روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی

  محمد علی

صفحہ 3 از 5

فرمایا! تو نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو کسی کی زیارت کی طرف متوجہ ہوا اور وہ شخص اسے بےبہرہ اور محروم کر دے۔

میں نے کہا! اگرچہ آپ کی عمر چھوٹی ہے، مگر بات بہت بڑی کی ہے۔ آپ کا نام کیا ہے۔؟

فرمایا! اے ابن مبارک مصیبت زدگانِ روز گاری کی پوچھتے ہو، اور نام سے کیا نشان تلاش کرو گے؟

صنم ور غمش بید لے ناتوانے 

نہ اِسمے نہ رسمے نہ جسمے نہ جانے 

ضعیفے، نحیفے، غمش را حریفے 

بصورت حفیفے بمعنے گرانے۔

میں نے کہا! اگر آپ نام نہیں بتانا چاہتے تو خدا کے لئے یہی بتا دیں کہ آپ کس قوم اور قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں؟ 

انہوں نے دل پر درد سرد آہ کھینچی اور فرمایا: نحن قوم مظلوم ہم ستم رسیدہ لوگ ہیں۔

نَحْنُ قَوْم مطروبین  یعنی ہم بے وطن اور غریب الدیار قوم سے ہیں، 

نحن قَوْم مَقْهُورُون، یعنی ہم اس قوم سے ہیں جس پر قہر و غضب توڑا گیا۔ 

میں نے کہا، میں کچھ نہیں جان سکا، آپ اپنے بیان میں اضافہ فرمائیں۔ انہوں نے چند شعر پڑھے، جن کا مضمون یہ ہے، 

ہم آنے والوں کو حوض کوثر سے پانی پلانے والے ہیں۔ 

نجات پانے والا شخص ہمارے وسیلہ کے بغیر مراد کو نہیں پہنچے گا، جو شخص ہم سے دوستی رکھے گا ہرگز بےبہرہ نہیں رہے گا، اور جو ہمارا حق غصب کرے گا ہم قیامت کے دن ہمارے لئے اور اس کے لئے محکمہ جزاء کی وعدہ گاہ ہو گی انہوں نے یہ بات کی اور میری نگاہوں سے غائب ہو گئے، میں نے بہت تاسف کیا کہ میں انہیں نہ جان سکا کہ وہ کون تھے۔

جب میں مکہ معظمہ میں پہنچا تو ایک دن طواف میں لوگوں کا ایک گروہ دیکھا جس نے ایک شخص کو حلقے میں لے رکھا تھا، اور بہت سے لوگ اس کے قدموں میں کھڑے تھے، میں جب اُن کے سامنے ہوا تو دیکھا کہ یہ وہی صاحبزادے ہیں اور لوگ ان کے ارد گرد جمع ہو کر حلال و حرام کے مسائل اور قرآن وحدیث کے حقائق پوچھ رہے ہیں، اور وہ زبانِ فصیح اور بیانِ ملیح سے اُن کی مشکلات کی گرہیں کھول رہے ہیں، میں نے کہا یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا افسوس ہے تو انہیں نہیں جانتا، یہ وہ ہیں جنہیں وادی مکہ کے سنگریزے بھی پہچانتے ہیں یہ آل عبائے آدمؑ، شہید کربلا کے قرۃ العین، علی بن حسین سیدنا زین العابدین ہیں عبد اللہ بن مبارک نے یہ بات سنی تو آگے بڑھ کر امام عالی مقام کے مبارک ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا۔ اور روتے ہوئے کہا، اے رسول اللہ کے بیٹے آپ نے مظلومی و مقہوری اور اہلِ بیت کی مہجوری کے بارے میں جو فرمایا ہے وہ درست ہے اس امت میں کسی جماعت کو وہ مصیبت نہیں پہنچی جو حضور رسالت مآبﷺ کی اہلِ بیت کو پہنچی ہے، ہر رات اور دن کو رنج و تعب ان کے قریب ہوتے اور ہر دم کے ساتھ وہ درد و الم کے ہم نشین ہوتے اگر قبا پہنتے تو اسمیں قہر کا بخیہ ہوتا اگر لقمہ کھاتے تو اس میں مصیبتوں کا زہر ہوتا۔

