روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی

  محمد علی

صفحہ 4 از 5

(تاریخ الائمہ: باب چہارم صفحہ 282 حالات سیدنا زین العابدینؓ۔) 

کشف الغمہ فی معروفۃ الائمہ: فَأَمَّا وَلَادَتُهُ فَيا المدينة في الْخَمِيسِ الْخَامِسِ مِنْ شَعْبَانَ سَنَة ثَمَانٍ وَثَلَا ثِيْنَ وَأَمَّا عُمْرُهُ فَإِنَّهُ مَاتَ فِي نَامِنِ عَشَرَةَ المُعزم مِن سَنَةٍ أَرْبَعَ وَتِسْعِينَ وَقِيلَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرَ وَلَا دَتِهِ فِي سَنَتِهِ ثَمَانٍ وَ ثَلَا ثِيْنَ فَيَكُونُ عمره سَبْعَ وَخَمسُونَ سَنَةً

(كشف الغمه في معروفة الائمة: جلد 2 صفحہ نمبر 73 ذكرالامام الرابع البو الحسن علي بن حسين مطبوعه (تبریز)

ترجمہ: سیدنا زین العابدین کی ولادت مدینہ منورہ جمعرات پانچ شعبان المعظم 38 ہجری کو ہوئی اپ نے چونکہ آٹھویں محرم 94 ہجری یا 95 ہجری میں وصال فرمایا اس لیے اپ کی عمر 57 برس ہوئی۔

البدایۃ والنہایہ:وَقَدْ اخْتَلَفَ أَهْلُ التَّارِيخ في السَّنَّةِ توفي فِيمَا عَلِيُّ ابْنُ الْحُسَيْنِ زَيْنَ الْعَابِدِينَ،فَالْمَشْهُورُ عَنِ الْجَمْهُورِ أَنَّهُ تُونِي فِي هذه السنة اعُنِي سَنَةً أَرْبَعَ وَتِسْمِينَ فِي أَوْ لِمَاعَهُ تَمَانَ وَخَمْسِينَ سنة وصلى عليه بالبقيع و دفن به.

(البداية والنهاية: جلد 2 ما ذكر علی بن حسین مطبوعه بيروت)۔

ترجمہ: مؤرخین کا اختلاف ہے کہ سیدنا زین العابدین کس سال فوت ہوئے جمہور سے مشہور یہ ہے کہ آپ نے 94 ہجری میں انتقال فرمایا اس طرح آپ کی کل عمر 58 برس ہوئی نمازِ جنازہ جنت البقیع میں ادا کی گئی اور وہیں دفنائے گئے۔

تذكرة الحفاظ: عبد الله بن المباركؒ بن واضح الامام الحفاظ العلامة شيخ الاسلام وفخر المجاهدين قدوة الزاهدين.. و لد سنة ثماني عشرة و و مات ابن المبارك بهیت في رمضان سنة احدى وثمانين وما بحمۃ اللّٰہ علیہ

(تذكرة الحفاظ: جلد 1 صفحہ 256 تذكرة عبد الله بن المبارك)

ترجمہ: عبداللہ بن مبارک بہت بڑے امام حافظ اور علامہ ہونے کے علاوہ شیخ الاسلام، فخر المجاہدین اور قدوة الزاہدین تھے۔ آپ ایک سو اٹھارہ ہجری میں پیدا ہوئے اور مقام بہیت پر رمضان شریف 181 ہجری میں انتقال فرمایا۔ 

قارئینِ کرام دونوں طرف کی کتب سے آپ نے سیدنا زین العابدینؒ اور عبداللہ بن مبارکؒ کی تاریخِ ولادت و انتقال ملاحظہ فرمائی۔ سیدنا زین العابدینؒ کی وفات میں ایک سال کا اختلاف ہے کہ وہ 94 ہجری میں یا 95 ہجری میں ہوئی ہم 95 ہجری میں تسلیم کر لیتے ہیں لیکن حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کے بارے میں ولادت و انتقال کا کوئی اختلاف نہیں ہے اب دونوں حضرات کے دونوں تاریخوں کا مواز نہ کریں۔۔

