روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی

  محمد علی

صفحہ 2 از 5

ترجمہ: ملا حسین بن علی بیہقی سبزداری الکاشفی بہت بڑا عالم فاضل تھا۔ دینی علوم کا جامع، مفسر محدث اور باخبر عالم تھا۔ مولانا عبد الرحمٰن جامی کا بہنوئی ہے اس کی بہت سی تصانیف ہیں ان میں سے جواہر التفسیر اور اس کا خلاصہ ہے اور روضتہ الشہداء بھی اس کی تصنیف ہے۔ سیدنا علی کے مناقب میں اس نے قصیدہ کہا جس کے دو شعر یہ ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد میں امامت کا سوال کیا تو جواب ملا کہ یہ منصب ظالموں کو نہیں مل سکتا۔ اس سے انہیں معلوم ہو جائے گا کہ منصب امامت ان لوگوں کو نہیں مل سکتا۔ جن کی عمر کا اکثر حصہ اسلام میں نہ گزرا ہو۔ یہ اشعار ملا حسین کاشفی کے شیعہ ہونے کی دلیل ہیں اس کا 910ء میں بمقام ہرات انتقال ہوا۔ 

لمحہ فكریہ: الذریعہ اور الکنی والالقاب کے حوالہ جات کے صاحب روضتہ الشہداء کا شیعہ ہونا ظاہر ہو گیا خصوصاً شیخ عباس قمی نے اس کی شیعیت کی تعریف جس عقیدت اور نظریے پر کی۔ وہ اہلِ تشیع کا متفق علیہ عقیدہ ہے یعنی حضرات آئمہ اہلِ بیتؓ کا معصوم عن الخطاء ہونا اور اس کے ساتھ قرآنی آیات سے حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ کے ضمن میں اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ ظالم اور خطا کار اور کفر کی زندگی گزار مسلمان ہونے والے منصب امامت کے ہرگز لائق نہیں ہو سکتے جس کا مطلب یہ ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت برحق نہ تھی کیونکہ اہلِ تشیع کے نزدیک ان کا قبل از اسلام زمانہ بت پرستی میں گزرا۔ اگرچہ ان کا یہ کہنا غلط ہے لیکن ان کے نزدیک جب ان تین خلفاء کا زمانہ قبل از اسلام شرک و بت پرستی میں کا دور تھا تو ایمان لانے کے بعد یہ معصوم ہرگز نہ ہوئے اور امام بنصِ قرآنی معصوم ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ تینوں حضرات منصبِ امامت پر زبردستی متمکن رہے اور انہوں نے حضرت علیؓ کا حقِ خلافت و امامت غصب کر رکھا تھا۔ اس عقیدہ کی بنا پر جو صاحب روضتہ الشہداء کے اشعار سے ظاہر ہے اہلِ تشیع کے ایک بڑے جگادری نے اس کی شیعیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ ان تصریحات و شواہد کے ہوتے ہوئے نجفی حجتی وغیرہ کا اسے سنی اور اس کی تالیف روضتہ الشہداء کو "اہلِ سنت کی معتبر کتاب" کے عنوان سے پیش کرنا کس قدر فریب ہے۔ دراصل نجفی نے شیعہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یہاں تک قسم اٹھا رکھی ہے کہ میں تمہارے عقائد کو ثابت کر کے چھوڑوں گا۔ چاہے مجھے بےایمان ہی کیوں نہ بننا پڑے اور چاہے مجھے اگلے بڑوں کو کتا اور خنزیر ہی کیوں نہ کہنا پڑے۔ کیونکہ شیعہ مسلک میں سنی معاذاللہ کتے اور سور سے بھی برا ہوتا ہے اور آپ نے اس سے پہلے معتبر کتب شیعہ کے شواہد سے بھی پڑھ لیا ہے کہ لال حسین کاشفی شیعہ ہے اور شیعہ علماء نے اسے تسلیم کیا ہے کہ ہمارا پکا شیعہ اور مستند عالم ہے اسی لیے بڑے بڑے علماء شیعہ نے صاحب ناسخ التواریخ علماء نے اس کی کتاب شواہد النبوہ کو مسند سمجھتے کے اس حوالہ جات دیے لہٰذا یاد ہے کہ روضتہ الشہداء کا مصنف ملا حسین کاشفی وہ شخص ہے جو واقعہ کربلا کے متعلق من گھڑت واقعات و روایات لکھنے والا پہلا مصنف ہے بعد میں جس قدر شیعہ سنی کتب میں رونے رلانے والے واقعات اور واقعہ کربلا کو رنگین بنانے کے لیے جو روایات موجود ہیں۔ ان سب نے اسے کاشفی سے نقل کیں جہاں تک اس کے شیعہ ہونے کا معاملہ ہے وہ تو ہم نے شیعوں کی ان مستند کتابوں سے ثابت کر دیا ہے۔ جن کا موضوع ہی یہ تھا کہ کون کون سے مصنف شیعہ ہیں ان کی کون کون سی کتابیں ہیں۔ امام مسلم کے بچوں کا واقعہ جب صاحب ناسخ التواریخ شیعہ نے لکھا تو اس بات کا صاف اقرار کیا کہ یہ واقعہ روضتہ الشہداء کے علاوہ کسی اور مستند کتاب میں مجھے نہ ملا۔ میں اسے اسی کتاب سے نقل کر رہا ہوں اسی طرح دور حاضر کے ایک سنی مصنف مفتی حبیب اللہ سیالکوٹی نے "فاطمہ کا لال" نامی اپنی تصنیف میں بعض جگہ "روضتہ الشہداء" کا حوالہ دیا ہے کاشفی کے شیعہ ہونے کے بعد اب ہم اس کی کتاب روضتہ الشہداء سے اس کے کذاب ہونے اور غم اہلِ بیتؓ کے بارے میں واقعات و روایات میں چند من گھڑت واقعات کو نقل کر رہے ہیں تاکہ قارئین کرام یہ جان سکیں کہ یہ مصنف کیسا تھا۔ 

