الملل و النحل مصنفہ محمد بن عبد الکریم شہرستانی - ردِ…

الملل و النحل مصنفہ محمد بن عبد الکریم شہرستانی

  محمد علی

صفحہ 1 از 3

الملل و النحل مصنفہ محمد بن عبد الکریم شہرستانی

محمد بن عبد الکریم شہرستانی صاحب الملل و النحل ایک فلسفی صاحب قلم تھا۔ دین سے اسے کوئی خاص واسطہ نہ تھا اور اسی لیے اسے کوئی بھی قابل اعتبار نہیں کہتا۔ لیکن غلام حسین نجفی نے دیرینہ عادت کے مطابق اس کی مذکورہ کتاب کو بھی اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے طور پر پیش کر کے اہلِ سنت پر الزام تراشی کی صرف ایک نمونہ ملاحظہ ہو۔

سیدنا عمرؓ کے ظلم سے سیدہ فاطمہؓ کے شکم کا بچہ بھی شہید ہوا"

 سهم مسموم: اہلِ سنت کی معتبر کتاب الملل والنحل جلد اول صفحہ 59 ذکر النظامیہ مولف محمدبن عبد الکریم شہرستانی الملل والنحل کی عبارت ملاحظہ ہو:

الملل والنحل: فَقَالَ إِنَّ عُمَرَ ضَرَبَ بَطْنَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلام يَوْمَ الْبَيْعَةِ حَتَّى الْقَتْ المحسن من بَطنِهَا وَكَانَ يَصِيحُ اَخرقوا الدَّارَ بِمَنْ فِيهَا وَمَا كَانَ فِى الدَّارِ غَيْرُ عَليّ وَفاطمة والحسن والحسين

ترجمہ: نظام کہتا ہے کہ روز بیعت نبیﷺ کی بیٹی فاطمہ علیہ السلام کے شکم پر عمر نے دُرّہ مارا حتیٰ کہ سیدہ کا بچہ شہید ہو کر گرا۔ اور نیز عمر چیخ رہے تھے۔کہ اس گھر کو معہ ان لوگوں کے جو اس میں ہیں جلا دو اور گھر میں سوائے علی و فاطمہ اور حسن و حسین کے اور کوئی نہ تھا۔

نوٹ: سیدنا عمرؓ کا سیدہ کے دروازہ پر آگ اور لکڑیاں لے کر آنا اور بی بی کے بچہ کا شہید ہونا ہم نے کتب اہلِ سنت سے ثابت کر دیا ہے۔ لہٰذا شاہ عبد العزیز کا یہ سفید جھوٹ ہے کہ مذکورہ دونوں باتیں کتابوں میں مذکور نہیں ہیں اب آپ خود انصاف کریں۔

 (سہم مسموم فی جواب نکاح سیدہ ام کلثومؓ مصنفہ غلام حسین نجفی شیعی: صفحہ 76، 77)

جواب: کتاب الملل والنحل کے مصنف محمد بن عبد الکریم شہرستانی کا مذہب و مسلک کیا تھا؟ نجفی نے اگرچہ اس کی کتاب کے عنوان سے اس کی صراحت کر دی ہے کہ یہ شخص اہلِ سنت کا معتبر عالم ہے۔ تبھی اس کی کتاب اہلِ سنت کی معتبر کتاب بنی۔ لیکن نجفی نا معتبر کی بات کون تسلیم کرے گا۔ جبکہ اس کے آقائے بزرگ طہرانی علیہ ما علیہ نے اسے "اپنے مصنفین" میں درج کیا ہے۔ حوالہ ملاحظہ ہو:

الذريعة: الملل والنحل لمحمد بن عبد الكريم الشهر ستانی وترجمة الفارسية تنقيح الادلة والعلل المشهود تان

(الذريعة الى تصانيف الشيعه: جلد 22 صفحہ 220 مطبوعه بیروت طبع جدید)

 ترجمہ: محمد بن عبد الکریم شہرستانی کی تصنیف الملل والنحل اور اس کا فارسی ترجمہ تنقیح الادلہ والعلل (مذہب شیعہ کی کتب کے طور پر) مشہور ہیں اگر اس مختصر تصدیق پر دل ٹھنڈا نہ ہوتا ہو، تو ذرا تفصیل سے ملاحظہ ہو:

الكنى والا لقاب: ابو الفتح محمد بن عبد الكريم بن احمد المتكلم الفيلسوف الاشعري صاحِب كتاب الملل والنحل وَهُوَ كِتَابٌ مَشْهُورٌ وَ مِقَافِيْهِ أَنَّ الْإِثْنى عَشْرِيَّةِ الَّذِينَ قَطَعُوا بِمَوْتِ مُوسَىٰ بْنِ جَعْفَرِ الْكَاظِمِ وَ سَمَّوا قَطِعِيَّةً وَسَاقُوا الْإِمَامَةَ بَعْدَهُ فِي أَوْلَادِه فَقَالُوا وَ الْإِمَامُ بَعْدَ مُوسَىٰ عَلِيٌّ الرضا (ع) وَمَشْهَدُهُ بِطُوس ثُمَّ بَعدہ محمد التقى(ع) وَهُوَ فِي مَقَابِرِ قُرَیش ثُمَّ بَعْدَهُ على بن محمد التقى(ع) وَمَشْهَدُهُ بِقُمْ وَبَعْدَهُ الْحَسَنُ الْعَسْكَرِى الزكي وَبَعْدَهُ ابنه م ح م د القائم المنتظر(ع) الَّذِي هُوَ بِسَرُ مَنْ رَائے وَهُوَ الثَّانِي عَشَرَ هُذَا هُوَ طَرِيقُ الاثْنى عَشَرِيَّةً انتهىٰ .

 وَفِيهِ مِنَ الْخَبْطِ وَالْجَهْلِ مَا لَا يَخْفَى قَالَ الحموي في مُعْجَمِ الْبُلْدَانِ فِي حَقِّ هٰذَا الرَّجُلِ مَا هٰذَا الفْظُهُ وَلَوْلَا تَخبَطُ فِي الْاعْتِقَادِ وَ مَيْلَهُ إِلى هٰذَا الْإِلْحَادِ لَكَانَ هُوَ الْإِمَامُ وَكَثِيرًا مَا كُنَّا نَتَعَجَّبُ مِنْ وَفُورِ فَضْلِهِ وَ كَمَالِ عَقْلِهِ كَيْفَ مَالَ إِلَى الشَّي لَا أَصْلَ لَهُ وَاخْتَارَ امْرًا لَا دَلِيلِ عَلَيْهِ لَا مَعْقُولا وَّلَا مَنْقُولًا وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُذْلَانِ وَالْحِرْمَانِ مِنْ نُّورِ الْإِيمَانِ وَلَيْسَ ذَالِكَ إِلَّالاعراضهٖ عَنْ نُوْرِ الشَّرِيعَةِ وَاشْتِغَالِهِ بِظُلُمَاتِ الْفَلسَفةِ

 وَقَدْ كَانَ يُبَيِّنَنَا مُحَاوَرَاتٍ وَمُفَاوَضَاتٍ فَكَانَ يُبَالِغ فِي نَصْرَةِ مَذَاهِبِ الْفَلَ سِفَةِ وَالذَّب عَنْهُمْ وَقَدْ حَضَرَتْ عِدَةَ مَجَالِسَ مِنْ وَعظِهِ فَلَمْ يَكُنْ فِيهَا قَالَ اللهُ وَلَا قَالَ رَسُول اللهﷺ وَلَا جَوَابَ مِنَ المَسائل الشرعية

( الكنى والالقاب: جلد دوم صفحہ 374 حالات الشهرستاني  مطبوعه تهران طبع جدید)

ترجمہ: ابو الفتح محمد بن عبد الكريم بن احمد ایک متکلم فلسفی اور اشعری عالم ہے۔ الملل و النحل کا مصنف ہے جس کی ایک عبارت(کا ترجمہ) یہ ہے اثنا عشری شیعہ وہ بھی ہیں۔ جو موسٰی بن جعفر کاظم کی موت پر یقین رکھتے ہیں انہیں "قطعیہ" کہا جاتا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ موسیٰ بن جعفر کاظم کی وفات کے بعد امامت ان کی اولاد میں چلی آتی ہے۔ چنانچہ ترتیب امامت یوں ہے: موسیٰ بن جعفر کے بعد علی رضا ہوئے جن کی جائے شہادت طوس میں ہے ان کے بعد ان کے بیٹے محمد تقی ہیں جو قریش کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ ان کے بعد ان کے بیٹے علی بن محمد نقی ہیں۔ جن کی شہادت گاہ قم میں ہے ان کے بعد حسن عسکری ان کے بعد ان کے بیٹے محمد القائم المنتظر ہیں۔ جو سرمن رائے میں (چھپے ہوئے) ہیں۔ یہ بارہویں امام ہیں اثنا عشریہ کا ہی طریقہ ہے۔ انتہٰی

صفحہ 1 از 3