سیدنا زین العابدینؒ کی ولادت 38 ہجری، عبد الله بن المبارکؒ کی ولادت 118 ہجری سیدنا زین العابدینؒ کی وفات 95 ہجری، عبدالله بن المبارکؒ کی وفات 181 ہجری۔ گویا سیدنا زین العابدینؒ کے وصال کے 23 سال بعد عبداللہ بن مبارکؒ کی پیدائش ہوتی ہے اور جب سیدنا زین العابدینؒ کی عمر شریف بارہ تیرہ برس ہو گی تو اس وقت ابھی عبداللہ بن مبارکؒ کی پیدائش کو 68 سال پڑے تھے۔ لہٰذا 68 سال بعد میں پیدا ہونے والا بوڑھا نظر آ رہا ہے اور 68 سال پہلے پیدا ہونے والا تیرہ سال کا لڑکا نظر آرہا ہے۔ اب آپ حضرات نے بخوبی جان لیا ہوگا کہ واقعہ مذکورہ کی کیا حقیقت ہے عبداللہ بن مبارکؒ" امیر المؤمنین فی الحدیث" کے بارے میں یہ سب واقعہ کھڑا کر کے ایک تاریخی جھوٹ بن گیا اس واقعہ کو رنگینی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور غمِ اہلِ بیتؓ سے لوگوں کو گرما کر آنسو بہائے جاتے ہیں کس قدر یہ فریب ہے؟ اور افسوس ان سنّیوں پر ہے جو ایسی انہونی باتوں کو اپنی کتابوں میں نقل کرتے ہیں اور ان واضعین پرحیف جو مزے لے لے کر یہ جھوٹ بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سچ اور جھوٹ کے مابین امتیاز کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

واقعه دوم:

سیدنا حسینؓ کی چار سالہ بچی کا غم اور الم کی حالت میں دربار یزید میں وفات پانا:

(روضة الشهرار فارسی: صفحہ 367 مطبوعہ نولکشور لکھنو  روضته الشهداء مترجم 437)

 شہزادیِ حسینؓ کا وصال:

کنز الفرایب میں روایت آئی ہے کہ یزید نے اہلِ بیت کو محل کے اندر جگہ دے رکھی تھی اہلِ بیت کے ساتھ حسین کی ایک سالہ صاحبزادی تھی جس کے ساتھ آپ بہت زیادہ محبت فرماتے اور وہ بھی اپنے بابا جان سے انتہائی محبت کرتی تھیں جب آپ کے ابا جان شہید ہو گئے تو آپ پوچھا کرتیں میرے بابا کہاں ہیں؟

اہلِ بیت انہیں کہا کرتے ہیں وہ ایک جگہ تشریف لے گئے علاوہ ازیں انہیں مختلف طریقوں سے تسلی دیا کرتے تھے۔

انہیں اپنے ابا جان کا بے حد شوق تھا ان دنوں اہلِ بیت یزید کے محل میں قیام پذیر تھے ایک رات اس صاحبزادی نے اپنے باپ کو خواب میں دیکھا کہ آپ نے انہیں گود میں اٹھا رکھا ہے۔ وہ انتہائی مسرت کی وجہ سے بیدار ہوئیں مگر جب ان کو نہ دیکھا تو آپ کا شوق اور بڑھ گیا، در مضطرب ہو کر فریاد و فغاں کرنے لگئیں ان سے پوچھا گیا تو فرمایا میں نے ابھی ابھی خواب میں خود کو اپنے بابا کی آغوش میں بیٹھے ہوئے دیکھا تھا مگر جب آنکھ کھولی تو وہ مجھے نظر نہیں آئے بتائیں میرے بابا کہاں ہیں کیونکہ مجھے میں ان کا فراق برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔

اہلِ بیت کرام ہر چند نے صبر و شکیبائی سے کام سے مار انہوں نے جواب دیا علم انه مرا ناس تعینمان نیست تانت در فراق سب جہانی میست پ با تو می بند با به و بیرت پاس بنا دیں یا آپ یا تو میرے بابا کو میرے پاس بھیج دیں یا مجھے بابا کے پاس بھیج دیں اہلِ بیت نے یہ بات سنی تو ایک دم فریاد و فغاں کرنے لگے ان کی چینخ و پکار کی آواز یزید کی خوابگاہ میں پہنچی تو اس نے ایک شخص کو بھیجا کہ معلوم کر اہلِ بیت کو کیا واقعہ پیش آیا ہے۔

اس شخص نے واپس آ کر یزید کو بتایا کے حسین کی صاحبزادی نے اپنے باپ کو خواب میں دیکھا تو آپ کی زیارت کے لیے بیقرار ہوگئی ہے۔  

یزید نے کہا جا کر اس کے باپ کا سر اسے دکھاؤ شاید اسے کچھ اطمینان حاصل ہو جاۓ۔ 

صفحہ 4 از 5