روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی

  محمد علی

صفحہ 5 از 5

یزید نے حسین کے سر کو اپنے خاص کمرے میں اپنی نگاہوں کے سامنے رکھا ہوا تھا۔ خادمان یزید پلید نے سر مبارک کو چاندی کے تھال میں رکھا اور اوپر ریشمی رومال ڈال کر اہلِ بیت کرام کے پاس لے گئے، اور یزید نے کہا یہ بچی کو دکھا دیں شاید اسے اطمینان حاصل ہو جائے جب بچی کے سامنے تھال رکھا گی تو اس نے پوچھا یہ کیا ہے؟ 

انہوں نے کہا جو کچھ تو طلب کر رہی ہے وہی ہے۔

بچی نے رومال اٹھا کر سر کو دیکھا تو اس سر کو اٹھا کر دیکھنے لگی پھر جب اس نے پہچانا کہ یہ میرے بابا کا سر ہے، تو سینے سے آہ کھینچتے ہوئے اپنے چہرے کو باپ کے چہرے سے ملنے لگی اور آپ کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کہ اسی وقت رحلت فرما گئیں۔

 قارئین کرام! سیدنا حسینؓ کی ایک صاحبزادی جس کی چار سال عمر لکھی گئی اور دربار یزید میں اس کی موت کا جو نقشہ ملا حسین کاشفی نے نے کھینچا آپ نے ملاحظہ فرمایا اس واقعہ کا مقصد محض نوحہ خوانی اور اپنی دوکان چمکانا ہے۔ ورنہ حقیقت کچھ اور ہے ان نام نہاد محبان اہلِ بیت کو ذرا شرم نہیں آتی کہ حضرات ائمہ کرام کے نسب میں کذب بیانی اور بہتان طرازی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تیسری صاحبزادی کہاں سے لے آئے؟ گذشتہ اوراق میں ہم امام عالی مقام کی اولاد امجاد کے بارے میں تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں۔ آپ کی دو صا حبزادیاں تھیں۔ 

1: سیده سکینہ 2: سیدہ فاطمہ صغریٰ دو ہی صاحبزادیوں کے ہونے کی توثیق شیخ مفید، اعلام الوریٰ کے حوالہ سے تاریخ الامر میں صفحہ 280 پر مذکور ہے۔ امام عالی مقام کی پانچ بیویوں سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ ان میں سیدہ فاطمہ بڑی تھیں جن کی شادی سیدنا حسنؓ کے بیٹے سیدنا حسن مثنٰی سے اور سیدہ سکینہ کی شادی سیدنا حسنؓ کے دوسرے بیٹے سیدنا عبد اللہ سے ہوئی تھی۔

واقعہ کربلا کے وقت دونوں شادی شدہ تھیں اور دونوں کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور تیسری صاحبزادی ہوتی تو اس کا ذکر امام عالی مقام کی اولاد میں ہوتا پھر ان کی وصال کے بارے میں گفتگو ہوتی لیکن کہیں اتا پتا نہیں ملتا خود ملا حسین کاشفی یہاں سے چار سالہ تیسری صاحبزادی کا ذکر عجیب مظلومانہ انداز میں کر رہا ہے اور جب خود ہی اسی کتاب کے صفحہ 477 میں امام عالی مقام کی اولاد کا ذکر کرتا ہے تو اس چار سالہ صاحبزادی کا ذکر تک نہ کیا سچ کہتے ہیں "دروغِ گوارا حافظہ نہ باشد" جوٹھے کی یاداشت ختم ہو جاتی ہے صرف دو صاحبزادیاں تھیں ان کے وصال کے بارے میں ملاحظہ ہو۔

منتهى الأمال: و فاطمه درتقوی و کمال و فضائل و جمال نظیر و عدیل نه داشت واو راحورعین می نامند در سال یک صد و هفدهم هجری در مدینه وفات یافت و خواهرش جناب سکینہؓ ہم درآں سال در مدینه برحمت، یزدی پیوست. 

(منتہی الآمال: جلد 1 صفحہ 540 دور بیان اولاد حسین)

 ترجمہ: سیده فاطمہ صغریٰ، نہایت پرہیزگار، صاحب کمال فضائل اور خوبصورتی میں بے مثل تھیں۔ ان کو "حور عین" کہتے تھے 117ہجری کو مدینہ منورہ میں انتقال فرمایا۔ ان کی ہمشیرہ سیدہ سکینہ بھی اسی سال مدینہ منورہ میں اللہ سے جا ملیں۔ 

فَاعْتَبِرُوايَا أُولِي الْأَبْصَار


صفحہ 5 از 5