روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی

  محمد علی

صفحہ 1 از 5

روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی

شیعہ مسلک کی تصانیف میں سے روضۃ الشہداء بھی ایک ہے اس کے مصنف کا نام ملاحسین بِن علی واعظ کاشفی ہے۔ اس میں بھی اہلِ سنت ہے اسکا برادران کے مسلک پر گھناؤنے انداز میں اعتراض کیے گئے۔ غلام حسین نے بھی دیرینہ مکاری سے کام لیتے ہوئے اسے بھی اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہا اور پھر اس کتاب کے ذریعہ اہلِ سنت پر کافی اعتراضات کیے۔ حوالہ کے لیے نجفی کی کتاب قول مقبول کا اقتباس پیش خدمت ہے۔ 

قول مقبول: سیدنا علیؓ کا نکاح اللہ تعالیٰ نے عرش اعظم پر بھی فرمایا تھا

 روضۃ الشهداء: در کتب خوارزمی در این باب حدیث طویل واقعه شده خلاصه همه آنکه جبریلؑ نزدیک حضرت رسالت مأبﷺ و قدری از تنبل و قرنفل بہشت بیاورد نبی کریم فرمود که جبریلؑ سبب آوردن این قرنفل چیست؟ 

ترجمہ: ایک روز جبریلؑ نبی کریمﷺ کے پاس آئے سنبل اور لونگ بہشت سے لائے نبی کریمﷺ نے پوچھا کہ یہ چیزیں آپ کیوں لائے ہیں؟ جبریلؑ نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ نے بہشت کو آرائش اور زیبائش کا حکم دیا ہے اور درخت طوبیٰ کو بھی اور حورانِ جنت کو بھی طرح طرح کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہونے کا حکم دیا ہے اور فرشتوں کو فرمایا ہے کہ وہ بیت المعمور کے اطراف میں جمع ہوں اور وہاں نور کا ایک منبر ہے۔ جس پر حضرت آدمؑ نے پیدائش کے بعد فرشتوں کے سامنے خطبہ پڑھا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جبریلؑ فرشتے کو حکم دیا ہے کہ وہ اس منبر پر جا کر خطبہ پڑھے اور اس سے زیادہ میٹھی آواز والا فرشتوں میں سے اور کوئی بھی نہیں۔ پس جبریلؑ نے میٹھی آواز سے اللہ کی حمد و ثناء کا اس شان سے خطبہ پڑھا۔ کہ تمام اہلِ آسمان خوشی سے جھومنے لگے۔ پھر جبریلؑ کو حکم ہوا کہ میرے حبیبﷺ کی بیٹی، سیدہ فاطمہ کا سیدنا علی کے ساتھ نکاح پڑھائیں۔ جبریلؑ نے نکاح پڑھایا فرشتے گواہ بنے اور دیوانِ قضا کے کلرک اس نکاح کے کاتب بنے پھر جبریلؑ نے ایک ٹکڑا ریشم کا جناب رسالت مآبﷺ کو دکھایا اور عرض کی نکاح کی پوری روئیداد اس میں تحریر ہے اور میں حکمِ پروردگار سے آپ کو دکھاتا ہوں اور میں نے اس پر کستوری کی مہر لگائی ہے اور میں نے تحریرِ رضوان خادم بہشت کے سپرد کر دی ہے۔

(اہلِ سنت کی معتبر کتاب روضتہ الشہدا: صفحہ 129 باب چہارم)

(قولِ مقبول في اثبات وحدة بنت الرسول تصنیف غلام حسین نجفی صفحہ 115 تا 118)

جواب: روضتہ الشہداء کے حوالہ مذکورہ سے غلام حسین نجفی نے جہاں اہلِ بیت کے بارے غلو سے کام لیا۔ وہاں اس نے یہ بھی خرافات کہیں، دیکھو سیدہ فاطمہ کے علاوہ اگر رسول کریمﷺ کی حقیقی بیٹی اور بھی ہوتی تو ان کے نکاح بھی اسی شان و شوکت سے ہوتے۔

