حکم پر لکھی تھی جو شاہ اسماعیل صفوی کی حکومت 927 کا ایک رکن تھا۔ 

الكنى والالقاب 

 المدير خواند محمد بن خاوند شاه بن محمود المورخ المطلع الماهر صاحب كتاب روضة الصفاء في سيرة الانبياء والملوك والخلفاء توفى سن 903 واخْتَصَرَهُ ابنُه غَيَاتُ الدين خواند میر و سماه حبيب السير في اخبار افَرَادِ الْبَشَرِ قَالَ صَاحِبٌ كَشْفِ الظُّنُونِ وَهِيَ فِي ثَلَاثِ مُجَلَّدَاتٍ عِبَارٍ مِنَ الْكُتُبِ الممتعة المُعْتَبَرَةَ إِلَّا أَنَّهُ أَطَالَ فِي وَصْفِ ابْنِ حَيْدر ای شاه اسماعيل الصفري ابن السلطان حيدر الموسوى كَمَا هُوَ مُقْتَضَى حَالِ عَصْرِهِ وَ هُوَ مَعْذورٌ فِيهِ تَجَاوَزَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَنْهُ -

 ( الكنى والالقاب: جلد 3 صفحہ 220 مطبوعه تهران طبع جدید) 

 ترجمہ: میر خواند محمد بن خاوند شاہ مؤرخ اور ماہر علم تھا۔ روضتہ الصفاء اسی کی تصنیف ہے جو سن 903 میں اس نے لکھی پھر اس نے لکھی پھر اس کے بیٹے غیاث الدین خواند میر نے اس کا حبیب السیر کے نام سے خلاصہ لکھا صاحب کشف الظنون نے کہا کہ اس کی تین جلدیں ہیں اور اس کا بہت نافع اور معتبر کتابوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہاں اس نے اس کتاب میں ابن حیدر یعنی شاہ اسماعیل صفوی ابن سلطان حیدر موسوی کی بہت تعریف کی لیکن یہ اس دور کا تقاضا تھا اس لیے اللہ سے دعا ہے کہ وہ اسے معاف کر دے۔

 نوٹ:  شاہ اسماعیل صفوی کے ایک خاص درباری حبیب اللہ کے ایماء پر صاحب روضته الصفاء کے بیٹے حیات الدین نے حبیب السیر نامی خلاصہ تالیف کیا جس کے بارے میں ہم گزشتہ صفحات میں تحقیق پیش کر چکے ہیں کہ یہ کتاب اہلِ تشیع کی ہے یہی وجہ ہے کہ الذریعہ میں اسے اور اس کی اصل یعنی روضتہ الصفاء دونوں کو اپنے مسلک کی کتب کے طور پر متعارف کرایا اور مزید یہ کہ اس کتاب میں جس شخص کی بے مہبا تعریف کی گئی وہ یعنی ابن حیدر موسوی ایسا شخص ہے جس نے شیعیت کا اپنے دور میں بہت پرچار کیا کیونکہ وہ خود امامی شیعہ تھا اس بارے میں حوالہ ملاحظہ ہو۔

 الكنى والالقاب:

 صفی الدین اردبیلی توفى سن 735 في اردبيل وَدُفَنِ بِهَا وَدُفِنَ عِنْدَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ مِنْ أَوْلَادِه وَ احْفَادِه کالشَّيْخِ صَدْر الدِّين والشيخ جنيد والسلطان حيدر وابنه الشاه اسماعيل. ينسب إلَيْهِ السَّلاطِينُ الصفوية الَّذِينَ اهْتَمُوا بنشر اعلام الدين وترويج شِيْعَةِ امير المؤمنین علیہ السلام اوَلَهُم الشَّاهُ إِسْمَاعِيل - الاول ابن السلطان حیدر ۔  

(الكنى والالقاب: جلد 2 صفحہ 424)

ترجمہ: صفی الدین اردبیلی 357 سن میں فوت ہوا۔ اردبیل میں ہی دفنایا گیا اور اس کے ساتھ اس کی اولاد اور خدام کثیر تعداد میں مدفون ہیں۔ جیسا کہ شیخ صدر الدین، شیخ جنید اور سلطان حیدر اور اس کا بیٹا شاہ اسماعیل۔ اسی صفی الدین کی طرف صفوی بادشاہ منسوب ہیں ہی وہ بادشاہ ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے دور میں دین شیعہ کی تبلیغ و نشرِ اشاعت کا اہتمام کیا۔ ان میں سے سب سے پہلا سلطان حیدر کا بیٹا شاہ اسماعیل ہے۔ 

 لمحہ فكريہ:

جس طرح صاحب روضۃ الصفاء اپنی تحریرات کے آئینے میں امامی شیعہ ثابت ہوا تھا اسی طرح کتب شیعہ جو صرف شیعہ مصنفین اور مؤرخین وغیرہ کی تاریخ بیان کرتی ہیں اُن سے بھی یہی ثابت ہوا کہ یہ شیعہ ہے اور اس نے ان بادشاہوں کے دور میں اس کتاب کی تصنیف و تالیف کی جس میں شیعیت کا سرکاری طور پر پرچار ہوتا تھا۔

ان حالات و واقعات کی روشنی میں کوئی عقل سے عاری ہی اسے سنی اور اس کی کتاب کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہہ سکتا ہے۔ شیعہ ہونے کی وجہ سے اس کی تحریرات ہم اہلِ سنت پر حجت ہرگز ہرگز نہیں بن سکتیں، غلام حسین نجفی وغیره نے خواہ مخواہ بیچارے کے مرنے کے بعد سنی کہہ دیا ۔ اور اپنا الو سیدھا کرنے کی حماقت کی لیکن فراڈ اور فریب پر قائم عمارت تحقیق کی ایک ضرب کی برداشت نہ کر سکی اور دھڑام سے زمین بوس ہو گئی۔ 

(فاعتبروا یا اولی الابصار)


صفحہ 4 از 4