دین اور اس کے اصول و مبادی کی حفاظت
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ دین اسلام کے صحیح اصول و مصادر، یعنی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس کا نزول ہوا تھا اسی شکل میں اس کی حفاظت کے لیے بہت حریص تھے۔ سنت رسولﷺ کے احیاء و عمل، بدعات کے خاتمے اور دین الہٰی کے احترام و تقدس کو زندہ رکھنے کے لیے پوری محنت کرتے تھے۔ چنانچہ ایک آدمی جو متشابہات قرآن سے متعلق کافی شکوک و شبہات پیدا کرتا تھا آپؓ نے اسے جلا وطن کر دینے کا حکم دیا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 68)
جیسا کہ یہ واقعہ تفصیل سے گزر چکا ہے۔
اصول شریعت کی حفاظت کرتے ہوئے آپؓ نے رمضان میں باجماعت تراویح کی نماز پڑھنے کا عام فرمان پوری اسلامی سلطنت میں جاری کر دیا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 68) ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تمہارے یہاں کچھ لوگ ’’یا آل ضبہ‘‘ یعنی ’’ضبہ‘‘ کی دہائی دے کر جاہلیت کی پکار پکارتے ہیں، لہٰذا جب تم کو میرا یہ خط ملے تو انہیں سخت ترین مالی اور جسمانی سزا دو تاکہ اگر وہ نہ بھی سمجھ سکیں تو کم از کم خوفزدہ ہو کر اس سے باز آ جائیں۔
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 133)