عبداللہ بن مبارک کی سیدنا زین العابدین سے ملاقات اور پھر غم کی تصویر

قارئین کرام! اپنے مذکورہ واقعہ پڑھا جس کا تانا بانا اس پر رکھا گیا کہ سیدنا عبد اللہ بن مبارکؒ اور سیدنا زین العابدینؒ کی کسی جنگل میں ملاقات ہوئی اس وقت سیدنا زین العابدینؒ کی عمر بارہ تیرہ سال کے لگ بھگ تھی عبداللہ بن مبارکؒ نے ہر طریقے سے معلوم کرنا چاہا۔ کہ یہ لڑکا کون ہے لیکن اس کی مظلومیت کے سوا اور کچھ نہ جان سکے اور اس کی مظلومیت نے آپ کو حیران پریشان کر دیا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ جن کی مظلومیت پر عبداللہ بن مبارکؒ ایسے شخص پریشان ہو گئے۔ اُن کی مظلومیت پر آنسو بہانا اور غم و پریشانی کا اظہار ایک مستحسن امر ہے اور اہلِ بیتؓ سے محبت کی ایک علامت ہے۔

اس واقعہ سے ہٹ کر ہم اہلِ سنت سیدنا عالی مقام اور خاندانِ اہلِ بیتؓ سے محبت کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر سیدنا عالی مقام کے مبارک قدموں سے لگی مٹی آنکھوں میں ڈالنے کا موقعہ میسر آ جائے۔ تو یہ ہمارے لیے باعث فخر ہو گا۔ اور رسول کریمﷺ کے سینہ اقدس پر چڑھنے والی شخصیت کی طرف منسوب کوئی چیز مل جائے۔ تو اسے حرزِ جان و ایمان سمجھتے ہوئے قبر میں اپنے ساتھ لے جائیں۔ خارجیوں کی طرح ہم دشمنان اہلبیتؓ نہیں ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ حضورﷺ کے ارشاد پاک کے مطابق اگر کوئی غلط بات آپ کی طرف منسوب کرتا ہے، تو وہ جہنمی ہے۔ فقیر اپنی تصنیف فقہ جعفریہ جلد سوم میں شیعوں کے ایک بہت بڑے عالم شیخ عباس قمی کی عبارت نقل کر چکا ہے۔ کہا کہ مجالس حسین میں اکثر جھوٹے واقعات و روایات بیان )، جاتی ہیں۔ ان بابرکت محافل میں جھوٹ کا واقعہ بیان کرنا اپنی حقیقی ماں سے ستر بار زنا کرنے سے بدتر ہے۔

اب آیے ملاحسین کاشفی کے ذکر کردہ واقعہ کی طرف کہ اس میں کتنی صداقت ہے؟

کیا عبداللہ بن مبارکؒ اور سیدنا زین العابدینؒ کی ملاقات ہوئی؟

شیعہ سنی دونوں کی طرف کتب اس بات کی شاہد ہیں کہ سیدنا زین العابدینؒ کی ولادت 38ھ اور وصال 95ھ میں ہوا۔ اور حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کی پیدائش 118ھ میں اور انتقال 181ھ میں ہوا۔ سیدنا زین العابدینؒ کی کل عمر ستاون برس ہوئی۔ دونوں حضرات کی پیدائش و وصال شیعہ سنی دونوں طرف کی کتب متداول مشہورہ سے ملاحظہ فرمائیں۔

الكنى والالقاب:ابن المباركؒ البو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك المروزي العالم التاج العارف المحدث مولود و بمبر و 118ھ وفات 181ھ۔

(الکنی و الالقاب: جلد اول صفحہ 400 تذکره ابن المبارک)

ترجمہ: عبد الرحمٰن عبد الله بن مبارک مروزی بہت بڑے عالم، زاہد اور محدث تھے۔ ان کی پیدائش مقام مرد میں 118ھ میں اور ان کا وصال 181ھ میں مقام بہیت ہوا۔

تاریخ الائمه: آپ حضرت سید الشہداء حسین کے صاحبزادے اور شیعوں کے چوتھے امام ہیں۔ بنا بر قول جناب شیخ مفید وشیخ طوسی رحمۃاللہ 15 جمادی الاولی 38ھ کو مدینہ میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی۔

دو سال چند ماہ تک جد بزرگوار امیر المؤمنین کی آغوش عاطفت میں پرورش پائی۔ پھر پانچ ہجری تک مکہ معظمہ اور بزرگوار کے ہمراہ 10 محرم 61 ہجری تک محض والد ماجد کے ساتھ رہے اور واقعہ کربلا کے بعد خاندان رسالت کے سردار اور شیعوں کی ظاہری امام قرار پائے۔ 34 سال مشغول ہدایت دار شاد ناس رہ کر 25 محرم 95 ہجری اور 714 عیسوی طرف عالم جادوانی کے رحلت فرمائی۔

صفحہ 3 از 5