لہٰذا سنیوں نے سیدہ ام کلثومؓ اور سیدہ رقیہؓ نامی جن دو لڑکیوں کا ذکر کیا اور جن کی یکے بعد دیگرے سیدنا عثمانؓ سے شادی ہوئی وہ حضورﷺ کی حقیقی بیٹیاں ہرگز نہ تھیں۔ دیکھو اگر یہ بھی سگی بیٹیاں ہوتیں تو روضتہ الشہداء میں ان کے بارے میں بھی مذکور ہوتا کہ ان کا نکاح بھی آسمانوں پر ہوا اور جبریلؑ فرشتے نے پڑھا وغیرہ وغیرہ حالانکہ روضتہ الشہداء اہلِ سنت کی معتبر کتاب ہے تو جب اس معتبر سنی کتاب میں ان کا تذکرہ اس انداز سے نہیں تو معلوم ہوا کہ سنی بھی ان دونوں کو حضورﷺ کی حقیقی بیٹیاں تسلیم نہیں کرتے آئیے ذرا غلام حسین نجفی کی اس مکاری کی بھی خبر لیں اور تحقیق پیش کریں کہ روضتہ الشہداء کس کی کتاب ہے اور اس کے مصنف کا مسلک کیا تھا؟

صاحب روضتہ الشہداء ملا حسین کاشفی شیعہ ہے۔

شیعہ علماء کا فیصلہ:

الذريعة: روضة الشهداء فارسي ملمع للمولى الواعظ الحسين بن على الكاشفى البيهقى المتوفى 910 حدود او مرتب عَلَى عَشْرَةِ ابْوَابِ وَخَاتِمَةٍ فِيهَا ذِكر او لا والشَّبْطَيْنِ وَجُمْلَةٍ مِّنَ السَّادَاتِ.(وقد طبع روضة الشهداء في لاهور، 1287 وبمبي 1331 و طهران1333.)

(الذريعة الىٰ تصانيف الشيعه: جلد 11 صفحہ 294 تا 295)

ترجمہ: روضتہ الشہداء فارسی میں ہے اور اس کے مصنف کا نام حسین بن علی کاشفی واعظ ہے۔ جس کا 910 میں انتقال ہوا۔ یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے اور ایک خاتمہ بھی۔ ان میں حسن و حسین کی اولاد اور دیگر سادات کا تذکرہ ہے۔ یہ کتاب لاہور میں 1282 بمبئی میں 1331 اور تہران میں 1333 میں چھپی۔

توضيح: جیسا کہ بارہا ذکر کیا جا چکا ہے کہ الذریعہ نامی شیعہ تصنیف کا مقصد تالیف ہی تھا کہ تمام شیعہ مصنفین کی کتابوں کو یکجا جمع کر دیا جائے اور ان کے مصنفین کے حالات و واقعات درج ہوں۔ اس لیے اس میں کسی ایسی کتاب کا تذکرہ ہرگز نہ ملے گا جو اہلِ تشیع کے نظریات و معتقدات پر مشتمل نہ ہو۔ الذریعہ میں جب روضتہ الشہداء کا تذکرہ موجود ہے تو اس سے صاف ظاہر کہ یہ کتاب اہلِ سنت کی نہیں بلکہ اہلِ تشیع کی ہے۔ 

الكنى والالقاب: الكاشفي العالم الفاضل المولى حسين بن على البيهقى السبزواري واعظ جَامِعُ لِلْعُلُومِ الدِّينية مُفَرٌ مُحَدِّثُ مُتَبَحْرُ خَيْرٌ كَانَ زَوج الاولى عبْدِ الرَّحْمَنِ جَاتِي لَهُ مُصَنَّفَاتٌ كَثِيرَةٌ مِنْهَا جَوَاهِرُ التَّفْسِيرِ وَمُخْتَصَرة وروضة الشهداء وَغَيْرُ ذَالِكَ وَمِنْ أَشْعَارِهِ قَصِيدَةٌ فِي مَنَاقِبِ امير المؤمنين عليه السلام مِنْهَا هُذَانِ الْبَيْتَانِ۔

ذریتی سوال خلیل خدا بخواں 

واز لا ینال عہد جوابش لیکن ادا 

گرد و تو را عیان که امامت لائق است 

آنرا که بوده بیشتر عمر در خطا۔

 وَهُذَا يَدُلُّ عَلَى تَشِيعِهِ تُوْفِي بِمَرَاهُ في حدود سنة

910 الكنى والالقاب: جلد سوم صفحہ 105 مطبوعہ تہران طبع جدید

صفحہ 1 از 5