نوٹ: روضتہ الشہداء اصل فارسی بھی اگرچہ ہمارے پاس ہے۔ اور اس کی اصل عبارت بمعہ ترجمہ نقل کی جاسکتی تھی لیکن ہم نے اس کا صرف وہی ترجمہ پیش کیا ہے جو صائم نعت خواں نے کیا ہے۔ یہ اس لیے مناسب سمجھا کہ ملا حسین کاشفی اور صائم نعت خواں دونوں ایک ہی مسلک کے پیرو ہیں۔ اس سے دونوں کا مسلک بھی معلوم ہو جائے گا اور ہم اپنی بات بھی کر سکیں گے اور طوالت سے بھی بچ جائیں گے۔ لہٰذا درج ذیل روضتہ الشہداء کی فوٹو کاپی کی جارہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ 

غم اہلِ بیت کی ایک تصویر

واقعہ اول: روضتہ الشهداء فارسی باب ہشتم صفحہ 203 روضته الشهداء مترجم جلد دوم صفحہ 46 پر یوں موجود ہے کہ عبد اللہ بن مبارک نے اہلِ بیت کی مظلومی و محرومی اور مجبوری کا واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ ایک وقت میں حرم کی حاضری کیلئے توکل بخدا اکیلا ہی صحرا میں جا رہا تھا کہ اچانک میں نے بارہ تیرہ سال کی عمر کے ایک شہزادے کو دیکھا کہ وہ تنہا اور پیادہ چلا جار رہا ہے اس شہزادہ کے گیسو سیاہ اور چہرہ چاند کی طرح تھا۔ میں نے کہا! سبحان اللہ اس صحرا میں یہ کون شخص ہے۔ 

ایں کیست ایں، ایں کیست ایں، این یوسف ثانیست ایں!

یا نور با نیست ایں یا فیض سبحا نیست ایں! 

این کند، و رحمت رانگر در ساحت ایں بادیه 

خضر است والیاس میں مکر یا آب حیوانیست ایں!

میں نے آگے بڑھ کر سلام عرض کیا تو انہوں نے جواب عطا فرمایا۔

میں نے پوچھا! آپ کون ہیں؟

فرمایا: میں عبداللہ یعنی خدا کا بندہ ہوں۔ 

میں نے کہا! آپ کہاں سے آئے ہیں؟

فرمایا! من اللہ یعنی اللہ کی طرف سے آیا ہوں

میں نے کہا! آپ کو کہاں جانا ہے؟

فرمایا! الی اللہ یعنی خدا کی صرف جانا ہے

میں نے کہا! آپ کیا چاہتے ہیں؟ 

فرمایا! رضا اللہ، یعنی میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتا ہوں۔

میں نے کہا! آپ کا زادِ راہ اور سواری کہاں ہے؟ 

فرمایا! میرا زادِ راہ توشۂ تقویٰ ہے، اور میری سواری میرے دونوں پاؤں ہیں۔

میں نے کہا! یہ خونخوار بیابان ہے، اور آپ نوسیدہ اور چھوٹی عمر کے ہیں، آپ کیا کریں گے؟

صفحہ 2 از 5